Baseerat Online News Portal

محی الدین ابن عربی رحمہ اللہ، ان کانظریہ وحدت الوجود اور ان کے بارے میں علمائے دیوبند کی رائے

 

 

خلیل الرحمٰن قاسمی برنی

تاریخ اسلام کے عظیم صوفی اور فلسفی ،کثیر التصانیف مصنف اورمفکر، علامہ ،شیخ محی الدین ابن عربی رحمہ اللہ، ان نفوس قدسیہ میں سے ہیں جنھوں نے ہمیشہ اپنے نور باطن ،جلاء قلب، پاکیزہ سوچ روشن ضمیری اور عادلانہ جذبہ سے امت کی راہنمائی کا فریضہ انجام دیا ہے -تصوف کی دنیا میں آپ کا مقام شیخ اکبر ہے اور اسی لقب سے آپ مشہور بھی ہیں -واضح رہے کہ یہ لقب آپ سے پہلے کسی اور کو نہیں ملا –

 

 

عام خیال ہے کہ اسلامی تصوف میں وحدۃ الوجود کا نظریہ سب سے پہلے انھوں نے ہی پیش کیاتھا-بعض علماء نے ان کی نظریہ کو الحاد وزندقہ سے تعبیر کیا ہے ؛لیکن اہل زہد اور اصحاب تصوف کے یہاں، وہ بحر معرفت کے غواص اور کاملین میں شمار کیے جاتے ہیں ۔ان کا قول تھا کہ باطنی نور خود راہنمائی کرتا ہے ۔

 

*شیخ کی پیدائش*

 

اندلس( اسپین)کے شہر مرسیہ میں 560ھ مطابق1165ءکو ایک معزز عرب خاندان میں آپ کی ولادت ہوئ ۔جب آپ آٹھ برس کے تھے تو والدین کے ساتھ اشبیلیہ منتقل ہوگئے ‍۔جوانی کا زمانہ یہیں گذارا ۔ابتدائ تعلیم مرسیہ اور لزبن میں حاصل کرنے میں بعد اعلی تعلیم اشبیلیہ ہی میں حاصل کی ۔

 

اشبیلیہ میں آپ صوفیاء کی صحبت میں خاصا وقت دیا کرتے تھے ۔جس کی وجہ سے آپ کی طبیعت زہد اور ریاضت وعبادت کی طرف زیادہ مائل ہوگئی ۔ رات دن ذکر الہی، مسلسل محنت اور جانگداز مجاہدات میں اس طرح مشغول ہوئے کہ پھر دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا -اس کی برکت سے ان پر اسرار الہیہ منکشف ہونے شروع ہوے اور معرفت کا مقام ممتاز حاصل کیا ۔

 

 

590ء میں آپ نے تیونس کا سفر کیا یہاں آپ کی ملاقات کئ صوفیوں سے ہوئ ،ان میں سے ایک ابو محمد عبد العزیز بن ابو بکر القریشی تھے انھوں نے آپ سے اندلس کے صوفیاء کے حالات لکھنے کی فرمائش کی جس کو آپ نے قبول کیا اور روح القدس نام سے ایک عمدہ کتاب تحریر فرمائ جس میں آپ نے پچپن ایسے بزرگوں کا تعارف کرایاہے جن سے آپ کا مریدانہ یا شاگردانہ تعلق رہا تھا ۔اسی سفر میں آپ نے کامل فقر والی راہ کو اختیار کیا ۔والدین کی وفات اور بہنوں کی شادی سے فراغت کے بعد آپ نے مشرق کا سفر کیا اور القدس ہوتے ہوے مکہ مکرمہ میں قیام فرمایا یہاں آپ کو تجلیءشہود سے نوزا گیا ،جو بعد میں نظریہء وحدت الوجود کی بنیا د بنی-مکہ میں رہتے ہوئے آپ نے اپنی مایہ ناز کتاب فتوحات مکیہ کو لکھنے کا آغاز کیا اور مسلسل36سال تک لکھتے رہے 599ھ میں یہ تصنیف شروع کی اور635ھ میں اس کی مکمل طور پر تصنیف سے فارغ ہوۓ-

 

عبد الوہاب الشعرانی متوفی973ھ نے فتوحات مکیہ کا خلاصہ لواقع الانوار القدسیہ المنقاۃ من الفتوحات المکیہ کیا۔ پھر اس خلاصہ کاخلاصہ بعنوان الکبریت الاحمر من علوم الشیخ الاکبر پیش کیا-

 

مکہ میں قیام کے دوران وہاں کے علمی اور مذہبی حلقوں میں آپ کی وجہ سے ایک غیر معمولی ہلچل پیدا ہو گئی تھی ۔ آپ نے اپنی مصنفات کی تعداد 251 بتائ ہے، جب کہ بعض جگہ 846 کتب کے عنوان درج کیے گئے ہیں ۔

 

*شاعری*

آپ بلند پایہ شاعر بھی تھے۔ مکہ میں آپ کی شاعری اپنے نقطہءعروج پر تھی –

 

*بغداد، موصل اور دوسرے شہروں ميں قيام*

 

ابن عربی 601ھ میں مکہ سے روانہ ہو کر بغداد، موصل اور دوسرے شہروں سے ہوتے ہوئے 603ھ میں قاہرہ پہنچے، جہاں پر آپ پر ارتداد کا الزام لگایا گیا، مگر ایوبی حاکم الملک العادل نے آپ کی جان بچائی۔ 604ھ میں آپ پھر مکہ میں وارد ہوئے اور ایک سال تک وہاں پر قیام کیا۔ اس کے بعد آپ ایشیاءکوچک چلے گئے، جہاں سے 607ھ میں قونیا پہنچے۔ یہاں پر سلطان کیکاؤس نے آپ کا ولولے کے ساتھ استقبال کیا اور آپ کی رہائش کے لیے ایک مکان بنوایا، جسے آپ نے بعد میں ایک بھکاری کو دے دیا۔ قونیا میں آپ کی آمد مشرقی تصوف میں ایک انقلاب کا پیش خیمہ بنی۔ جس کا وسیلہ آپ کے شاگرد اور سوتیلے بیٹے صدر الدین قونوی بنے، جن کی ماں سے آپ کی شادی ہوئی۔ صدر الدین قونوی، جو آگے چل کر تصوف کے اعلام میں شمار ہوئے، مولانا جلال الدین رومی کے قریبی دوستوں میں سے تھے۔ آپ نے ابن عربی کی کتاب فصوص الحکم پر شرح لکھی، جو آج تک حرف آخر سمجھی جاتی ہے-

 

وفات

 

620ھ میں آپ نے دمشق کو اپنا وطن بنایا، جہاں کے حاکم الملک العادل نے آپ کو وہاں پر آ کر رہنے کی دعوت دی تھی۔ وہاں پر آپ نے 28 ربیع ا لآخر 638ھ مطابق 1240ءکو وفات پائی جبل قاسیون کے پہلو میں آپ کا مزار ہے –

 

*نظریہ وحدت الوجود*

 

 

واضح رہے کہ ’’وحدت الوجود‘‘ کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اس کائنات میں حقیقی اور مکمل وجود صرف ذاتِ باری تعالیٰ کا ہے، اس کے سوا ہر وجود بے ثبات، فانی، اور نامکمل ہے۔ ایک تو اس لیے کہ وہ ایک نہ ایک دن فنا ہو جائے گا۔ دوسرا اس لیے کہ ہر شے اپنے وجود میں ذاتِ باری تعالی کی محتاج ہے، لہذا جتنی اشیاء ہمیں اس کائنات میں نظر آتی ہیں انہیں اگرچہ وجود حاصل ہے، لیکن اللہ کے وجود کے سامنے اس وجود کی کوئی حقیقت نہیں، اس لیے وہ کالعدم ہے۔

 

اس کی نظیر یوں سمجھیے جیسے دن کے وقت آسمان پر سورج کے موجود ہونے کی وجہ سے ستارے نظر نہیں آتے، وہ اگرچہ موجود ہیں، لیکن سورج کا وجود ان پر اس طرح غالب ہو جاتا ہے کہ ان کا وجود نظر نہیں آتا۔ اسی طرح جس شخص کو اللہ نے حقیقت شناس نگاہ دی ہو وہ جب اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کے وجود کی معرفت حاصل کرتا ہے تو تمام وجود اسے ہیچ، ماند، بلکہ کالعدم نظر آتے ہیں-

بقول حضرت مجذوبؒ:

 

جب مہر نمایاں ہوا سب چھپ گئے تارے تو مجھ کو بھری بزم میں تنہا نظر آیا-

 

’’وحدت الوجود‘‘ کا واضح،درست اور صاف مطلب یہی ہے، اور اسی تشریح کے ساتھ یہ علمائے دیوبند کا عقیدہ ہے، اس سے آگے اس کی جو فلسفیانہ تعبیرات کی گئی ہیں، وہ بڑی خطرناک اوپیچیدہ ہیں، اور اگر اس میں غلو ہو جائے تو اس عقیدے کی سرحدیں کفر سے جاملتی ہیں۔ اس لیے ایک مسلمان کو بس سیدھا سادا یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ کائنات میں حقیقی اور مکمل وجود اللہ تعالیٰ کا ہے، باقی ہر وجود نامکمل اور فانی ہے۔

 

تفصیل کے لیے دیکھیے: شریعت و طریقت (ص۳۱۰) مؤلفہ حکیم الامت حضرت تھانوی قدس سرہ۔ (مستفاد از فتاویٰ عثمانی (ج:۱ ؍ ۶۶ ، مکتبہ معارف القرآن کراچی)

 

البتہ وحدت الوجود کے مسئلے میں شیخ محی الدین بن عربیؒ کا جو متصوفانہ نظریہ ہے، وہ نظریہ وجدانی کشفی ہے۔

 

شیخ اکبر کے نظریہء وحدت الوجود پر عقیدہ رکھنے سے متعلق حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں:

 

’’پس یہ قول تو حضرت شیخ سے حالتِ سکر میں صادر ہوا ہے جس میں وہ معذور تھے اور حالتِ سکر کے اقوال ماننے کے لیے ہم کو مجبور نہیں کیا جاسکتا‘‘۔

(خطبات حکیم الامت ،ج:21،ص:73)

 

حضرت تھانوی قدس سرہ فصوص الحکم کی شرح خصوص الکلم کے مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں :

 

’’اگر کوئی شخص ان دعووں پر اعتقاد نہ رکھے تو اس پر کوئی ملامت نہیں ہے، البتہ جو دعوی نصوص (قرآن و حدیث) کے ظاہر کے خلاف ہو تو اس پر کسی بھی طرح اعتقاد رکھنا درست نہیں ہے‘‘۔

 

شیخ ابن عربیؒ کے متعلق حکیم حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی رائے مندرجہ ذیل ہے:

 

“مگر ان غلطیوں کے باوجود شیخ اب بھی ویسے ہی حسین ہیں، جیسا کہ وہ ان اغلاط سے پہلے حسین تھے، ان کےعارف اور بہت بڑے ولی ہونے میں کس کو کلام ہوسکتا ہے، انہوں نے اگر ایک دو جگہ لغزش کی ہے تو ہزار جگہ ایسی تحقیقات بھی بیان کی ہیں جن سے قرآن وحدیث کی حقیقت اور عظمت معلوم ہوتی ہے، جس نے شریعت کے اس قدر اسرار بیان کیے ہوں اس سے ایک دو جگہ لغزش بھی ہوجائے تو اس سے اس کے حسن میں کیا فرق آسکتا ہے”۔

(خطبات حکیم الامت ص21/73)

 

“البتہ چوں کہ حضرت شیخ کا کامل ہونا اساطینِ امت کی شہادت سے ثابت ہے؛ اس لیے اس سے شیخ ابن عربی پر طعن کرنا خطرے کا محل اور سوئے ادب ہے، رہا اس غلطی کا شیخ ابن عربی سے صادر ہونا تو اس کی مناسب توجیہ یہ کی جائے گی یا تو اسے اجتہاد کی غلطی کہاجائے گا یا اس کی شیخ کی طرف نسبت کو غلط کہا جائے گا، جیسا کہ در مختار میں ہے”۔

(ملخص از التنبیہ الطربی فی تنزیہ ابن العربی مقدمہ خصوص الحکم )

 

خلیل الرحمن قاسمی برنی 9611021347

You might also like