فکرامروزمضامین ومقالات

بہار اسمبلی الیکشن: لمحوں نے خطا کی صدیوں نے سزا پائی

مظفراحسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت میڈیا گروپ
بہار کی سیا ست نے اس وقت زبردست موڑ لیا جب خود کو سیکولر کہنے والا ملائم سنگھ یادو نے عظیم اتحاد کے ساتھ گویا دغا کیا ,فکر کی سلامتی میں اس طرح بدلاؤ آئیگا کسی سنجیدہ ملک سے وفا کرنے والی ذہنیت نے سوچا بھی نہیں ہوگا ,انا کی آگ کو خواہشات کی کڑھائی میں اس طرح تلا بھنا جاسکتا ہے , گذرے کل کی تاریخ میں مظفر نگر کو اس لئے جلایا گیا تھا کہ اس سے سماج وادی کی شبیہ کو داغ لگے گا ,امت شاہ کی پوری فوج نے ایسی گھناؤنی حرکت کی جس کی تاریخ میں بہت کم مثال ملتی ہے ,اس کے باوجود فسطائی طاقتوں کو بہار میں سماج وادی کے ذریعہ پنپنے کا موقعہ فراہم کرنا کس طرح درست کہا جاسکتا ہے ,جنتا پریوار کا اتحاد اور پھر اس طرح انتشار پوری سیکولر ذہنیت کے لئے ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے , یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملائم سنگھ کا بہار کے سیکولر رائے دہندگا ن پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں ہے , لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ کچھ ہی سہی جو بھی ووٹ ترٹھ فرینٹ کو ملے گا وہ سیکولر ہی کا ہوگا ,اسی طرح بعض وہ جھوٹی بڑی پارٹیاں جو سیکولر کے نام پر اپنی سیاسی روٹی سیکتی رہتی ہے بھی پورے دم خم کے ساتھ میدان جنگ میں کودنے کو تیار بیٹھی ہے ,سیمانچل کی سرزمین سے تعلق رکھنے والے مدھے پورہ پارلیمانی حلقہ کے ممبر پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپو یادو جو اس علاقے میں اپنی بے پناہ طاقتوں اور مسلمانوں کی مدد کے لئے جانے جاتے ہیں غریبوں کی بروقت مدد ,ہوسپیٹلوں میں مریضوں کے لئے ڈاکٹروں کے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور مظلوموں کے زخم پر مرہم رکھنے بچھڑوں اور دلتوں کی آواز سے آواز ملا کر اسے طاقت بخشنے کے لئے مشہور ہیں ,نے اپنی پارٹی کی جانب سے امیدوار کھڑے کئے جانے کا اعلان کردیا ہے , جو نہایت ہی افسوس ناک ہے ,کل تک بی جے پی کے خلاف چیخ کر اس کے قلعہ کو اکھاڑپھیکنے کا عزم رکھنے والا پہلوان اب اس کی جڑوں کو مضبوط کرنے کا حوصلہ جٹارہا ہے , جس نے ہمیشہ سیکولرزم کے دم پر آسمان کی بلندیوں کو چھوا ہے آج وہی سیکولرزم کی دیوار کو کمزور کرنا چاہتا ہے اور ان سیڑھیوں کو توڑ دینا چاہتا جس نے اسے زندگی کی ہر موڑپر اونچائی تک پہونچایا تھا ,ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ پپو یادو کا یہ فیصلہ کہیں بہت بڑی تاریخی غلطی ثابت نہ ہوجائے ,اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہونا چاہئے کہ سہرسہ ,مدھیپورہ ,پورنیہ اور کٹیہار کا بعض علاقہ پپو یادو کے سیاسی اثر اور بے شمار کارہائے نمایاں کے زیر اثر ہے ,ان علاقوں سے اگر ان کی پارٹی اپنے امیدوار لاتی ہے تو یقینا عظیم اتحاد کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ,لیکن یہ نقصان کسی ایک فرد یاجماعت کا نہیں ہوگا بلکہ اس سے اس فکر کا نقصان ہوگا جو اس ملک کو ایسے لوگوں کے گرفت سے بچانا چاہتے ہیں , جو ملک کو دوحصوں میں باٹنا چاہتے ہیں ,جو زخم سے چور ہندوستان کو دیکھ کر تالیاں پیٹتے ہیں ,جومظلوموں کی آنسووں سے دل کی گرمی کو سرد کرنا چاہتیہیں,یتیموں کی آہ وفغاں جس نے آسمان کی بلندی ,سمندر کی لہروں ,آسمان پر تیرتے بادلوں ,پرندوں کی چہچہاہٹ ,گل ولالہ ,شجروحجر,تک کو آنسو بہانے پر مجبور کیا ,کیا اس پس منظر میں ان طاقتوں کو حوصلہ بخشنا کسی طرح درست کہا جاسکتا ہے ۔ وہیں دوسری طرف پپویادو نے ایسے مسلمانوں کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اپنے اسمبلی حلقہ میں سیاسی اور سماجی اعتبار سے کسی طرح کی کوئی شناخت نہیں ہے ,ہاں اتنا ضرور ہے کہ ان کے کاروبار ملک کے بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر ہیں ,موسم سرماں میں علاقہ کے غریبوں کے لئے کچھ گرم کپڑوں کو تقسیم کرتے ہیں ,یا پھر رمضان اور عیدین کے موقعہ پر فوڈ پیک تقسیم کرکے غریبوں کی عید کو ہلکی مسکراہٹ عطا کرتے ہیں اور زکوۃ کی رقم کو علاقہ کے مدرسوں میں چھینٹ کر چلے جاتے ہیں اور پورے علاقہ میں مال کے میل کچیل کے ذریعہ تعاون کرنے کو احسان سمجھتے ہیں,اور انہی بنیادوں کی وجہ ہمارے بعض مدارس کے ذمہ دار یاپھر محصل ان کے نام کو تسبیح کے دانوں پر پڑھنا کار خیر جانتے ہیں , بس اس سے زیادہ ان کا علاقہ سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ہے,اب اگر ایسے مسلمان جن کو عہدوں کی خواہش نے اسمبلی الکشن کے لئے مجبور کیا ہو تو کیا کہا جاسکتا ہے ,اور کیا ان سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ سسکتی ,کڑھتی ,زخم خوردہ امت کی مسیحائی کرپا ئنگے یا پھر سیکولر ووٹ تقسیم ہوکر فسطائی طاقتوں کی کمر سیدھی ہو جائیگی , بہت معذرت کے ساتھ میں یہ ہرگز نہیں کہنا چاہتا کہ مسلما نوں کو ان موقعوں پر حوصلہ نہیں کرنا چاہئے میرا مطلب صرف اتنا ہے کہ موجودہ وقت نہایت ہی آز مائش کا ہے اور قدم پھونک پھونک کر رکھنے کا ہے ,کہیں ایسا نہ ہو کہ جذباتی مسلمان وہ کام کرجائیں جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔
دوسرے الیکشن کے مقابلہ میں اس کی اہمیت اس لئے بڑھ جاتی ہے کہ آج فسطائی طاقتیں سر چڑھ کر بول رہی ہے ,اور وہ زہر اگلتے نظر آتے ہیں جسے بولنے کا شعور اور سلیقہ نہیں ہے ,اس لئے اس موقعہ سے اس بات کو ملحوظ رکھنا ہوگا کہ ہم سنجیدگی کے ساتھ الکشن میں آنکھ کان کھول کر موجود رہیں اور بہار سے باہر رہنے والے مسلمانوں کو بھی اس اہم موقعہ پر آکر ملک کو بچانے کی ضرورت ہے,اور ہوشمندی کے ساتھ سیکولر طاقتوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ورنہ شاید آب کو یہ بھی کہنے کا موقعہ نہ ملے گا کہ
لمحوں نے خطا کی صدیوں نے سزاپائی
(مضمون نگاردارالعلوم سبیل الفلا ح جالے دربھنگہ بہار کے استاد ہیں: رابطہ، 9431402672)
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker