Baseerat Online News Portal

گوشت خوری : مذہب اور قانون فطرت کی روشنی میں !

فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی
کارگزارجنرل سکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ
اسلام نے جہاں انسان کو اپنے کرم سے سرفراز فرمایا ، وہیں بے زبان جانوروں کو بھی اپنی رحمت ِبے کراں سے مالا مال کیا ہے ، اسلام سے پہلے عربوں کے گزر بسر کا ذریعہ یہی جانور تھے ، ان کا دُودھ غذا کا کام دیتا تھا ، ان کی پشت سواری اور بار برداری کا سب سے بڑا ذریعہ تھی ، ان کی تجارت کا دارو مدار ان ہی سواریوں پر تھا ، ان کے چمڑوں سے بھی مختلف کام لئے جاتے تھے ؛ لیکن ان سب کے باوجود جانوروں کے ساتھ ان کا سلوک بڑا بےرحمانہ تھا ، آپ ﷺ نے اس کو منع فرمایا ، جانور کے منھ پر مارنے کی ممانعت کی ، (سنن ابوداؤد ، حدیث نمبر : ۲۵۶۴) لوگ جانوروں کو باہم لڑاتے اور اس کا تماشہ دیکھتے تھے، آپ ﷺ نے اس درندگی کو روکا ، (سنن ابو داؤد ، حدیث نمبر : ۲۵۶۲) جانور کی خوراک اور ضروریات کی رعایت کرنے کا بھی حکم دیا ، ایک اُونٹ کو دیکھا کہ اس کا پیٹ پشت سے لگا ہوا ہے ، آپ ﷺنے فرمایا : ان کے معاملہ میں خدا سے ڈرو ، ( سنن ابوداؤد ، حدیث نمبر : ۲۵۴۸) آپ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ اگر سر سبز و شاداب موسم میں سفر کرو تو آہستہ چلاؤ اور جانور کو اس سے فائدہ اُٹھانے کا موقع دو ، اور قحط کا موسم ہو تو تیز تیز چلاؤ ، ( سنن ابو داؤد ، حدیث نمبر : ۲۵۶۹) آپ ﷺنے اس بات کی بھی تلقین کی کہ جو جانور جس کام کے لئے ہے ، اس سے وہی کام لو ؛ اس لئے آپ ﷺ نے جانور کو منبر (اسٹیج ) بنانے سے منع فرمایا ، ( سنن ابو داؤد ، حدیث نمبر : ۲۵۶۹) مطلب یہ ہے کہ جانور کو اسٹیج کے طور پر استعمال نہ کیا جائے ؛ کیوںکہ رُکی ہوئی حالت میں بوجھ کا احساس بڑھ جاتا ہے ، چلتی ہوئی حالت میں کم ہوتا ہے ۔
آپ ﷺنے فرمایا کہ آخرت کا ثواب وعذاب جانوروں کے ساتھ اچھے اور بُرے سلوک سے بھی متعلق ہے ، قیامت کے دن ایک عورت محض اس لئے دوزخ میں ڈالی جائے گی کہ اس نے ایک بلی کو باندھ رکھا تھا ، اسے اس کا موقع نہیں دیا گیا کہ وہ خود کھائے اور دوڑدھوپ کر اپنی ضرورت پوری کرے ، (بخاری، باب فضل سقی الماء حدیث نمبر: ۲۳۶۵) اور ایک شخص اس بناء پر جنت میں داخل کیا جائے گا کہ اس نے ایک پیاسے کتے کی پیاس دُور کی ہوگی اور اسے پانی پلایا ہوگا ، (بخاری، باب فضل سقی الماء، حدیث نمبر: ۲۳۶۳) آپ ﷺ نے فرمایا کہ انسان کی لگائی ہوئی کھیتیوں میں سے چرند و پرند جو کھالیں ، اس پر بھی صدقہ کا ثواب ہے ۔ ( صحیح بخاری، باب فضل الزرع والفرس، حدیث نمبر: ۲۳۲۰)
اسلام نے گوشت خوری کو لازم تو نہیں کیا ہے ، مگر اس کی اجازت ضرور دی ہے ؛ لیکن بلا وجہ جانوروں کو مارنے کے درپے ہونا درست نہیں ہے ، کسی صاحب نے ایک گوریا پکڑ رکھی تھی اور اس کی ماں بے قرار تھی، آپ ﷺ نے اس پر ناگواری کا اظہار فرمایا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ بلا ضرورت ایک گوریّا کو ذبح کرنے پر بھی جواب دہی ہے ؛ (السنن الکبریٰ للنسائی، باب من قتل عصفوراً بغیر حقہا، حدیث نمبر: ۴۵۱۹) اسی لئے جو چیزیں انسانی کام نہیں آتیں ، آپ ﷺنے ان کو مارنے سے منع فرمایا ، چیونٹی ، شہد کی مکھی اور ھُدْ ھُدْ وغیرہ کے مارنے کی آپ ﷺ نے صراحتاً ممانعت فرمائی ، (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر: ۵۷۲۸) کسی جاندار کے جلانے کو آپ ﷺ نے شدت سے روکا ہے ، ایک دفعہ لوگوں نے ایسی جگہ چولہا سلگایا ، جہاں چیونٹی کے بِل تھے ، آپ ﷺنے چولہا بجھانے کا حکم دیا ، (سنن ابی داؤد، باب فی قتل الذر، حدیث نمبر: ۵۲۶۸) خود حدیث میں ایک پیغمبر کا ذکر ہے ، جن کے حکم سے چیونٹیاں جلائی گئی تھیں ، اسی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا ۔ ( صحیح مسلم ، حدیث نمبر : ۲۲۴۱)
بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ اسلام نے گوشت خوری کی اجازت دے کر بے رحمی کا ثبوت دیا ہے ، ہمارے بعض ناواقف ہندو بھائیوں کے یہاں تو اسلام نام ہی گوشت خوری کا ہے ، اس سلسلہ میں اول تو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ہندوستانی مذاہب کے سوا دُنیا کے تمام مذاہب میں گوشت خوری کی اجازت دی گئی ہے اور گوشت کو ایک اہم انسانی غذا تسلیم کیا گیا ہے ، ہندوستانی نژاد مذاہب میں بھی حقیقت یہ ہے کہ سوائے ’’ جین مذہب‘‘ کے ، تمام مذاہب میں گوشت خوری کا جواز موجود تھا ، بودھ مذہب میں بھی گوشت کھایا جاتا تھا ، بعد میں انھوں نے اہنسا کا تقاضا سمجھا کہ گوشت خوری ترک کردی جائے ، اس لئے منع کردیا گیا ، آج کل ہندو بھائیوں کے یہاں یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ ان کے یہاں گوشت خوری سے منع کیا گیا ہے ؛ لیکن یہ محض اپنے مذہب اور اپنی تاریخ سے ناواقفیت ہے ، خود ویدوں میں جانوروں کے کھانے پکانے اور قربانی کا تذکرہ موجود ہے، رگ وید میں ہے :
اے اندر ! تمہارے لئے پسان اور وشنو ایک سو بھینسیں پکائیں ۔ (رگ وید :۶؍ ۱۱-۱۷)
یجر وید میں گھوڑے ، سانڈ ، بیل ، بانجھ گایوں اور بھینسوں کو دیوتا کی نذر کر نے کا ذکر ملتا ہے ۔ ( یجروید، ادھیائے : ۲۰؍۷۸)
منوجی نے مختلف مواقع پر نہ صرف گوشت کھانے کی اجازت دی ہے ؛ بلکہ اس کی ترغیب بھی دی ہے اور جو شخص اس سے انکار کرے اس کو اگلے جنم میں سزا کا مستحق قرار دیا ہے ؛ چنانچہ فرماتے ہیں :
= گوشت خور روزانہ شکار کرتا اور گوشت کھاتا ہے ، اور یہ کوئی گناہ نہیں اس لئے کہ کھانے والے اور کھائے جانے والے دونوں کو خالق نے ( اسی مقصد کے لئے ) پیدا کیا ہے ۔ (منو ، باب : ۵ ، اشلوک : ۳۰)
= ایک شخص جو گوشت خوری سے انکار کرتا ہے ، مرنے کے بعد اکیس جنم تک جانور کے روپ میں رہتا ہے ۔ ( منو ، باب : ۵ ، اشلوک : ۴۵)
منوجی یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اگر جانور قربانی کے لئے ذبح کیا جائے ، تو یہ قتل کرنا نہیں ہے :
خود سومبھو نے جانوروں کو قربانی کے لئے پیدا کیا ، یگیہ کل ( عالم ) کی بھلائی کے لئے ہیں ؛ چنانچہ ( جانوروں کا ) یگیہ کی غرض سے ذبح کرنا قتل کرنا نہیں ہے ۔ ( منو ، باب : ۵ ، اشلوک : ۳۹)
منوسمرتی میں کہا گیا ہے :
مچھلی کے گوشت سے دو ماہ تک ، ہرن کے گوشت سے تین ماہ تک ، بھیڑیئے کے گوشت سے چار ماہ تک اور پرند جانور کے گوشت سے پانچ مہینے تک پتر آسودہ رہتے ہیں ۔ (منوسمر تی ، ادھیائے : ۳ ؍۲۶۸)
یہ مضمون مہابھارت میں بھی موجود ہے ؛ چنانچہ مہا بھارت میں یدھشٹر اور بھیشم کا مکالمہ اس طرح نقل کیا گیا ہے :
یدھشٹر نے کہا : اے مہا شکتی شالی ! مجھے بتا کہ وہ کیا چیز ہے جسے اگر اپنے پُر کھوں کی روحوں کو بھینٹ کروں تو وہ کبھی ختم نہ ہو ، وہ کیا بھینٹ ہے جو ہمیشہ باقی رہ جائے ؟ وہ کیا ہے جو لافانی ہوجائے ؟
بھیشم نے کہا : میری بات سن ! اے یدھشٹر ! وہ نذر کیا ہیں جو کوئی شخص شردھا میں چڑھائے اور جو شردھا کے لئے اچھی ہوں اور وہ کیا پھل ہیں جو ہر ایک کے ساتھ جوڑے جائیں ، تل اور چاول اور جو اور ماش اور پانی اور جڑیں اور پھل ، اگر انھیں شردھا میں نذر کیا جائے تو اے بادشاہ ! تیرے پرکھوں کی آتمائیں دو مہینے تک خوش رہیں گی ، ( بھیڑ کے ) گوشت کی قربانی انھیں تین مہینوں تک اورخرگوش کی قربانی چار مہینوں تک خوش رکھے گی ، بکری کے گوشت کی قربانی سے وہ پانچ مہینوں تک ، سور کے گوشت سے چھ مہینوں تک خوش رہیں گے ، اور پرندوں کے گوشت انھیں سات مہینوں تک خوش رکھے گا ، ایک ہرن کا گوشت جسے پریشاتا کہتے ہیں اورگوایا کا گوشت دس مہینے تک اور بھینس کے گوشت کی قربانی انھیں گیارہ مہینے تک خوش رکھے گی ، یہ کہا جاتا ہے کہ شردھا پردی کی گئی گائے کے گوشت کی قربانی ایک سال تک باقی رہتی ہے ، قربانی کے گوشت کی بھینٹ ایک سال تک باقی رہتی ہے ، قربانی کے گوشت کے ساتھ اتنا گھی ملایا جائے کہ وہ تیرہ پرکھوں کی آتماؤں کو بارہ برس تک خوش رکھ سکے ۔ ( مہا بھارت ، انوساشن بھیروا ، تیرہویں کتاب ، ادھیائے : ۸۸)
خود گاندھی جی نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ایک زمانہ تک ہندو سماج میں جانوروں کی قربانی اور گوشت خوری کا عمل عام تھا ، اور ڈاکٹر تاراچند کے بقول ویدک قربانیوں میں جانوروں کے چڑھاوے بھی ہوا کرتے تھے ۔
جس ذات نے انسانوں کو اور دنیا کی تمام چیزوں کو پیدا فرمایا ہے اس نے بھی ہمارے وجود میں فطرت کے اشارے رکھے ہیں جو بتاتے ہیں کہ انسان کے لئے گوشت خوری کی اجازت ہونی چاہئے ؛ کیوںکہ :
(الف) بعض جانداروں کے اندر صرف ایسے دانت رکھے گئے ہیں جو نباتات کو چبانے کے کام آتے ہیں ، جیسے گائے ، بیل وغیرہ ، ان کے منھ میں نوکدار دانت نہیں ہیں ، یہ اس بات کی علامت ہے کہ ان کی خوراک نباتات ہے ، بعض جانور وہ ہیں جن کے سارے دانت نوکدار ہیں ، جس سے گوشت کھایا جاسکتا ہے ، جیسے شیر ، بھیڑیا ، کتا وغیرہ ، یہ اس بات کی علامت ہے کہ گوشت وغیرہ ہی ان کی خوراک ہے ، انسان کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دونوں طرح کے دانت پائے جاتے ہیں ، وہ بھی جن سے نباتات کھائے جائیں اور وہ بھی جن کے ذریعہ گوشت کو خوراک بنایا جائے؛ اس میں یقیناً قدرت کا اشارہ ہے کہ انسان کو لحمی اور غیر لحمی دونوں طرح کی غذا استعمال کرنی چاہئے ۔
( ب ) جاندار مخلوقات کے جسم میں ایک عضو ’’ معدہ ‘‘ رکھا گیا ہے ، جس کا کام خوراک کو ہضم کرنا ہے ، سبزی خور جانور جب گوشت کھالے تو معدہ اس کو ہضم نہیں کرتا ، گوشت خور جانور سبزی کو منھ ہی نہیں لگاتا ؛ لیکن انسان کے معدہ میں یہ صلاحیت رکھی گئی ہے کہ وہ لحمی اور غیر لحمی دونوں طرح کی غذاؤں کو ہضم کرتا ہے ، اس سے صاف ظاہر ہے کہ قدرت نے انسان کو لحمی اورغیر لحمی دونوں طرح کی غذاؤں کا ضرورت مند بنایا ہے ۔
( ج ) انسانی جسم میں جو توانائیاں مطلوب ہیں ، وہ صرف نباتاتی غذاؤں سے حاصل نہیں ہوپاتیں ؛ بلکہ ان کے لئے لحمی غذاؤں کی بھی ضرورت پڑتی ہے ، اگر وہ غذا کی شکل میں لحمیات کا استعمال نہیں کرتے تو دوا کی شکل میں ان کا استعمال کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ؛ اس لئے انسان کا گوشت خور ہونا صرف ایک خواہش نہیں ہے ؛ بلکہ یہ فطرت کی آواز ہے ۔
جو لوگ گوشت خوری کو منع کرتے ہیں ، ان کا خیال ہے کہ یہ زندہ و جود کو قتل کرنے یعنی ’’جیوہتیا‘‘ کا باعث بنتا ہے ؛ لیکن غور کیا جائے تو کائنات کا فطری نظام یہی ہے کہ خالق کائنات نے کم تر مخلوق کو اپنے سے اعلیٰ کے لئے غذا اور وسیلۂ حیات بنایا ہے ، غور کریں کہ کیا اس جیو ہتیا سے بچنا ممکن بھی ہے ، آپ جب پانی یا دُودھ کا ایک گلاس اپنے حلق سے اُتارتے ہیں تو سینکڑوں جراثیم ہیں جن کے لئے آپ اپنی زبانِ حال سے پروانہ موت لکھتے ہیں ، پھر آپ جن دواؤں کا استعمال کرتے ہیں ، وہ آپ کے جسم میں پہنچ کر کیا کام کرتی ہیں ؟ یہی کہ جو مضر صحت جراثیم آپ کے جسم میں پیدا ہوگئے ہوں اور پنپ رہے ہوں ، ان کا خاتمہ کر دیں ، پس جیوہتیا کے وسیع تصور کے ساتھ تو آپ پانی تک نہیں پی سکتے اور نہ دواؤں کا استعمال آپ کے لئے روا ہو سکتا ہے ۔
پھر آج کی سائنس نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ جس طرح حیوانات میں زندگی اورروح موجود ہے ، اسی طرح پودوں میں بھی زندگی کار فرما ہے اور نباتات بھی احساسات رکھتے ہیں ، خود ہندو فلسفہ میں بھی پودوں میں زندگی مانی گئی ہے ، سوامی دیانند جی نے ’’آواگون‘‘ میں روح کے منتقل ہونے کے تین قالب قرار دیئے ہیں ، جن میں ایک نباتات بھی ہے ، یہ نباتات میں زندگی پائے جانے کا کھلا اقرار ہے ، تو اگر جیو ہتیا سے بچنا ہو تو نباتاتی غذا سے بھی بچنا ہوگا ، غرض کہ اس کائنات میں ایسے انسانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے ، جو مکمل طور پر جیو ہتیا سے بچ کر جینا چاہے ۔
بعض سبزی خور کہتے ہیں کہ پودے تکلیف محسوس نہیں کرتے ، اس لئے پودوں کو ختم کرنے کا جرم جانوروں کو ختم کرنے سے کمتر جرم ہے ، اس سلسلہ میں مشہور دانشور ڈاکٹر ذاکر نائیک کا بیان بہت چشم کشا ہے ، لکھتے ہیں کہ :
آج سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ پودے بھی تکلیف محسوس کرتے ہیں ، تاہم ان کی چیخ پکار انسان نہیں سن سکتے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے کان ان آوازوں کو نہیں سن سکتے جو سماعت کی حدود (20 ہرٹز تا 20000 ہرٹز ) سے باہر ہوں ، کوئی آواز اس رینج سے زیادہ ہو یا کمتو وہ انسانی کان میں نہیں آتی ، کتے 40000 ہرٹز تک کی آواز سن سکتے ہیں ؛ لہٰذا ایسی آوازیں جن کی مقدار20000 (Frequency) ہرٹز سے زیادہ اور 40000ہرٹز سے کم ہو ، اُنھیں صرف کتے سن سکتے ہیں انسان نہیں ، کتے اپنے آقا کی سیٹی کی آواز پہچانتے ہیں اور اس کی طرف چلے آتے ہیں ، ایک امریکی کسان نے تحقیق کی اور اس نے ایسا آلہ ایجاد کیا جو پودوں کی چیخ پکار کو اس طرح تبدیل کردیتا ہے کہ اسے انسان سُن سکے ، اس کے ذریعہ سے وہ فوراً یہ محسوس کرنے کے قابل ہوگیا کہ پودا کب پانی کے لئے چیخ رہا تھا ، جدید تحقیقات نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ پودے خوشی اور غم کو بھی محسوس کرتے ہیں اور چلا بھی سکتے ہیں ۔
بعض حضرات کہتے ہیں کہ پودے صرف دو یا تین حواس رکھتے ہیں ؛ جب کہ جانوروں کے پانچ حواس ہوتے ہیں ، اس لئے پودوں کو ختم کرنا جانوروں کو ختم کرنے سے کم درجے کا جرم ہے ؛ لیکن یہ درست نہیں ، فرض کریں آپ کا بھائی پیدائشی گونگا اور بہرہ ہو اور اس کے دو حواس دوسرے انسانوں کی نسبت کم ہوں ، وہ بڑا ہوجائے اورکوئی اس کو قتل کردے ، توکیا آپ منصف سے کہیں گے کہ اسے کم سزا دیں ؛ کیوںکہ آپ کا بھائی دو حواس کم رکھتا ہے ؟ جی نہیں ! اس کے برعکس آپ کہیں گے کہ اس نے معصوم کو قتل کیا ہے ، اس لئے منصف کو چاہئے کہ اسے زیادہ سزا دے ۔
اللہ تعالیٰ کا نظام کچھ ایسا ہے کہ جانوروں میں شرح پیدائش انسانوں سے بہت زیادہ ہوتی ہے ، اگر یہ تعداد کنٹرول سے باہر ہوجائے تو اس سے نہ صرف انسانی آبادی کو بلکہ خود جانوروں کو بہت نقصان ہوتا ہے ، یہ راستوں میں ٹریفک کے نظام کو درہم برہم کردیتے ہیں ، یہ ہری بھری کھیتیوں کو کھاجاتے ہیں اور جب ان کو ضرورت کے مطابق غذا فراہم نہیں ہوتی ہے تو بیمار پڑتے ہیں اور کوئی ان کی دیکھ ریکھ کرنے والا نہیں ہوتا ، یہاں تک کہ بہت سارے جانور پلاسٹک کی تھیلیاں کھالیتے ہیں اور سخت تکلیف کے ساتھ ان کی موت ہوتی ہے ، یہ محض فرضی باتیں نہیں ہیں ؛ بلکہ دن رات مشاہدہ میں آتی ہیں ، ٹریفک نظام میں خلل ، کھیتیوں کی بربادی اور جب جانور دودھ دینے کے لائق باقی نہ رہے تو اس کی غذا سے محرومی ، ان گوشالوں میں دیکھی جاسکتی ہے جو بظاہر گائے کو آرام پہنچانے کے لئے بنائے گئے ہیں ؛ لیکن حقیقت میں وہ ان کے لئے تکلیف کا ، بھکمری کا اور اذیت ناک موت کا سبب بن جاتے ہیں ۔(بصیرت فیچرس)

You might also like