Baseerat Online News Portal

بیوی،ایک بیٹی اورچار بیٹوں کے درمیان تقسیم ترکہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیانِ عظام درج ذیل مسئلے کے بارے میں؟
زید کا انتقال ہوچکا ہے،
وارثین میں چاربیٹے ایک بیٹی اور زوجہ ہیں۔
1.زیدنے اپنی حیات میں ایک بیٹے کو ایک مکان دیدیا تھا، جس میں وہ رہتا ہے، اور اس پر اس کے بیٹے کا قبضہ بھی ہے۔
2.اوراس کے علاوہ زید نے دومکان، ایک پلاٹ، اورسولہ مشین بھی ترکہ میں چھوڑی ہیں،ان کی تقسیم کس طرح ہوگی؟
3.ایک مکان میں سٹی سروے میں چاروں بیٹوں کانام چڑھاہوا ہے،بیٹی کانام موجود نہیں ہے، کیا اس مکان میں بیٹی کاحصہ رہے گا؟ یانہیں؟
اس مکان میں کسی کا قبضہ نہیں ہے، صرف نام چڑھا ہوا ہے۔
4.جس بیٹے کو زید نے اپنی حیات میں ایک مکان دیدیا تھا، اس کاحصہ اس مکان کے علاوہ دیگرتمام ترکوں میں رہے گا یانہیں؟
آپ سے درخواست ہے کہ جواب عنایت فرماکر ممنون ومشکور فرمائیں۔
فقط والسلام
مسعود احمد،
ناگپور، مہاراشٹرا۔
15/06/21ء

الجواب حامداومصلیا ومسلماامابعد
1. زید نے ایک بیٹے (مثلاعمر) کو اپنی زندگی میں جو مکان دیاتھا اس سلسلہ میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ وہ مکان صرف رہنے کے لیے اسے دیاتھا یا بطورعطیہ دیا تھا…؟،
اگرصرف رہنے کے لیے دیاتھا توچونکہ بوقتِ وفات وہ مکان زیدکی ملک میں ہے،اس لیےاس مکان میں تمام شرکاءحصے دار ہیں۔(1)
اور اگربطورِعطیہ دیکر بیٹے کو زید نے مالک بنا دیا تھا تو اس مکان کا مالک تنہا وہی بیٹا ہوگا، اس میں وراثت نہیں جاری ہوگی۔(2)
2. بشرطِ صحتِ سوال حقوق متقدمہ علی الارث (تجہیز وتکفین،قرض کی ادائیگی،ایک تہائی متروکہ سے جائزوصیت اگر کی ہو تو اس کی تنفیذ) کے بعد زیدکی جملہ متروکہ جائداد 72حصوں میں تقسیم ہوگی۔ اس میں ثمن آٹھواں یعنی نو حصے زید کی زوجہ کو (3)اور باقی بیٹی و بیٹوں کے درمیان لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِین کے قاعدے کے مطابق اس طرح تقسیم ہوں گے کہ لڑکی کے مقابل ہر لڑکے دوتہائی ملیں گے۔ اس طرح چاروں لڑکوں میں ہر ایک کو 14، 14حصے اور لڑکی کو7حصے ملیں گے۔ (4)
3. سٹی سروے والے مکان کا مالک اگر زید تھا تواس میں اس کی بیوی، چاروں بیٹے اور ایک بیٹی الغرض تمام ورثاء شریک ہیں۔ بیٹی جس کانام سروے میں نہیں ہے وہ بھی حصے دار ہے۔ محض نام نہ ہونے کی وجہ سے بیٹی باب کی متروکہ جائیداد سے محروم نہیں ہوگی۔ (5)
4. اس مکان کی وجہ سے دیگرمتروکہ کسی بھی جائیداد میں اس بیٹے کا حصہ ختم یا کم نہیں ہوگا۔جس کو اپنی زندگی میں زید نے ایک مکان بطور عطیہ دیدیاتھا(6)
البتہ والد کی زندگی میں والد سے مکان حاصل کرنے والا بیٹا اپنے دیگر بھائیوں کی رعایت میں حاصل کردہ مکان کی مقدارِجائیدا میں وراثت سے دست بردارہوجائے تو بہتر ہے(7)۔
لیکن اس دست برداری کے لیے اس پردیگرورثاء دباؤ نہیں ڈال سکتے ہیں۔

(1) لِّلرِّجَالِ نَصيِبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاء نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا(النساء7 )
(2) عن الثوری عن منصور عن ابراھیم قال:الھبۃ لاتجوز حتی تقبض.(مصنف عبدالرزاق: ج9ص107)۔
فی الدر المختار: وشرائط صحتھا فی الموھوب:ان یکون مقبوضا غیرمشاع.
وفی الردالمحتار: قولہ مشاع؛ ای فیمایقسم.(الردالمحتار: ج4/ص567)
ومن وھب شقصا مشاعا،۔۔۔فان قسمہ وسلمہ جاز، لان تمامہ بالقبض وعندہ لاشیوع۔(ھدایۃ آخرین:ص288)
(3) فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ ۚ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ ( النساء، آیت 12)
(4)لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ (الآية 11سورة النساء)
(5)و(6) لِّلرِّجَالِ نَصيِبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاء نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا(النساء7)
(7) وَلَا تَنسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (البقرۃ آیت237)
فقط واللہ اعلم بالصواب

کتبہ:
(مفتی) محمد اشرف قاسمی
خادم الافتاء:شہرمہدپور، ضلع:اُجین (ایم۔پی)

8ذی القعدہ 1442ء
مطابق 19جون2021ء
[email protected]

تصدیق: مفتی محمد سلمان ناگوری

ناقل:محمد فیضان خان، مہدپور،اُجین۔

You might also like