Baseerat Online News Portal

فلسطین: تاریخ کے آئینے میں!! (٨) اسرائیل کی بڑھتی طاقت اور مصر

 

محمد صابر حسین ندوی

سنہ ١٩٤٩ء کو دنیا نے ایک نئی کروٹ لی، اسرائیلی فوج کی فتح اور عرب کی شکست دراصل استعماری طاقتوں اور ناجائز قبضہ کرنے والوں کی جیت تھی، اسے ایک تختہ مشق کہنا چاہئے جس کے ذریعہ عرب کی روح اور اسلامی اقدار کے ساتھ ان کے اندر موجود جاہلیت کے عناصر کو اجاگر کرنا تھا، انہیں فکر و سوچ کے نئے خانوں میں مبتلا کر کے باہمی تعلقات، اتحاد اور یکجہتی کو ٹھو کر مارنا تھا، منافقین اور مغربی ممالک کے نقش قدم پر چلنے والے عربوں کو قیادت دینا، انہیں دین بیزار بنا کر صلیبی آلہ کار بنانے کا پیش خیمہ تھا، ویسے یہود اور عرب کی یہ کوئی پہلی جنگ نہ تھی، اور ناہی فلسطین میں یہ کوئی پہلی جھڑپ تھی، مگر یہ خونچکاں رزم گاہ تمہید تھی کہ اب یہاں خون کی ندیاں بہیں گی، عرب کی نااہلی و نادانی اور عالمی اقوام کی بے دلی میں اب مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیل جائے گی، کشتوں کے پشتے لگیں گے اور مقامات مقدسہ کی بے حرمتی کا سلسل چل پڑے گا، آہستہ آہستہ صہیونی سازشیں ان کی جڑیں کھود دیں گی اور مسلمانوں کے سینوں سے شمع ایمانی کی روشنی مدھم کردیں گے، اور واقعہ بھی یہی ہے کہ اس جنگ کے بعد اسرائیل نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، اس کے بعد متعدد جنگیں ہوئیں، میزائلی حملے تک ہوئے؛ لیکن کبھی بھی عرب کی شجاعت اور پھڑکتی رگ اور دھڑکتا دل انہیں ضرب نہ لگا سکا، جہاد اسلامی کا شوق، لذت شہادت اور لقائے الہی کا جذبہ انہیں ایڑ نہ لگا سکا کہ وہ باطل کی صفیں الٹ دیں اور ہر قیمت پر ان کا صفایا کریں، فساد دور ہو اور حق غالب آئے؛ بلکہ جوں جوں وقت گزرتا گیا مزید غلامی، فلسطین اور بیت المقدس کے تئیں لاپرواہی، مناسب ہو کہ یہ کہا جائے کہ صیہونیوں کی یاری اور دوستی قبول کی جانے لگی، سفارتی رشتے بحال ہوئے اور عالم اسلام کے گلے میں صیہونی غلامی کا پٹہ ڈال دیا گیا، جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے، چونکہ بھیڑئے کے منہ کو سستا خون لگ چکا تھا، اور وہ ناجائز گوشت کی لذت پاچکا تھا جس کا صدیوں سے منتظر تھا، چنانچہ کچھ ہی سال بعد ٥/جون ١٩٦٧ء میں ایک اور عرب و اسرائیل جنگ ہوئی، جو چھ دنوں تک جاری رہی، اسے جنگ جون بھی کہتے ہیں، اس مرتبہ مصر میں جمال عبدالناصر نے اپنی تاناشاہی، روس پر بے جا اعتماد اور کمزور تیاریوں کا خمیازہ بھگتا، ان کی بے تکی پالیسیز اور عربوں کی بیوقوفی مزید کھل کر سامنے آئی، ایمانی جوش و ولولہ تو کہیں ناپید تھا مگر تعداد اور اس سے زیادہ غلط فہمیاں پال کر ایک نئی مضبوط طاقت کو شکست دینے چلے تھے، اسرائیل پہلے سے زیادہ طاقتور ہوچکا تھا، جنگی تجربہ اور حربے بھی سیکھ چک تھا، اس نے یورپی جنگوں میں خصوصی تیاری کی تھی اور ١٩٥٦ء میں اقوام متحدہ نے بھی فوجیں سرحدی علاقوں میں بھیج دی تھیں، امریکہ کی پشت پناہی اور دیگر اقوام کی طاقتیں بھی اس کا سپورٹ کر رہی تھیں، جدید ٹیکنالوجی کے ہتھیار اور اسلحے کی کوئی کمی نہ تھی، وہ پر اعتماد اور حوصلہ مند تھے، ان کے قدموں میں ثبات اور استقامت تھی۔
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان کے اندر بزدلی اور خوف کے غلبہ اور مسلمانوں کی ہیبت کے باوجود صہیونی ایمان اور مرمٹنے کا جذبہ اس قدر ابال مار رہا تھا کہ مسلمانوں کی ایمانی حرارت سرد معلوم ہوتی تھی، وہ اضطراری حالت میں تھے، انہیں ہر قیمت پر اس زمین کے ٹکڑے کی حفاظت کرنی تھی، اور اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنا تھا، چنانچہ ٦/ دن کے مختصر مدت میں اسرائیل نے نہ صرف باقی فلسطین سے مصر – مغربی کنارے والا علاقہ- اور اردن – غزہ پٹی- کو نکال باہر کیا بلکہ شام میں جولان کے پہاڑی علاقے اور مصر کے پورے جزیرہ نمائے سینا پر بھی قبضہ کر لیا اور مغربی بیت المقدس پر بھی اسرائیلی افواج کا قبضہ ہو گیا۔ ہزاروں مصری فوجی قیدی بنالئے گئے اور روسی اسلحہ اور ٹینک یا تو جنگ میں برباد ہو گئے یا اسرائیلیوں کے قبضے میں چلے گئے، عربوں نے اپنی تاریخ میں کبھی اتنی ذلت آمیز شکست نہیں کھائی ہوگی، جس کے اثرات سے ابھی تک عربوں کو نجات نہیں ملی، اب فلسطین میں کوئی مقام نہ بچا تھا جہاں فلسطینیوں کیلئے کوئی جگہ ہو، افسوسناک صورتحال بن گئی تھی، فلسطینی اپنے ہی ملک کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے، وہ ہجرت کرنے لگے، عرب ممالک اور یورپ میں مہاجر بن کر رہنے لگے، تقریباً سات ملین لوگ رفیوجی بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے، گھربار چھوڑ کر دیار غیر میں پناہ لینے اور قدس کی مقدس سرزمین سے دستبردار ہونے کی نوبت آئی، مگر کس کا دل مانتا ہے کہ وہ اپنی ٹوٹی پھوٹی جھونپڑی بھی چھوڑے؛ چہ جائے کہ قدس سے ہاتھ دھونا پڑے؟ اس لئے یہیں سے بعض فلسطینیوں کے ذریعے آزاد فلسطینی ریاست کی جد وجہد اور جہاد کی شروعات بھی ہوتی ہے، وہ اپنی خشک روٹی اور کسمپرسی میں بھی یہ ٹھانتے ہیں کہ قدس کی حفاظت کریں گے، اپنی جان کی بازی لگائیں، اس طرح ١٩٦٤ء میں منظمة التحرير الفلسطينية – تنظيم آزادی فلسطين – Palestine Liberation Organization – (جس کو مختصراً (PLO) کہتے ہیں) کا قیام عمل میں آتا ہے، جس کی سیاسی ونگ الفتح کہلاتی ہے، اس صدر دفتر رام اللہ میں موجود ہے، سالوں تک اسے ایک دہشت گرد تنظیم کی صورت میں پیش کیا گیا، مگر وہ صرف اپنا ملک واپس چاہتے تھے، اپنا حق مانگتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ١٩٧٤ء میں اقوام متحدہ (PLO) کو بحیثیت فلسطینی نمائندہ قبول کرتی ہے، اور انہیں دہشت گرد ماننے سے انکار کر دیتی ہے، کچھ سالوں بعد جنگ یوم کپور، جنگ رمضان یا جنگ اکتوبر واقع ہوتی ہے، جسے عرب اسرائیل جنگ ١٩٧٣ء یا چوتھی عرب اسرائیل جنگ بھی کہا جاتا ہے ٦/ اکتوبر سے ٢٦/ اکتوبر ١٩٧٣ء کے درمیان مصر و شام کے عرب اتحاد اور اسرائیل کے درمیان لڑی گئی۔ اس جنگ کا آغاز یہودیوں کے تہوار یوم کپور کے موقع پر ہوا جب مصر اور شام نے اچانک جزیرہ نما سینا اور جولان کی پہاڑیوں پر حملہ کر دیا۔ جزیرہ نما سینا پر اسرائیل نے ١٩٦٧ء میں جنگ شش روزہ کے دوران قبضہ کر لیا تھا؛ لیکن اس سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑتا، اسرائیل کی فوقیت برقرار رہتی ہے اور عرب کی ذلت کا تسلسل باقی رہتا ہے، بلکہ ان کی معاشی کمر توڑ دی جاتی ہے، انہیں مزید مجبور اور اپاہج بنا دیا جاتا ہے۔
خام ہے جب تک تو ہے مٹّی کا اک انبار تُو
پُختہ ہو جائے تو ہے شمشیرِ بے زنہار تُو
ہو صداقت کیلئے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے

Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
10/06/2021

You might also like