Baseerat Online News Portal

مسلمان مصائب اور آزمائشوں پر صبر کریں! مسجد نمرہ میں امام حرم بندر بلیلہ نے خطبہ حج پیش کیا

میدان عرفات۔۱۹/جولائی(بصیرت آن لائن)  مسجد نمرہ میں شیخ بندر بن عبد العزیز نے خطبہ حج میں کہا کہ وبا کی صورت میں وہاں کے رہنے والے اس علاقے سے باہر نہ نکلیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب کسی علاقے میں طاعون پھیل جائے تو وہاں نہ جاؤ، وہاں کے لوگ باہر نہ نکلیں، مسلمان مصائب اور آزمائشوں پر صبر کریں۔ حج کے رکن اعظم وقوف عرفہ کی ادائیگی ہوئی، خطبہ حج میں کہا گیا کہ اللّٰہ پاک نے فرمایا زمین پر فساد نہ پھیلاؤ، اللہ سے ڈرتے رہو، اپنی نمازوں کی حفاظت کرو، مسلمان آپس میں مساوات اور اخوت کے ساتھ رہیں۔شیخ بندر بن عبد العزیز نے خطبہ حج میں کہا کہ ایمان والوں کو بشارت ہے، اللہ کی رحمت نہایت طویل ہے،احسان کرو، اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے، احسان کرنے والوں کو اللہ روز قیامت بہت عطا کرے گا۔خطبہ حج میں کہا گیا کہ اللّٰہ کی خوشنودی کے لیے نماز پڑھو اور قربانی دو، آپس میں مساوات اور ہمدردی کا تعلق قائم کرو، احسان کرنے والے کو اللہ پاک دس نیکیاں عنایت فرماتا ہے، احسان کرنے والے، محبت کرنے والے کو اللہ جنت تک پہنچا دیتا ہے۔ خطبہ حج میں کہا گیا کہ بے شک نیکیاں بدی کو کھاجاتی ہیں، یتیم کے مال میں خیانت نہ کرو، شرعی معاملات میں لوگوں کے ساتھ احسان کے ساتھ پیش آئیں، ایک دوسرے کے ساتھ نیکی کرو، ہر نیکی کا اجر ہے۔شیخ بندر بن عبد العزیز نے کہا کہ حجاج کرام اپنے مناسک حج اللہ کے حکم کے مطابق بہترین طریقے سے ادا کریں، حجاج کرام اپنے لیے ، اپنے گھر والوں کے لیے دعا کریں۔خطبہ حج میں کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، پرہیز گاری اختیار کرو،اللہ تعالیٰ کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا، ایسے عبادت کرو جیسے تم اللہ کو دیکھ رہے ہو، ہمیں اللہ ہی کی عبادت کرنی چاہیے،گواہی دیں محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔شیخ بندر بن عبد العزیز نے کہا کہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص نماز عصر کی حفاظت کرو، ماہ رمضان کے روزے فرض کئے گئے ہیں، حج اسلام کا پانچواں رکن ہے، جو استطاعت رکھتا ہے وہ حج ادا کرے، اللہ اور  اس کے فرشتوں پر ایمان لائیں، اللہ کی کتابوں پر ایمان لائیں، ایمان کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کرو۔خطبہ حج میں کہا گیا کہ اللہ کی اطاعت کریں، اللہ ہی سے مدد مانگیں،اللہ نے لوگوںٕ کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے،آپس میں مساوات اور ہمدردی کے تعلقات قائم کرو، اللہ کی عبادت کرو، والدین کے ساتھ احسان کرو، قریبی رشتے داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ احسان کرو، بے شک اللہ تعالی تکبر کرنے والوں اور اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔شیخ بندر بن عبد العزیز نے خطبہ حج میں کہا کہ یتیموں ، مسکینوں اور کمزوروں کے ساتھ احسان کرو، اپنے وعدوں کو اللہ کی رضا کے لئے پورا کرو، معاشرے اور معاشرتی معاملات میں احسان کو قائم رکھو، جانور کو جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو؛ تاکہ اسے تکلیف نہ ہو، جب انسان احسان کرتا ہے تو اللہ لوگوں کو آفت سے محفوظ فرماتا ہے۔خطبہ حج میں کہا گیا کہ عداوت، نفرت کو ختم کرنا چاہئے، اللہ کی رضا کیلئےقرضہ حسنہ دینے والے کو اللہ آخرت میں دوگنا اجر عطا کرے گا، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہر نیکی کا اجر ہے،اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ، لوگوں کی طرف سے آنے والے مسائل اور تکلیف پر صبر کرو، موت اور زندگی کو اس لئے پیدا کیا؛ تاکہ تمہیں آزمایا جائے کہ کون اچھے عمل کرتا ہے۔شیخ بندر بن عبد العزیز نے کہا کہ زمین کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ لوگوں کی دی گئی تکلیف پر صبر کریں، تم احسان کرو، اللہ تعالی احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے،اللہ کی رحمت بہت قریب ہے، دنیا میں جو احسان کرے گا آخرت میں اس کا بھلا ہوگا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ نبی ﷺ آپ لوگوں سے کہیں کہ وہ احسان کریں، جب کوئی لوگوں کا احساس کرتا ہے تو اللہ اسے جنت کے دروازے تک پہنچا دیتا ہے خطبہ حج میں مزید کہا گیا کہ جب آپ دعا کرتے ہیں تو فرشتے فخر کرتے ہیں، اللہ نے انسان کی اعلیٰ معیار کی تخلیق کی اور اسے دنیا میں بھیجا، اللہ نے فرمایا اے ایمان والوں! اپنے وعدوں اور حقوق کو پورا کرو،آپس میں مساوات اور اخوت کے ساتھ رہو، یتیموں،مسکینوں اور کمزوروں کے ساتھ احسان کرو، اللہ کے حکم کے مطابق ہمیں درگزر کا معاملہ کرنا چاہیے۔شیخ بندر بن عبد العزیز نے کہا کہ اپنے لیے، اپنے ممالک اور شہروں کے لیے دعا کریں،جب آپ دعا کرتے ہیں تو فرشتے فخر کرتے ہیں،اللہ تعالی ہمارے ہر عمل کے مطابق حساب لے گا۔ایک مسلمان کو حسن اخلاق اور اچھائی میں اپنے مسلمان بھائیوں کیساتھ مقابلہ کرنا چاہیے،اچھائی کا معاملہ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، واضح رہے کہ عازمین حج آج غروب آفتاب تک میدان عرفات میں ہی قیام کریں گے، ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ میدان عرفات میں ادا کی جائیں گی، حجاج کے قافلے سورج غروب ہونے کے بعد عرفات سے مزدلفہ روانہ ہوں گے،مزدلفہ میں حجاج کرام مغرب اورعشا کی نمازیں ایک ساتھ ادا کریں گے۔حجاج کرام آج رات مزدلفہ میں ہی قیام کریں گے،حجاج کرام کل صبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد منیٰ واپس پہنچیں گے، کل حجاج کرام رمی جمرات یعنی شیطان کو کنکریاں ماریں گے اور اس کے بعد جانوروں کی قربانی کی جائے گی، حجاج کرام کل ہی طواف زیارت اور سعی بھی کریں گے۔

You might also like