Baseerat Online News Portal

مسجد کے نیچے سے مسجد کے غسل خانہ وغیرہ کی نالی نکالنا

کتبہ مفتی محمداشرف قاسمی،
خادم الافتاء:شہرمہدپور، اُجین(ایم پی)

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسٸلے میں کہ میں جس مسجد کا امام ہوں اس کے پورب میں وضوخانہ اور پاخانہ تیارکیا گیا،تو کیا کوٸی نالی مسجد کے نیچے نیچے نکالی جا سکتی ہے؟ جس میں وضوخانے اور پاخانے کا پانی بہے اورباہر نکل سکے ؟
نیزاس نالی کے اوپر مسجد کی طرح فرش برابر کرنے کو کہا جا رہا ہے.
براہِ کرم اس میں شرعی رہنماٸی فرماٸیں .

ساٸل:
حافظ عبد اللہ دیوریاوی

الجواب حامدا ومصلیا ومسلماامابعد

وعلیکم السلام ورحمة الله و برکاتہ

کتبِ فقہ میں تصریح ہے کہ مسجد کے کسی حصے کو مسجدکے علاوہ دوسری تعمیرکے لیے استعمال کرنا جائزنہیں ہے، حتی کہ مسجد کے لیے وقف زمین پرتعمیرہونے والے مکان کی لکڑی (شہتیروغیرہ) کو بھی مسجد کی دیوارپر رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ (1)
اورمسجد کے علاوہ زمین میں بھی مسجد کی دیوار سے متصل جگہ پر پیشاب کرنے کو مکروہ قراردیاگیاہے، (2)
اس لیے مسجد کی تعمیر وتحقُق کے بعد مسجد کے صحن وغیرہ میں بیت الخلاء وغیرہ کی نالی نکالنا بدرجہ اولی ممنوع ہوگا۔لہذا اولاً کوشش کریں کہ بیت الخلاء یاغسل خانہ کی نالی
مسجد کےحصۂ زمین کے بجائے کسی دوسری طرف سے نکالی جائے۔
اگرمسجد کے صحن وغیرہ کے علاوہ مقامات سے نالی نکالنے کی کوئی صورت نہ ہوسکے، اورنالی نکالنے کی شدید مجبوری ہوتو درمختار،رد المحتاراورتقریرات الرافعی کی بعض عبارات سے اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، جن کی روشنی میں بیان کردہ طریقے پر زیرِزمین پتلی ومضبوط نالی نکال سکتے ہیں،(3)
لیکن درمختار، ردالمحتار اورتقریرات الرافعی کی ایسی عبارات پراکابرعلماء نے کلام بھی کیا ہے۔(4)
اس لیے مجبوری کی حالت میں بھی مسجد کی زمیں میں نالی نکالنے کے لیے کراہت بہرحال باقی رہے گی۔

(1) ولایوضع الجذع علی جدارالمسجد وان کان من اوقافہ ۔
(الردالمحتارج6ص548 زکریا)
(2) كذايكره بول وغائط في ماء ولو جاريا وبجنب مسجد ۔(الدرالمختار،كتاب الطهارة ،باب الأنجاس ،ج1ص342)
(3)فی الدرالمختار:(واذاجعل تحتہ سردابا لمصلحتہ) ای المسجد(جاز) کمسجد القدس۔
وفی الردالمحتار: قولہ: (اذا جعل تحتہ سردابا) جمعہ سرادیبب، بیت یتخذ تحت الارض لغرض تبرید الماء وغیرہ، کذا فی الفتح۔ وشرط فی المصباح ان یکون ضیقا، ( الردالمحتارمع الدرالمختار ج6ص547 زکریا)
وفی تقریرات الرافعی:
قول المصنف لمصالحہ، لیس بقید بل الحکم کذالک، اذاکان ینتفع بہ عامۃ المسلمین علی ماافادہ فی غایۃ البیان حیث قال : اورد الفقیہ ابواللیث سوالاوجوابا فقال، فان قیل الیس مسجد بیت المقدس تحتہ مجتمع الماء والناس ینتفعون بہ؟ قیل اذاکان تحتہ شیء ینتفع بہ عامۃ المسلمین یجوز لانہ اذا انتفطع بہ عامتھم صار ذالک للہ تعالیٰ ایضا، ومنہ یعلم حکم کثیرمن مساجد مصر التی تحتھا صھاریج ونحوھا۔
( تقریرات الرافعی مع الردالمحتاروالدرالمختار ج6ص 80زکریا)
(4) (امدادالفتاوی ج2ص 682) فقط
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:
(مفتی)محمداشرف قاسمی،
خادم الافتاء:شہرمہدپور، اُجین(ایم پی)
27شوال 1442ھ
مطابق9جون2021ء
[email protected]
تصدیق:
مفتی محمد سلمان ناگوری

ناقل: محمد فیضان خان

You might also like