خواتین واطفالگوشہ خواتینمضامین ومقالات

اسلام میں خواتین کا مقام اور آج کی مسلم خواتین!

نور محمد خان ممبئی
8 مارچ کو عالمی سطح پر یوم خواتین منایا جاتا ہے۔ خواتین کی نمائندگی کرنے والی تنظیمیں خواتین کی فلاح کے لئے بھلے ہی بلند بانگ دعوے کرے مگر یہ نا ممکن ہے کہ جب تک کتاب و سنت پر عمل پیرا نہیں ہونگی تب تک ان کو فلاح کا راستہ نہیں مل سکتا کیونکہ خواتین نے کبھی اپنے گریباں میں جھانک کر نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے خواتین کے مقام کو کتنا بلند ترین درجہ دیا ہے لیکن آج جدید تعلیم یافتہ دور میں مسلم معاشرے میں ساڑھے چودہ سو سال قبل پائے جانے والی جہالت برقرار ہے چنانچہ یوم خواتین کے موقع پر اسلامی تناظر میں اسلام میں خواتین کا مقام وکردار اور آج کی مسلم خواتین اور معاشرہ پر تجزیہ کرتے ہیں۔
ساڑھے چودہ سو سال قبل عہد جہالت میں عرب کے چند قبیلوں میں ایک رواج پایا جاتا تھا جو بہت ہی گھناؤنا قابل نفرت اور شرمناک تھاان قبیلوں میں لڑکیوں کا پیدا ہونا باعث زحمت سمجھاجاتا تھا اورلڑکی کے پیدا ہوتے ہی زندہ در گور کر دیا جاتا، بعض روایتوں میں آیا ہے کہ لڑکیاں کچھ بڑی ہوجاتی تب اسے سجا سنوار کر صحرا میں لے جا کر گڑھا کھود کر اس میں ڈھکیل دیا جاتا اور اس پر مٹی ڈال کر برابر کردی جاتی تھی اور آج اکیسویں صدی کے جدید ترین تعلیم یافتہ دور میں مسلم معاشرے میں مادر رحم میں بچوں کا قتل کرکے کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا ہے جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ ’’اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ہم تمہیں رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دینگے‘‘(الانعام 151) اللہ تبارک و تعالیٰ نے عورتوں کو بلند مقام عطا کیا ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد باری ہے کہ’’نیک عمل کرنے والے مومن مرد ہو ں یا عورت انہیں بہتر بدلہ ملے گا ‘‘لیکن مسلم معاشرے کی زیادہ تر خواتین اس خبر سے واقف نہیں ہیں بلکہ مسلم معاشرے پر ایک نظر ڈالیں تو معلوم یہ ہو گا کہ قرآن مجید کے فرمان کا علم ہو یا نہ ہو لیکن WHO کے فیملی پلاننگ کے منصوبوں کا مکمل علم رکھتی ہیں۔ ہمیں غور کرنا چاہئے کہ جب سے WHO نے فیملی پلاننگ کا منصوبہ بنایا اور اس کی تحریک ہندوستان میں داخل ہوئی تب سے تمام مذہب کے علاوہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعدادنے بھی اس تحریک میں شامل ہو کر’’ہم دو ہمارے دو کا‘‘ نعرہ لگایا بلکہ احکام الٰہی اور سنت رسول کی خلاف ورزی کی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دیندار عورت اور زیادہ بچہ پیدا کرنے والی عورتوں سے نکاح کرو،، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ عورتیں مادر رحم میں بچوں کا قتل کرنے سے گریز نہیں کرتیں اور یہ بھی انکشاف ہوا کہ مادر رحم میں مشینوں کے ذریعے یہ پتہ لگایا جانے لگا کہ رحم میں پرورش پانے والا بچہ لڑکی ہے یا لڑکا ؟ اگر لڑکی ہے تو حمل ساقط کروا دیا جاتا جب اس بات کی خبر حکومت ہند کو معلوم ہوئی تب حکومت نے اس پر پابندی عائد کر دی اگر دیکھا جائے تو اسلام نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی پابندی عائد کر دی تھی۔
قابل غور بات یہ ہے کہ اسلام کے ظہور کے ساتھ ہی دنیا میں دو بڑی طاقتیں یہود و نصَاری ہر محاذ پر اسلام کے آمنے سامنے تھیں اور تب سے لیکر تادم تحریر اسلام کے خلاف سازشیں انجام دیتے چلے آرہے ہیں۔اہل قلم نے ان باطل طاقتوں کو اہل مغرب سے موسوم کیا ہے چنانچہ مغربی طاقتوں نے مومن بندوں کو صراط مستقیم سے بہکانے کے لیے ناپاک سازشوں سے اپنی ہی نوجوان نسل کو ماڈرن ایجوکیشن اور سوسائٹی کے ذریعے فحاشی وعریانیت کے گرم بازار میں ڈھکیل دیا فلموں سے لیکر ماڈلنگ تک کم اور باریک ملبوسات میں نوجوان لڑکیاں اپنے جسموں کی نمائش کرنے لگی تا کہ دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرسکیں در اصل ان کا نشانہ مسلمان تھا، یہ مسلمانوں کی نسل کو ناپاک عزائم میں شامل کرنا اولین مقصد تھا جس میں ان کو کامیابی حاصل ہوئی جو جدید دور کے علماء کرام مسلم تنظیموں اور معاشرے کے ٹھیکیداروں کے لیے ایک چیلنج بن گئی۔
مسلم معاشرے میں ایک طرف تعلیم یافتہ گھرانوں سے لیکر ماڈرن گھرانوں میں فیشن کا طوفان برپا ہے یہاں پر بھی عریاں لباس میں خواتین دکھائی دینگی اگر آپ کو یقین نہ ہو تو شادی بیاہ کے موقع پر دیکھ سکتے ہیں دوسری طرف آج اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر کرتے ہیں تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مفلسی و غریبی کی کوکھ سے جنم لینے والی شادی شدہ مطلقہ بیوہ اور غیر شادی شدہ نوجوان لڑکیاں اور عورتیں غیر اخلاقی کاموں میں ملوث ہیں کیونکہ مجبوری انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے اور یہی خواتین کو جب گھر والوں کے کفالت کی ذمہ داری کے فرائض کو انجام دینا پڑتا ہے تو غیر اخلاقی کاموں کا سہارا لے کر بچوں اور گھر والوں کی پیٹ کی آگ بجھاتی ہیں جو کہ افسوس کا مقام ہے۔
مسلم معاشرے میں دو بیماری بہت تیزی سے پھیل رہی ہے ۔اول جہیز اور دوئم طلاق۔ ان دونوں لعنت سے مسلمانوں کا ایک طبقہ پریشانی میں مبتلا ہے اور معاشرے کے ٹھیکیدار ہیں کہ ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ متعدد موقع پر یہ سننے میں ضرور آیا کہ علماء کرام نے اپنی تقریر میں جہیز اور طلاق کے موضوع پر گفتگو کی ہے مگر اس لعنت کو ختم کرنے کے لئے تحریک شروع نہیں کی۔ معاشرے میں جو مسلمان طلاق اور جہیز کو اہمیت دیتا ہے انہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ قرآن مجید اور احادیث میں دیندار خواتین کے لئے دنیا واخرت میں کتنا بہتر انعام کا اعلان کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’جوعورت پانچ وقت نماز کی پابندی کرتی ہے، روزے رکھتی ہے، شرم گاہ کی حفاظت کرتی ہے اور شوہر کی فرماں برداری کرتی ہے تو ایسی عورت جنت کے آٹھ دروازوں میں سے کسی بھی دروازے سے داخل ہو سکتی ہے‘‘ یہاں ایک بات کا ذکر اور کرتے چلیں کہ مسلم معاشرے میں نکاح کے لئے دیندار لڑکیوں کو تلاش نہیں کیا جاتا بلکہ خوبصورت اور مالدار گھرانہ کی لڑکیاں پسند کرتے ہیں ایسا کرنے والے ہمیشہ خسارے میں رہیں گے۔
آخری بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں علم نافع کو کم اور علم غیر نافع کو مقبولیت حاصل ہے کیونکہ مسلمان دنیا و آخرت میں نفع پہچانے والے علم کو ترجیح نہیں دیتا بلکہ دنیا میں نفع پہچانے والے علم کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں اور اسی دنیاوی علوم میں علوم خبائث ہے جس پر عمل کرکے دنیا کی زندگی میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔خدا خیر کرے!
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker