Baseerat Online News Portal

اردو کے نامور نقاد پروفیسر ابوالکلام قاسمی کا انتقال

دربھنگہ؍علی گڑھ۔ ۸؍جولائی:(رفیع ساگر) مقامی بلاک کے علم و ادب کی بستی دوگھرا گاوں باشندہ اردو کے نامور نقاد، مشرقی انتقادیات و شعریات کے ماہر، درجنوں کتابوں کے مصنف، سابق ڈین فیکلٹی آف آرٹ اور سابق صدر شعبہ اردو پروفیسر ابو الکلام قاسمی کا طویل علالت کے بعد علی گڑھ میں انتقال ہوگیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم سابق مکھیا مرحوم حافظ عبدالجلیل کے بڑے صاحبزادے تھے۔ان کی پیدائش 20 دسمبر 1950 کو ہوئی تھی۔ تقریبا 71 برس کی عمر میں اس دنیا کو لبیک کہہ گئے۔جیسے ہی ان کے انتقال کی خبر یہاں پہنچی صدمے کی لہر دوڑ گئی۔تین بھائیوں میں وہ سب سے بڑے تھے ۔مجھلے بھائی پروفیسر سیف الاسلام کا انتقال پہلے ہی ہوچکا ہے جبکہ چھوٹے بھائی ایڈووکیٹ عبدالعلام رانچی ہائی کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ ہیں۔پسماندگان میں بیوہ پروفیسر دردانہ قاسمی، پروفیسر تعبیر کلام، بی ایچ یو، تاثیر قاسمی اور سمیر قاسمی سمیت کئی شامل ہیں۔ان کے انتقال پر اپنے تعزیتی پیغام میں مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی نے کہا کہ وہ اپنی مفکرانہ صلاحیت سے ادبی تنقید کے الفاظ کو نیا زاویہ دئے جس کی پذیرائی صدیوں تک ہوتی رہے گی۔اسی طرح مولانا اسرار احمد شگفتہ نے کہا کہ مرحوم نے اردو ادب کو نئے تصورات جیسے جدیدیت، مابعد جدیدیت اور ساختیار پر بحث کر ہم سب کو ان تصوارت سے روبرو کرایا۔جبکہ پروفیسر ابصار عالم نے اپنے ردعمل میں کہا کہ یہ سال اردو دنیا کے لئے صدمہ بھرا رہا۔کئی بڑے نقاد جیسے شمس الرحمن فاروقی، شمیم حنفی اور کچھ ادبی شخصیت جیسے مشرف عالم ذوقی اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ پروفیسر ابوالکلام قاسمی صاحب بھی جمعرات کو داغ مفارت دے گئے ۔آہ اب کون مشرقی۔شعریات پر بات کرے گا۔ان کے انتقال پر پروفیسر عالمگیر، پروفیسر مسرور عالم، ماسٹر مفید عالم، ماسٹر امجد علی، ممتاز احمد ،ڈاکٹر سرفراز احمد، ماسٹر عبدالمغنی، ماسٹر شہاب الدین، سابق مکھیا نور عالم، بوکھڑا بلاک کے نائب پرمکھ آفتاب عالم منٹو، مولانا جابر حسین، صابر انصاری، سرفراز احمد، مظاہر حسین، فضل عالم، ماسٹر شمس الضحی جوہی، ماسٹر ایم اے شمسی، مختار احمد، نورالحسن، ذاکر حسین، محمد ارشد، نسیم اختر، قاری شمیم اختر ندوی، شاہد وصی، ڈاکٹر بدرالدجی بدر، کشف الدجی لڈن،شمیم احمد ربانی وغیرہ نے گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔

You might also like