Baseerat Online News Portal

ہنگری: ہم جنس پرستی سے متعلق مواد پر پابندی، ادیب اور کتب فروش سراپا احتجاج

آن لائن نیوزڈیسک
یورپی ملک ہنگری میں بچوں کی کتابوں کے حوالے سے نئے قانون کے نفاذ کے بعد کتابیں فروخت کرنے کی کئی دکانوں کے باہر ایسے سائن بورڈز آویزاں ہیں جن پر درج ہے کہ ان دکانوں پر ’غیر روایتی مواد‘ فروخت کیا جاتا ہے۔
نئے قانون کے تحت بچوں کی کتابوں میں ایسے تمام مواد پر پابندی عائد کی گئی ہے جس میں ہم جنس پرستی، جنسی تبدیلی یا منتقلی کی تشہیر یا عکاسی کی گئی ہو۔
امریکی خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق کئی ادیبوں، کتب فروشوں اور پبلشرز نے اسے آزادی اظہار پر قدغن قرار دیا ہے۔
ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں حکومت نے ملک کی دوسری بڑی کتب فروش کمپنی کو بچوں کی ایک ایسی کتاب اسٹور میں رکھنے پر جرمانہ عائد کیا جس میں ہم جنس والدین کا ذکر موجود تھا۔
اس واقعے کے بعد سے’ لیرا کونو‘نامی اس کمپنی نے اپنے تمام اسٹورز پر صارفین کے لیے اطلاعاتی سائن بورڈز لگا دیے ہیں۔
گزشتہ ماہ ہنگری کی پارلیمان سے پاس ہونے والے اس قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے کمپنی کے کریئیٹو ڈائریکٹر کرسٹین نیاری نے بتایا کہ حکومتی حکم نامے میں استعمال کیا گیا لفظ ’عکاسی‘اتنا عمومی ہے کہ یہ معروف انگلش شاعروں شیکسپئر اور سافو کی نظموں پر بھی لاگو ہو سکتا ہے۔
ہنگری میں یہ نیا قانون پچھلے ہفتے ہی نافذ کیا گیا ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس بارے میں کسی قسم کی رہنمائی فراہم نہیں کی گئی ہے کہ آیا یہ قانون کن افراد یا کاروبار پر لاگو ہوگا اور اس کے نفاذ کا طریقہ کار کیا ہوگا۔
اس قانون کے تحت اسکولوں کے تعلیمی پروگرامز میں بھی ہر قسم کے ’ایل جی بی ٹی‘ یعنی زنانہ یا مردانہ ہم جنس پرستی، کثیر الجنسی اور مخنث افراد سے متعلق مواد پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اس قانون نے ہنگری کے ادبی حلقوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ وہ اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ اگر مستقبل میں بچوں کے پاس ایسی کوئی تحریر یا کتاب نکل آئی جن میں جنسی رجحانات یا شناخت کے بارے میں کوئی ذکر ہوا تو کیا وہ کسی جرم کے مرتکب قرار پائیں گے؟۔
ہنگری کی حکومت کا کہنا ہے کہ نئے اصول بچوں کی حفاظت کے لیے پہلے سے بنائے گئے قوانین کا حصہ ہیں۔ جس کے تحت بچوں کے ساتھ جنسی رغبت یعنی پیڈوفیلیا کی سزا بھی مزید سخت کی گئی ہے۔
حکومت نے جنسی مجرموں کا پتا لگانے کے لیے ڈیٹا بیس بھی تیار کیا ہے جس تک عوام کی رسائی ہوگی۔
مبینہ طور پر ایل جی بی ٹی مخالف قوانین اور دیگر دوسرے اقدامات کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بچوں کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
مگر ناقدین کا جن میں یورپی یونین کے حکام بھی شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ اس طرح ہنگری کی حکومت ایل جی بی ٹی افراد کے ساتھ پیڈوفائلز جیسا ہی سلوک کر رہی ہے جب کہ دونوں میں قطعی طور پر کوئی مماثلت نہیں۔
ناقدین نے اسے ہنگری کی حکومت کی ایل جی بی ٹی کمیونٹی جیسے کمزور طبقات کو معاشرے میں مزید معیوب بنانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔
نیومی کس ایک ادیب ہیں اور ایسی کئی کتابیں تحریر کر چکی ہیں جن میں موجودہ دور کے مسائل پر بات کی گئی ہے۔
ان کی کہانیوں کے کئی کردار ’غیر روایتی‘ ہوتے ہیں۔
لیرا کونو بک کمپنی کے اسٹور کو 830 ڈالر کے جرمانے پر نیومی کا کہنا ہے کہ بچوں کو محفوظ بنانے کے لیے قوانین بنانا اچھی بات ہے مگر ایسے ادب پر پابندی لگانا جس میں عام انسانوں سے مختلف شناخت رکھنے والوں کا ذکر ہو، مضحکہ خیز ہے اور یہ آزادیِ اظہار اور آزادیِ خیال پر حملہ ہے۔
نیومی کس کہتی ہیں کہ کیا اب اس بنیاد پر ادیبوں کی بھی درجہ بندی کی جائے گی۔ کیا اب جنس پرست کہانی لکھنے والوں کو رسوا کیا جائے گا یا پھر یہ چاہتے ہیں کہ وہ دنیا کا سارا ادب پھر سے تحریر کریں؟۔
یورپی یونین نے ہنگری کے اس نئے قانون کا نوٹس لیتے ہوئے دو شکایات درج کی ہیں۔
یورپی یونین کی جانب سے ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہنگری حکومت کا نیا قدم پبلشرز اور ادیبوں کے آزادیِ اظہار پر پابندی کے ساتھ ساتھ مختلف جنسی رجحان یا شناخت رکھنے والوں کی جانب تعصب بھی ظاہر کرتا ہے۔
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ ہنگری کی حکومت یہ بتانے میں ناکام رہی ہے کہ ایل جی بی ٹی مواد کس طرح بچوں کی بہبود کے لیے نقصان دہ ہے۔

You might also like