Baseerat Online News Portal

بہار میں کورونا سے ۵۴۲۴ نہیں ۹۳۷۵ جانیں گئیں  چیف سیکریٹری کا اعتراف، اپوزیشن نتیش حکومت پر حملہ آور 

 

پٹنہ؍١١جون:  بہار میں کورونا کی دوسری لہر کے دوران حزب اختلاف اعداد و شمار میں گڑبری کے حوالہ سے نتیش حکومت پر حملہ آور ہو رہی ہے۔ دریں اثنا، بدھ کے روز محکمہ صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مرنے والے افراد کی تعداد میں اچانک اضافہ ہو گیا۔ اس معاملہ میں نتیش حکومت پھر سے حزب اختلاف کے نشانہ پر آ گئی ہے۔ تیجسوی یادو نے نتیش پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ کانگریس لیڈر پریم چندر مشرا نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’آپدا (آفت) میں اوسر (موقع) تلاش کرنا کوئی نتیش حکومت سے سیکھے!‘‘خیال رہے کہ بہار کے محکمہ صحت کی بدھ کے روز جاری رپورٹ کے مطابق ریاست میں اب تک کورونا سے 9429 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ جبکہ منگل کے روز تک جاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا سے صرف 5458 افراد کی موت ہی ظاہر کی گئی تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق 7 جون کو فوت ہونے والے افراد کی تعداد 5424 تھی۔ریاست میں کورونا سے ہوئی اموات میں بے تحاشہ اضافہ کے بعد اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے جمعرات کو اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے ٹوئٹ کر کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو ہدف تنقید بنایا۔ آر جے ڈی لیڈر نے ٹوئٹر میں لکھا، ’’نتیش جی! اتنا جھوٹ مت بولیے اور بلوائیے کہ اس کے بوجھ تلے دبنے کے بعد کبھی اٹھ بھی نا سکے۔ جب پھنس گئے تو ایک دن میں اموات کی تعداد میں 4 ہزار کا اضافہ کر دیا! لیکن تعداد بتا رہی ہے کہ اس سے 20 گنا زیادہ اموات واقع ہوئی ہیں۔ نتیش حکومت فرضی ہے تو اعداد و شمار بھی فرضی ہی ہوں گے۔‘‘کانگریس لیڈر پریم چندر مشرا نے سوال کیا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ نتیش حکومت کورونا سے ہونے والی 70 فیصد اموات کو چھپا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف راجدھانی پٹنہ میں 7 جون تک حکومت نے بتایا کہ تقریباً 1200 افراد کی موت ہوئی ہے۔ مگر 8 جون کو بتا دیا کہ 2200 افراد کی موت ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی اسپتال میں جو لوگ فوت ہوئے ان کی تعداد تاحال سامنے نہیں آ پائی ہے۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ اموات کی تعداد کے فرق سے واضح ہو چکا ہے کہ بہار حکومت پوری طرح سے بدعنوان ہو چکی ہے اور کورونا سے ہونے والی اموات میں بھی فرضی واڑہ کر رہی ہے۔ نیز، کانگریس کا خیال ہے کہ بہار میں 50 ہزار سے زیادہ افراد اس انفیکشن کے سبب دم توڑ چکے ہیں۔ادھر، جن ادھیکار پارٹی کے سربراہ اور سابق رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے ٹوئٹر پر لکھا، کہ ’’بہار میں موت کا گھوٹالہ! پٹنہ میں کل ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کی کورونا سے موت کی سچائی آخر کیا ہے؟ کہا جا رہا ہے کہ پہلے اموات کے اعداد و شمار کو چھپایا گیا تھا، اب انہیں جاری کیا گیا ہے۔ آخر یہ کھیل کس کا ہے؟ محکمہ صحت میں موت کی تعداد کا گھوٹالہ کون کر رہا ہے؟‘‘دریں ا ثناء اب نتیش حکومت نے خود اعتراف کر لیا ہے کہ اب تک اموات کی جو تعداد بتائی گئی ہے وہ غلط ہے اور حقیقتاً اس سے زیادہ اموات واقع ہوئی ہیں۔بہار کے محکمہ صحت کے ایڈیشنل سکریٹری پرتیا امرت نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ معلومات فراہم کی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں ابھی تک اموات کی تعداد 5424 بتائی گئی تھی جو غلط ہے اور 7 جون تک کورونا کے سبب 9375 افراد کی موت ہو چکی ہے۔خیال رہے کہ 18 مئی کو ریاستی حکومت نے کورونا سے واقع ہونے والی اموات کی تعداد کے حوالہ سے جانچ کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے لئے دو طرح کی ٹیمیں بنائی گئی تھیں، جانچ کے بعد پیش کی جانے والی رپورٹ میں اس لاپرواہی کا انکشاف ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا سے ہونے والی اموات کے معاملہ میں شدید بے ضابطگیاں موجود ہیں۔پرتیا امرت نے اعتراف کیا کہ اس حساس معاملہ میں غیر حساسیت سے کام لیا گیا ہے۔ انہوں نے لاپرواہی برتنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی بات تو کہی لیکن اب تک کتنے لوگوں پر کارروائی کی گئی! اس سوال پر وہ خاموش ہو گئے۔ اتنا ہی نہیں پرتیا امرت نے کورونا سے ہونے والی اموات میں بےضابطگیوں کی کچھ دلیلیں بھی پیش کر دیں۔انہوں نے بتایا کہ متعدد افراد کی موت خانہ قرنطینہ میں ہو گئی، کافی لوگ متاثر ہونے کے بعد دوسرے اضلاع میں چلے گئے، جہاں ان کی موت ہوئی، کچھ لوگوں کی موت اسپتال جانے کے دوران ہو گئی اور کچھ کی موت کورونا سے شفایابی حاصل کرنے کے بعد واقع ہوئی، یہی وجہ ہے کہ صحیح تعداد حاصل نہیں ہو سکی۔

You might also like