Baseerat Online News Portal

مدارس ومساجد انسانیت سازی کے کارخانہ ہیں ۔ ان کے خلاف بیان بازی ناقابل برداشت۔ خالد انور

 

 

پٹنہ ، 9 جون (پریس ریلیز)جے ڈی یو کے سینئر لیڈر ایم ایل سی ڈاکٹر خالد انور نے بانکا ضلع کے ایک مدرسہ میں ہوئےبم بلاسٹ کے واقعہ کو افسوسناک بتاتے ہوئے اس واقعہ کو مذہبی تشدد سے جوڑنے والوں کے تئیں سخت برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایک چھوٹے سے حادثے کو مذہبی منافرت کا رنگ دینا تنگ ذہنیت کی علامت ہے ۔ جے ڈی یو لیڈر ڈاکٹرانور نے کہا کہ بانکا کے مدرسہ میں جو واقعہ رو نماہوا ہےاس کو لےکر بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی نے جو بیان دیا ہےوہ بے حد افسوسناک ہے ۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ بہار کے مدارس اور مساجد میں انسانیت کی تعلیم دی جاتی ہے، انسانیت کو سجانے اور سنوارنے کا کام ہوتا ہے۔ حب الوطنی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ایسا سوچنا کہ مدرسے میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے یہ گھٹیا ذہن کی دلیل ہے ۔اور اس طرح کا الزام لگا کر ایک حادثے کی آڑ میں مساجد اور مدارس کی جانچ کامطالبہ کرنابےحد افسوسناک ہے ، اس کی میں سخت مذمت کرتا ہوں ۔انہوں نےکہا کہ مدارس اور مساجد کے لوگوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ انسانیت کےلئے کام کرتے ہیں ۔ وہ غریبوں اور مفلسوں کو تعلیم دینے کا کام کر تے ہیں۔ بہار میں آج تک کوئی اسطرح کا واقعہ نہیں ہوا ہے، جس طرح کی باتیں آج کی جا رہی ہیں ۔ میں اس طرح کے تمام الزامات کی تردید کرتاہوں ۔ساتھ ہی میں بہار کی عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ ایسے گمراہ کن لوگوں کی باتوں پر توجہ نہ دیں۔رکن قانون ساز کونسل نے کہا کہ بہار میں نتیش کمارکی سرکار ہے اوریہاں کسی قسم کی زیادتی کسی کے خلاف برداشت نہیں کی جائے گی ۔ جہاں تک بانکا کا معاملہ ہے۔جس مکتب میں بلاسٹ ہوا ہے اس کی تحقیقات ہو رہی ہے۔ جو مجرم ہوں گےانہیں ہر حال میں سزادی جائے گی۔ لیکن اس کی آڑ میں کسی کمیونٹی، کسی قوم یا کسی ادارے کو ٹارگیٹ کرنا یا کسی مذہبی مقام کو نشانا بنانا صحیح نہیں ہے ۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ واضح ہو کہ بانکا ضلع کے اُون تھانہ کے نوٹولیا گائوں واقع ایک مدرسہ میں منگل کی صبح ایک تیز دھماکہ ہوا جس میں ایک شخص کی موت اور کئی کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔بڑے پیمانے پر پولس جانچ کر رہی ہے، کس نے سازش رچی اب تک اس کا انکشاف نہیں ہو پایا ہے ۔لیکن اس دوران بی جے پی کےبسفی سے رکن اسمبلی ہری بھوشن ٹھاکر مدارس اورمساجد کو دہشت گردی کا اڈہ بتاکر اپنی سیاسی روٹی سینکنے میں مصروف ہیں۔

You might also like