Baseerat Online News Portal

میرے بیٹے کی ہڈیاں توڑدیں،چہرہ خراب کردیا کیا اسے کبھی انصاف مل سکے گا، گئو رکشکوں کی دہشت گردی کے شکار آصف کے والد کا سوال

 

نوح۔١١؍ جون: ہریانہ کے میوات کے رہنے والے 47 سال کے ذاکر حسین کے بیٹے آصف کا 16 مئی کو قتل کردیا گیا تھا، لیکن قتل کے ملزمین کی حمایت میں ان کے گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں مہاپنچایت کا انعقاد کیاگیا۔ اس پرمقتول آصف کے والد ذاکر حسین کا کہنا ہے کہ ’ میں اپنے بیٹے کے لئے انصاف کی مانگ کرتا ہوں، انہوں نے بری طرح سے میرے بیٹے کا قتل کیا ہے ۔ اس کی ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں اور اس کا چہرہ خراب کردیا گیا ، قاتلوں کو پھانسی کی سزا ہونی چاہئے۔ ہمارے ملک میں یہ سب ہو رہاہے ، بطور پریوار ہمارے لیے یہ بہت زیادہ فکر کی بات ہے ۔میوات کےکئی سارے گاؤں جیسے کیرا، بادولی، سوہنا میں مہاپنچایت کا اہتمام کیا گیا۔ بتایا گیا کہ سب سے بڑی مہاپنچایت اندری گاؤں میں ہوئی ، جس میں تقریباً50 ہزار افراد نے شرکت کی ۔ یہ آصف اور ذاکر کے گھر سے صرف 4 کلو میٹر دور واقع ہے۔مہا پنچایت میں کرنی سینا ، بھارت ماتا واہنی اور بی جے پی کے مقامی رہنما شامل ہوئے تھے۔ یہ لوگ بے بنیاد الزامات لگا کر آصف کے قتل کو جواز پیش کرتے رہے اور اشتعال انگیز بیان دیتے رہے۔’دی کوئنٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق آصف کے اہل خانہ نے سنا ہے کہ ان مہاپنچایتوں میں کیا ہوا ہے۔ اس واقعے کے حوالے سے وہاٹس ایپ پر کئی طرح کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں۔ اس بحث سے آصف کا کنبہ پریشان اور غمزدہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ابھی ہمیں تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ایس پی نوح نریندر بجارنیا نے کہاکہ ’ تقریباً ایک ہفتہ پہلے تین شکایات درج کی گئی ہیں۔ ایک شکایت اندری گاؤں کے وارڈ نمبر 4 کے کونسلر انجم حسین نے کی، دوسری مسلم رکشا دل اور تیسری شکایت فارق عبداللہ نام کے ایک وکیل نے درج کرائی ہے ۔ انہوں نے لیگل نوٹس بھیجا ہے ۔دی کوئنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ایس پی نے کہا کہ – ’کسی نے بھی مہا پنچایت یا اموپال سنگھ کے خلاف کوئی شکایت درج نہیں کرائی ہے۔ ابھی کورونا انفیکشن کا ایک دور ہے اور ہم اس صورتحال کی تفتیش کر رہے ہیں۔دی کوئنٹ کو ذاکر حسین ویڈیو دکھاتے ہوئے کہا کہ ’ آپ نے بالکل صحیح سنا، یہ بھڑکا کر نفرت پھیلانا چاہتے ہیں‘ اس طرح کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں ۔ ایک ویڈیو کے فیس بک پر 29,000سے زیادہ ویوز ہو گئے ہیں۔ذاکر اور آصف کے چچا حنیف کا کہنا ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ ان مہاپنچایتوں کا انعقاد کیوں کیا جاتا ہے۔ وہ فساد پھیلانا چاہتے ہیں ، وہ چاہتے ہیں کہ ہندو اور مسلمانوں کے درمیان لڑائی ہو، وہ پولیس کو چیلنج دے رہے ہیں اور مسلم سماج کو اکسایا رہے ہیں ،یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے میرے بھتیجے کا قتل کیا ہے ۔آصف کے گھر والے اس انتظار میں ہیں کہ جو لوگ آصف کے قتل کو جائزٹھہرا رہے ہیں ان کے خلاف مقدمہ درج ہوگا۔ وہ اس بات کا بھی انتظار کررہے ہیں کہ قتل کے دوسرے ملزمین کو بھی پکڑ جائے گا۔ آصف کے پریوار کا کہنا ہے کہ اڈوانی ،بھیم، ناتھو بھلا، رشی ، سنو اور دوسرے ملزم ابھی بھی فرار ہیں۔آصف کے اہل خانہ کے مطابق ، آصف ، جو پیشہ سے باڈی بلڈر اور جم ٹرینر بھی تھا ، 16 مئی کی رات سوہنا سے دوا لے کر آرہا تھا،اس کی گاڑی کا تین کاروں نے پیچھا کیا ، جس میں 15 کے قریب لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔آصف کے والد ذاکر کا کہنا ہے کہ اس کا بیٹا ان کے دو بھتیجے راشداور واصف کے ہمراہ سوہنا سے واپس آرہا تھا تبھی یہ واقعہ پیش آیا۔ ان کا الزام ہے کہ ملزمین نے ساتھ مل کر ان کے بیٹے حملہ بول دیا اور اس کی گاڑی کو چاروں طرف سے ہٹ کیا۔الزام ہے کہ حملہ آوروں نے تینوں پر حملہ کیا ، جس میں آصف کی موت ہوگئی اور راشد کی حالت تشویشناک ہے ، جبکہ واصف کی حالت پہلے سے بہتر ہے۔ اس حملے میں زندہ بچ جانے والے واصف نے بتایا کہ حملے کے بعد ان کی گاڑی پلٹ گئی تھی۔ ان لوگوں نے آصف کو کار سے باہر نکالا اور اس کاقتل کردیا۔آصف کے والد نے بتایا کہ ملزم نے ان کے بیٹے کا ہاتھ اور پیر توڑ دیئے تھے۔ جب ان کو آصف کی باڈی ملی تو اس کے جسم پر چوٹ کے کئی نشان تھے۔ واقعہ کے دوسرے دن 17 مئی کو گاؤں میں بھاری پولیس بل تعینات کردی گئی۔ آصف کے گھر والوںنے کہاکہ جب تک ملزمین کی گرفتاری نہیں ہوتی، تب تک وہ اس کو نہیں دفن کریں گے۔کچھ گھنٹوں کے تناؤ کے بعد ملزمین کی گرفتار ہوئی ، تب جاکر اس کو دفن کیا گیا۔گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ تین ماہ قبل بھی لڑکوں کے مابین لڑائی ہوئی تھی۔ آصف کے ایک پڑوسی محمد الیاس نے بتایا کہ تین مہینے پہلے ہی ان لوگوں کے بیچ لڑائی ہوئی تھی، بعدمیں پولیس نے آکر دونوں کے درمیان سمجھوتہ کرایا تھا۔

You might also like