Baseerat Online News Portal

قرآن مجید کا رسمی اعجاز اور حکمتیں 

 

 

مرتب….. محمد حنیف ٹنکاروی

 

 

قرآن مجید وہ عظیم الشان کتاب ہے، جس کا ہر پہلو ایک چیلنج اور معجزہ ہے۔تمام کلماتِ قرآنیہ اپنی کتابت، تلاوت اور بیان میں معجزہ ہیں اور کتابت کا اعجاز کلمات کی بناوٹ میں کمی و زیادتی سے ظاہر ہوتاہے۔بعض حروف کتابت میں موجود ہوتے ہیں مگر پڑھے نہیں جاتے،اسی طرح بعض حروف لکھے نہیں ہوتے مگر پڑھے جاتے ہیں۔ معروف قواعد املائیہ کے خلاف کلمات قرآنیہ کی کتابت بھی رسم قرآنی کاایک اعجاز ہے۔جو اپنے اندر متعدد حکمتوں اور اسرار و رموز کوسموئے ہوئے ہے۔

کلماتِ قرآنیہ کا ایک بڑا حصہ تلفظ کے موافق مکتوب ہے، لیکن چند کلمات ایسے بھی ہیں جو تلفظ کے خلاف لکھے ہوئے ہیں۔قرآن مجید کی موجودہ رسم’رسم عثمانی” ہے اور رسم عثمانی توقیفی ہے لہذا اس میں تبدیلی کرکے قواعد املائیہ کے موافق لکھنا جائز نہیں ہے۔

زیر نظر مضمون دراصل مصر کے ایک عالم دین کی کتاب ’ إعجاز رسم القرآن‘ کا اُردو ترجمہ وتلخیص ہے۔ اس تحریر میں حضرت مؤلف نے رسم قرآن کے اعجاز و حکمت کوثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

راقم الحروف چند مثالیں پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہے جس سے اندازہ ہوگا کہ موجودہ رسم میں کیا کیا حکمتیں پوشیدہ ہیں۔

 

*رسم میں حرف کے حذف کی مثال*

آیت کریمہ…”ان الحسنت یذھبن السیئات” لفط “الحسنٰت” قرآن مجید میں تین مرتبہ واقع ہے، تینوں مرتبہ حذف الف سے لکھا گیا ہے ۔ اس کے بالمقابل “السیئات” الف کے ساتھ لکھا گیا ہے ۔ ان دونوں کلمات کی حکمت یہ ہے کہ حسنٰت بدون الف لکھا گیا جس کی وجہ سے “نون اورتاء”مل گئے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نیکی اگرچہ قلیل ہو لیکن انسان کے ساتھ ملصق رہتی ہے جدا نہیں ہوتی۔ اس کے بر عکس “السيئات” کا الف کے ساتھ لکھنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ برائی ہمیشہ انسان کے ساتھ نہیں رہتی ۔ توبہ سے زائل ہو جاتی ہے ۔ گویا الف فاصلہ (جدائی) بتانے کے لئے ہے ۔

 

*حرف کی زیادتی کی مثال*

لفط “اوریکم” دو طرح واقع ہوا ہے ایک ہمزہ کے بعد واو کی زیادتی اور دوسرا ہمزہ کے بعد واو کے بغیر

آیت کریمہ….ساوریکم دار الفاسقین…….میں واو کی زیادتی اللہ تعالیٰ کی عظمت و شان پر دلالت کرتی ہے ۔

جبکہ آیت کریمہ….. “قال فرعون ما اریکم الا ما اری” میں غور وفکر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اریکم کا تعلق فرعون کے ساتھ ہے تو بغیر واو کے لکھا گیا یہ بتانے کے لئے کہ فرعون کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔

گویا حرف کی زیادتی علوّ شان کا اظہار کرتی ہے اور حرف کی کمی ذلت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

 

*حرف کی زیادتی کی ایک اور مثال*

سورہ قریش میں ایلاف….. الاف…… بالیاء اور بلا یاء دونوں طرح مرسوم ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ ایلاف بمعنی موانست، محبت و مودت، خاندانِ قریش گرمیوں میں شام اور سردیوں میں یمن تجارت کے لئے جایا کرتے تھے، قریش چونکہ بڑا خاندان اور کعبۃ اللہ کے خادم تھے تو خاندانی عزت کے پیش نظر لوگ جلدی قریش سے مانوس ہو جاتے تھے تو “الاف” بغیر یاء کے لایا گیا جومحبت کرنے میں سرعت کو بتاتی ہے جس کا اظہار لکھائی میں بھی یاء کے حذف سے کر دیا ۔ جبکہ قریش اتنا جلدی کسی سے مانوس نہیں ہوتے تھے ۔ کسی سے متأثر ہونے میں دیر لگاتے تھے تو لکھائی میں یاء لے آئے جو موانست کی تاخیر پر دلالت کرتی ہے۔

 

*حذف یاء کی مثال*

کلمہ “ابراھم” ھاء کے بعد بالیاء اور بلا یاء دونوں طرح مرسوم ہے۔ سورہ بقرہ میں ابراھم بغیر یاء کے اور دیگر سورتوں میں بالیاء ہے تو اس کی حکمت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ٨٦ سال کی عمر میں لڑکا، حضرت اسماعیل علیہ السلام عطا فرمایا تو جن آیات میں اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے کا ذکر ہے ان آیات میں بغیر یاء کے اور جن آیات میں پیدائش کے بعد کا تذکرہ ہے ان آیات میں یاء کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ گویا بغیر یاء افراد کی کمی اور بالیاء افراد کی زیادتی پر دلالت کرتی ہے۔

 

*مصادر و مراجع*

 

اعجاز رسم القرآن

رائیہ

شرح رائیہ

معرفۃ الرسوم

ملخص از درسِ رائیہ بمقام انکلیشور

رشد

You might also like