شمع فروزاں

اورنگ زیب عالمگیرؒ تاریخ کا مظلوم حکمراں (۲)

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
غرض کہ اورنگ زیب ؒ نے قدیم سڑکوں اور سرایوں کی مرمت ، نئی سڑکوں اور مسافر خانوں کی تعمیر ، تعلیمی اداروں اور عبادت گاہوں کو جاگیروں کے عطیہ وغیرہ کے جو رفاہی کام کئے ، ان کے علاوہ مختلف دوسرے میدانوں میں جو خدمتیں انجام دی ہیں ، وہ بھی آبِ زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں ، اس کی رحمدلی ، انصاف پروری اور عفو و درگزر کا ان لوگوں نے بھی اعتراف کیا ہے ، جو اس کو ایک خشک مزاج ، ناروادار اورسخت گیر حکمراں قرار دیتے ہیں ، اس نے ہمیشہ اپنے حریفوں کے ساتھ خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم ، سنی ہوں یا شیعہ ، پٹھان ہو ںیا مراٹھے وراجپوت ، زیادہ سے زیادہ صلح اور درگزر کی پالیسی اختیار کی ، خود شیواجی کو جس طرح انھوںنے بار بار معاف کیا اور اس کے بیٹے کو گلے لگایا ، یہ اس کی بہترین مثال ہے ، مگر افسوس کہ انگریزوں نے ہندوستان کی دو بڑی قوموں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوار قائم کرنے کی جو منصوبہ بند کوشش کی ، اس میں مغلوں کے دورِ حکومت کو عموماً اور آخری پُر شوکت مغل بادشاہ اورنگ زیبؒ (جس کو انگریز اپنے راستہ میں رکاوٹ سمجھتے تھے ) کے بارے میں خصوصاً بڑی غلط فہمیاں پھیلائیں اور بعض مصنفین نے ان کا آلہ کار بنتے ہوئے ایسی کتابیں تصنیف کیں ، جن کو تاریخ اور واقعہ نگاری کے بجائے ناول نگاری اور افسانہ نویسی کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا ، انھوں نے ایسی بے بنیاد باتیں لکھ دیں جن کا حقیقت اور واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ، اورنگ زیبؒ کو ایک ہندو دشمن حکمراں کی حیثیت سے پیش کیا گیا اور اس کے لئے اورنگ زیب ؒ اور شیواجی کی جنگ کو بنیاد بنایا گیا ؛ حالاںکہ یہ ایک سیاسی جنگ تھی نہ کہ مذہبی ، اور نگ زیبؒ اور شیواجی کی جنگ میں اورنگ زیبؒ کا سب سے معتمد کمانڈر ایک راجپوت راجہ جے سنگھ تھا ، اس کے علاوہ رائے سنگھ ، راجہ سبحان سنگھ ، کیرت سنگھ ، مترسین ، اندرا من بندیلہ ، راجہ نرسنگھ گوڑ ، جگت سنگھ ، ستر سنگھ اور راج سنگھ ، چتر بھوج چوہان اور بے شمار راجپوت اور مراٹھے سردار اورنگ زیبؒ کے ساتھ تھے اور اس کی فوج میں بھی بڑی تعداد پٹھانوں ، راجپوتوں اور شیواجی کے مخالف مراٹھوں کی تھیں ۔
اورنگ زیبؒ کے عہد میں جو غیر مسلم حکومت کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے ہیں ، ان میں کئی مرہٹے ہیں ، جن میں شیواجی کے داماد اوربھتیجے بھی شامل ہیں ، علامہ شبلیؒ نے ان کا نام بہ نام ذکر کیا ہے ، جن کی تعداد ۲۶ ہے ، خود شیواجی کو بھی اورنگ زیبؒ نے پنج ہزاری منصب عطا کیا تھا ، جو بڑا منصب تھا ، اور جس پر بادشاہ کے بعض شہزادے ، قریبی رشتہ دار اور معتمد عہدہ دار فائز تھے ؛ البتہ شیواجی ہفت ہزاری چاہتے تھے ، مگر راجپوت اور پٹھان اعیانِ حکومت اس کے حق میں نہیں تھے۔
دوسری طرف شیواجی کے تعلقات بیجاپور اور جنوبی ہند کی مختلف چھوٹی چھوٹی مسلم حکومتوں کے حکمرانوں سے تھے اور ان ہی کی درپردہ یاعلانیہ تائید و تقویت سے وہ مغلوں پر حملہ کرتے تھے ، خود اورنگ زیبؒ کو دیکھئے کہ اس نے اپنے بھائیوں سے بھی جنگ کی ، گولکنڈہ کی قطب شاہی مسلم حکومت پر بھی قبضہ کیا ، بیجاپور کی مسلمان سلطنت کو بھی اپنی مملکت کا حصہ بنایا اور کتنے چھوٹے بڑے مسلم حکمرانوں کے ساتھ جنگ کرنے کی نوبت آئی ، نیز خود شیواجی کی فوج میں کثیر تعداد میں مسلمان فوجی شامل رہے ، خاص کر جب اورنگ زیبؒ نے دکن میں اپنی فوج میں کسی قدر تخفیف کی تو یہ فوج بھی ٹوٹ کر شیواجی کے ساتھ جاملی ۔
تصویر کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ شیواجی جو مغلوں کے خلاف گوریلا جنگ لڑا کرتے تھے ، وہ گاؤں کے گاؤں لوٹ لیا کرتے تھے ، قلعوں کو تخت و تاراج کردیا کرتے تھے ، یہ لوٹ مار ان کی مستقل حکمت عملی تھی ، اس میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی کوئی تفریق نہیں ہوا کرتی تھی ، سورت اس زمانہ میں جنوبی ہند کی سب سے بڑی منڈی تھی ، جو بیرونی ممالک سے درآمد و برآمد کا بہت بڑا ذریعہ تھا ، یہاں غالب آبادی ہندوؤں کی تھی ، شیواجی موقع بموقع وہاں ایسا حملہ کرتے تھے کہ پورا شہر ویران ہوجاتا تھا ، کیا ہندو کیا مسلمان اور کیا ملکی اور کیا غیر ملکی ، سب کے سب ان حملوں سے پناہ چاہتے تھے ، ان حملوں میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی کوئی تفریق نہیں تھی ؛ بلکہ تاجروں کی غالب تعداد ہندوؤں کی تھی ، اس لئے ان کو زیادہ نقصان اُٹھانا پڑتا تھا ، یہاں تک کہ شیواجی جن کو مراٹھوں کا نجات دہندہ سمجھا جاتا ہے ، خود مراٹھوں کے خلاف بھی انھوںنے وہی کیا ، جو ہر بادشاہ اپنے اقتدار کی حفاظت کے لئے کیا کرتا ہے ، بیجاپور کے پہلے سلطان نے ایک مراٹھے خاندان کو ’ جاولی ‘ کا علاقہ عطا کیا ، جس نے ایک مضبوط ریاست بنائی اور یہ بتدریج کوکن کے پورے علاقہ پر قابض ہوگیا ، اس خاندان کے راجا کا خاندانی لقب چندر راؤ تھا ، شیواجی کا احساس تھا کہ جب تک چند راؤ کا قتل نہ کیا جائے اور اس کی سلطنت پر قبضہ نہ ہوجائے ، شیواجی جس وسیع سلطنت کا منصوبہ رکھتے ہیں ، وہ شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا ، اس لئے اس نے دھوکہ دے کر اس مرہٹہ راجا کو قتل کیا ، اس کے بھائی کو زخمی کیا اور اس کی سلطنت پر قابض ہوگئے ، غرض کہ اورنگ زیبؒ اورشیواجی کی جنگ کوئی مذہبی جنگ نہیں تھی ؛ بلکہ ایک سیاسی جنگ تھی ، جو حکمرانوں کے درمیان ہمیشہ ہوتی رہی ہے ، نہ اورنگ زیب نے اسلامی نقطۂ نظر سے یہ جنگ لڑی ہے اور نہ شیواجی کا حملہ ہندوؤں کے وقار کی حفاظت کے لئے ہوا ہے ۔
اورنگ زیب ؒ پر ایک الزام لگایا جاتا ہے کہ انھوں نے ہندوؤں کی عبادت گاہوں کو منہدم کیا ہے اور مندر شکنی کے مرتکب ہوئے ہیں ، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اورنگ زیبؒ کے عہد میں بعض مندر منہدم کئے گئے ہیں ؛ لیکن اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ اس کا سبب کیا تھا ؟ غیر جانبدار مؤرخین نے لکھا ہے کہ اورنگ زیبؒ نے انھیں مندروں کو منہدم کیا تھا ، جو غیر قانونی طورپر بنائے گئے تھے ، مثلاً اورچھا میں ببر سنگھ دیو کے بنائے ہوئے ایک مندر کو اورنگ زیبؒ نے منہدم کرادیا ؛ لیکن اس لئے کہ ببر سنگھ دیو نے اولاً تو ظالمانہ طورپر ابوالفضل کو قتل کیا اور پھر اسی کے سرمایہ سے وہ مندر بنایا ، یہی وجہ ہے کہ جب وہ مندر منہدم کیا گیا تو وہاں کے راجہ دیوی سنگھ نے کوئی اعتراض نہیں کیا ، یا اس نے ایسے مندروں کو گرایا ، جہاں حکومتوں کے خلاف سازشیں کی جاتی تھیں ، یا ایسے مندروں کو جہاں غیر اخلاقی حرکتیں کی جاتی تھیں ، جیسے بنارس کا وشوناتھ مندر ، ڈاکٹر بی ، ایم ، پانڈے نے اس کی تاریخ اس طرح بیان کی ہے کہ اورنگ زیب ؒ جب بنگال جاتے ہوئے بنارس کے قریب سے گذرے تو اس کی فوج میں شامل ہندو راجاؤں اور کمانڈروں نے وہاں ایک دن قیام کی درخواست کی ؛ تاکہ ان کی رانیاں گنگا اشنان کرسکیں اور وشوناتھ دیوتا کی پوجا کریں ، اورنگ زیبؒ راضی ہوگئے ، انھوںنے فوج کے ذریعہ حفاظت کا پورا انتظام کیا ، رانیاں اشنان سے فارغ ہوکر وشوناتھ مندر روانہ ہوئیں ؛ لیکن جب مندروں سے رانیاں واپس ہوئیں تو اس میں بعض موجود نہیں تھیں ، کافی تلاش کی گئی ، مگر پتہ نہیں چل سکا ، بالآخر تحقیق کاروں نے دیوار میں نصب گنیش کی مورتی کو ہلایا ، جو اپنی جگہ سے ہلائی جاسکتی تھی تو نیچے سیڑھیاں نظر آئیں ، یہ سیڑھیاں ایک تہہ خانہ کی طرف جاتی تھیں ، وہاں انھوںنے دیکھا کہ بعض رانیوں کی عصمت ریزی کی جاچکی ہے اور وہ زار و قطار رو رہی ہیں ؛ چنانچہ اورنگ زیب ؒکی فوج میں شامل راجپوت کمانڈروں نے اس مندر کو منہدم کردینے کا مطالبہ کیا ، اورنگ زیبؒ نے حکم دیا کہ مورتی کو پورے احترام کے ساتھ دوسری جگہ منتقل کردیا جائے اور چوںکہ ایک مقدس مذہبی مقام کو ناپاک کیا گیا ہے ؛ اس لئے اس کو منہدم کردیا جائے اور مہنت کو گرفتار کرکے سزا دی جائے ۔
یہ بھی ملحوظ رہے کہ اکبر کے دور سے صورت ِحال یہ تھی کہ بہت سی مسجدوں کو منہدم کرکے بُت خانے بنادئیے جاتے تھے ، ہندو مسلمان عورتوں سے جبراً نکاح کرتے تھے اور انھیں اپنے تصرف میں لاتے تھے ، جہانگیر اور شاہجہاں کے دور میں بھی یہی صورتِ حال باقی رہی ، اور خود اورنگ زیبؒ کی حکومت کے بارہویں سال تک یہی صورت حال تھی ، ممکن ہے کہ بعض مندروں کے انہدام کا یہی پس منظر ہو ، اگر واقعی اورنگ زیبؒ مندر شکن اور بُت شکن ہوتا تو اس کی وسیع سلطنت میں کتنے ہی قدیم اور بڑے بڑے مندر موجود تھے ، جو آج بھی برادرانِ وطن کی عقیدت کا مرکز ہیں ، کیا آج ان کا وجود ہوتا ؟ لیکن بہر حال مذہبی عبادت گاہوں کا انہدام ایک غلطی اور ایک غیر اسلامی فعل ہے ؛ لیکن یہ مذہبی جذبہ کے تحت کیا جانے والا عمل نہیں ہے ؛ چنانچہ یہ بات بھی قابل دکر ہے کہ اورنگ زیبؒ نے جہاں مندر منہدم کئے ہیں ، وہیں مسجد بھی منہدم کروائی ہے ، کہا جاتا ہے کہ سلطنت گولکنڈہ کے مشہور فرمانروا تانا شاہ نے سالہال سال سے شہنشاہ دہلی کو شاہی محصول ادا نہیں کیا تھا ، اس نے اپنی دولت کو چھپانے کے لئے ایک بڑا خزانہ زیر زمین دفن کرکے اس پر جامع مسجد گولکنڈہ تعمیر کرادی ، اورنگ زیبؒ کو کسی طرح اس کی اطلاع ہوئی تو اس نے اس مسجد کو منہدم کرادیا ، اور اس خزانہ کو رفاہ عام کے کاموں میں صرف کردیا ۔
افسوس کہ فرقہ پرست ، متعصب اور دروغ گو تذکرہ نگاروں نے اورنگ زیبؒ کی اس سخاوت اور وسیع النظری کا تذکرہ نہیں کیا ، جو اس کا اصل مزاج تھا ، اس نے مندروں کے ساتھ جس فراخدلی کا ثبوت دیا ، اس کا کوئی تذکرہ نہیں کیا جاتا ، اس سلسلہ میں ڈاکٹر بی ، ایم ، پانڈے نے چند مندروں کا خاص طورپر ذکر کیا ہے ، جیسے گوہاٹی کا مندر ، جب اورنگ زیبؒ نے آسام کے علاقہ پر قبضہ کیا تو اس نے نہ صرف اس مندر کی جاگیر کو باقی رکھا ؛ بلکہ حکم جاری کیا کہ یہ ہمیشہ کے لئے پجاری کا حق ہے ؛ تاکہ اس کی آمدنی وہ اپنے دیوتاؤں کے بھوگ کے لئے استعمال کرسکیں اور منہمک ہوکر عبادت کریں اور یہ بھی حکم جاری کیا کہ اس پر کوئی مال گذاری نہیں لی جائے ۔
اُجین میں مہا کالیشور مندر واقع ہے ، جس میں چوبیس گھنٹے چراغ روشن رہتا ہے ، جس کو ’ نندا دیپ ‘ کہتے ہیں ، اس چراغ کو روشن رکھنے کے لئے راجاؤں کے عہد میں چار سیرگھی دیا جاتا تھا ، مغلوں اور خود اورنگ زیبؒ کے دور میں بھی ٹھیک اسی طرح اس کو باقی رکھا گیا ، اورنگ زیبؒ نے احمدآباد میں ناگر سیٹھ کو شترنجے اور آبو کی مندروں کی تعمیر کے لئے وسیع اراضی عطا کیں اور اس کے لئے سند بھی جاری کی ، ڈاکٹر ، بی ، ایم ، پانڈے نے اپنی کتاب ’’ ہندو مندر اور اورنگ زیب کے فرامین ‘‘ میں اورنگ زیبؒ کے چھ فرامین کی فوٹو کاپی اور فارسی متن کے ساتھ ان کا ترجمہ نقل کیا ہے ، یہ سب فرامین مندروں ، ان کے پجاریوں اور مذہبی پیشواؤں کی جاگیروں کے سلسلہ میں ہیں ، یہ کس قدر ناانصافی کی بات ہے کہ ایسے بادشاہ کے بارے میں آج بالکل یکطرفہ بیانات دیئے جارہے ہیں ۔
کاش فرقہ پرست عناصر کبھی اس بات پر بھی غور کرتے کہ خود ہندوؤں نے کس طرح بودھوں کی خانقاہوں ، جینوں کے مندروں اورمسلمانوں کی مسجدوں کو منہدم کیا ہے ، خود شیواجی نے ستارہ ، پارلی ، اور زیر قبضہ آنے والے علاقوں میں مسجدوں کی اینٹ سے اینٹ بجادی ، ایلورا اور اجنتا میں بودھوں کو یہ کیوں کرنا پڑا کہ اپنی عظیم الشان خانقاہوں کو مٹی سے ڈھانپ دیں ؛ تاکہ وہ ہندوؤں کی دست برد سے محفوظ رہ سکیں ، آج بھی جگن ناتھ مندر ہندوؤں کی زیادتی کی گواہ بن کر کھڑا ہے ، جو دراصل بودھوں کا مندر تھا ، اور جس پر زبردستی ہندوؤں نے قبضہ کرلیا ، ۱۹۴۷ء اور ۱۹۴۸ء میں ہزاروں مسجدیں شہید کردی گئیں ، اندراجی کے دور میں سکھوں کی سب سے مقدس عبادت گاہ گولڈن ٹمپل اور اکال تخت کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی ، گجرات کے ۲۰۰۲ء کے فساد میں کتنی ہی مسجدیں شہید کردی گئیں اور حکومت نے اس کی تعمیر نو کرنے سے انکار کردیا ، کیا فرقہ پرست عناصر سچائی کی نشاندھی کرنے والے اس آئینہ میں بھی اپنا چہرہ دیکھنا گوارہ کریں گے ؟
اورنگ زیب ؒکے فرد جرم میں اس بات کو بھی شامل کیا گیا ہے کہ اس نے ہندوؤں پر جزیہ لگادیا تھا ؛ لیکن اس بات پر غور نہیں کیا گیا کہ اس نے ۸۰ قسم کے ٹیکس معاف کردیئے ، جن میں کئی ٹیکسوں کا تعلق ہندوؤں سے تھا اور جزیہ ان پر اس لئے عائد کیا گیا کہ مسلمانوں سے زکوٰۃ لی جاتی تھی ، اگر ہندوؤں سے بھی زکوٰۃ لی جاتی تو یہ ان کو ایک اسلامی عمل پر مجبور کرنا ہوتا ، اور مذہبی آزادی کے تقاضے کے خلاف ہوتا ، اس لئے اسلام نے غیرمسلم شہریوں پر الگ نام سے یہ ٹیکس مقرر کیا ہے اور اس کی مقدار نہایت قلیل ہے : فی کس بارہ درہم یعنی ۱۳ ؍تولہ چاندی سے بھی کم ، پھر شریعت کے حکم کے مطابق اورنگ زیبؒ نے عورتوں ، بچوں ، مذہبی پیشواؤں ، معذروں اور غریبوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا اور جزیہ کے بدلہ غیر مسلم عوام کے تحفظ کی گارنٹی دی گئی ۔
ان سب کے باوجود ہمیں یہ حقیقت ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اورنگ زیبؒ کوئی عالم ، مفتی اور صوفی نہ تھا ایک سیاسی قائد اور حکمراں تھا ، بھائیوں کا قتل ہو یا بعض سکھ رہنماؤں کا ، مندروں کا انہدام ہو یا مسجدوں کا ، یہ سیاسی مقاصد کے تحت تھے ، یہ غلط ہوسکتے ہیں ؛ لیکن اس کو مذہب کی جنگ قرار دینا اس سے زیادہ غلط ہے ، اورنگ زیب ؒسے متعلق میڈیا میں جو بحث جاری ہے ، وہ علم و تحقیق کے بجائے غلط فہمی اور جذبات پر مبنی ہے ، جو لوگ اس معاملہ کی سچائی کو جاننا چاہیں اور غیر جابندارانہ مطالعہ کرنا چاہیں ، انھیں علامہ شبلی نعمانی کی ’’ اورنگ زیب عالمگیرؒ پر ایک نظر ‘‘ ، سید صباح الدین عبد الرحمن کی ’’ مسلمان حکمرانوں کی مذہبی رواداری ‘‘ ( جلد سوم ) ، مولوی ذکاء اللہ کی ’’ اورنگ زیب عالمگیرؒ ‘‘ ، مولانا نجیب اشرف ندوی کی ’’ مقدمہ رقعات عالمگیر‘‘ اور ڈاکٹر ، بی ، ایم ، پانڈے کی ’’ ہندو مندر اور اورنگ زیب عالمگیر کے فرامین ‘‘ کا مطالعہ کرنا چاہئے ؛ لیکن اس وقت ایک بڑا کام یہ ہے کہ کچھ حقیقت پسند ، غیر جانبدار ، انصاف پسند ہندو اور مسلمان اٹھیں اور سندھ میں مسلمانوں کی آمد سے لے کر برطانیہ سے ہندوستان کی آزادی تک کی تاریخ اس طورپر لکھیں ، جو فرقہ وارانہ تاثرات سے خالی ہو ، جس میں ہر طبقہ کی خدمات کا اعتراف کیا جائے ، جس میں بادشاہوں اور راجاؤں کی جنگ کو ایک سیاسی جنگ کی نظر سے دیکھا جائے نہ کہ مذہبی جنگ کی حیثیت سے ، جس میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان باہمی رواداری اور اُخوت و بھائی چارہ کو نمایاں کیا جائے ، جو محبت کی خوشبو بکھیرے نہ کہ نفرت کا تعفن ، یہ ایک ضروری کام ہے ، جس کی طرف تحقیقاتی اکیڈمیوں ، تعلیمی اداروں ، ملی تنظیموں ، قومی اداروں اور باصلاحیت اور منصف مزاج دانشوروں کو توجہ دینی چاہئے ، جیسے ہمارے ہندو بھائیوں کے مذہبی مآخذ میں کوروؤں اور پانڈوؤں کی تباہ کن جنگوں کا ذکر موجود ہے ، یا ’ منوسمرتی ‘ میں شودروں کے خلاف تحقیر و تذلیل کا واضح اوربھرپور تذکرہ ہے ؛ لیکن ان کو نفرت کی تبلیغ کا ذریعہ نہیں بنایا گیا ، اسی طرح ہم ہندو و مسلم حکمرانوں کی آپسی لڑائیوں کو بھی نفرت کی اشاعت کا ذریعہ نہ بنائیں ۔
(بصیرت فیچرس)
٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker