Baseerat Online News Portal

حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ آج، نماز فجر کے بعد منیٰ سے میدان عرفات کےلیے روانگی، سورج غرب ہونے کے بعد مزدلفہ روانہ ہوں گے

حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ آج
مکۃ المکرمہ۔ ۱۸؍جولائی: عازمین حج کل عرفہ کے دن حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کیا جائے گا۔حجاج کرام میدان عرفات میں حاضری دیں گے خطبہ سماعت فرمائیں گے اور مغرب کے بعد مزدلفہ کے لیے روانہ ہوجائیں گے جہاں شیطان کو کنکریاں ماریں گے۔ واضح رہے کہ منیٰ میں عازمین حج کی آمد کے ساتھ مناسک حج کی ادائیگی کا جو سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔کرونا وائرس سامنے آنے کے بعد پچھلے سال محدود حج کی کامیابی کے بعد اس سال ساٹھ ہزار عازمین جن میں سعودی شہری اور مملکت میں مقیم غیر ملکی شامل ہیں نے مناسک حج کا آغاز کیا ہے۔مسجد الحرام میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ طواف قدوم ادا کرنے کے بعد عازمین کے قافلے گروپ کی شکل میں منیٰ کے لیے روانہ ہوگئے تھے جہاں انہوں نے اتوار کو منی میں یوم الترویہ گزار اور وہ ظہر، عصر، مغرب، عشا کی نماز ادا کی۔ کل پیر کی نماز فجر ادا کرنے کے بعدنو ذی الحجہ کو عازمین حج کے قافلے میدان عرفات پہنچ کر حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کریں گے۔منیٰ جہاں ہر سال خیموں کا شہر آباد ہوتا ہے، اس سال بھی محدود حج کے باعث اس کا ایک حصہ آباد ہوگا، اس سال منی میں حجاج کے لیے چھ ٹاورز اور اکہتر کیمپ یونٹس (خیمہ ) مخصوص کیے ہیں، ٹاورز میں پانچ ہزار جبکہ خیموں میں ۵۵ہزار حجاج قیام پذیر ہیں۔خیموں اور رہائشی ٹاورز میں کرونا سے بچاؤ کے لیے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں، حجاج کی آمد کے ساتھ ہی تمام اداروں کے اہلکار اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں، میدان عرفات میں بھی ۶۰ہزار حجاج کو ٹھہرانے کے لیے خیمے نصب کردیئے گئے ہیں۔میدان عرفات حجاج کے استقبال کے لیے پوری طرح سے تیار ہے، یہاں حجاج نو ذی الحجہ کو ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے ہیں، بعد ازاں سورج غروب ہونے کے بعد حجاج مغرب کی نماز ادا کیے بغیر مزدلفہ کے لیے روانہ ہوتے ہیں اور وہاں وہ رات گزارتے ہیں۔اس سال خطبہ حج مسجد الحرام کے خطیب ڈاکٹر بندر بلیلہ دیں گے۔ جس کی گزشتہ روز سعودی فرمانروا نے منظوری دے دی تھی۔شیخ بندر بلیلہ مسجد نمرہ میں یومِ عرفات کا خطبہ دیں گے، جس کو اردو، عربی سمیت دس سے زائد زبانوں میں نشر کیا جائے گا۔یاد رہے کہ وزارت حج نے مکہ مکرمہ میں حجاج کے لیے چار استقبالیہ کیمپس لگائے جن میں ’النوریہ ، الزایدی، الشرائع اور الھدا شامل ہیں۔ حجاج کے استقبال کے لیے بھی تین مراحل متعین کیے گئے جن کے تحت پہلے مرحلے میں حجاج کے پرمٹ چیک کیے گئے، بعدازاں سمارٹ کارڈز سکین کرکے انہیں طواف قدوم کے لیے مسجد الحرام لے جایا گیا۔اپنی گاڑی میں آنے والے حجاج پہلے مقررہ سینٹر پہنچے جہاں ان کے پرمٹ چیک کیے گئے بعدازاں انہیں کمپنی کی مخصوص بسوں کے ذریعے مسجد الحرام لے جایا گیا جبکہ ان کا سامان متعلقہ کمپنی منیٰ میں ان کے مخصوص خیموں میں پہنچانے کی ذمہ دار ہے۔مکہ مکرمہ میں مقیم حجاج کے لیے جو طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اس کے مطابق مکہ کے حجاج طواف قدوم کرنے کے بعد اپنے مخصوص مقام پر اکھٹے ہوئے جہاں سے انہیں مخصوص بسوں کے ذریعے منیٰ پہنچانے کا انتظام کیا گیا۔ کورونا وائرس کے موجودہ حالات میں مملکت کو حج کی ادائیگی کے حوالے سے جن چیلنچز کا سامنا تھا، ان سے بہترین حکمت عملی کے تحت نمٹا گیا ہے۔ عرب نیوز کے مطابق کورونا کی وبا کی وجہ سے سعودی عرب نے صرف محدود تعداد میں افراد کو حج کی اجازت دی تھی۔پانچ لاکھ حج درخواستوں میں سے صرف 60 ہزار کو حج کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ 2019 میں 25 لاکھ افراد نے حج ادا کیا تھا۔

 

You might also like