Baseerat Online News Portal

کشمیر میں مبینہ طور پر آئی ایس آئی ایس سرگرم !

قاسم خراسانی اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری کے حوالے سے ہندوستانی خفیہ ایجنسی کا دعویٰ

نئی دہلی ۔۲۰؍جولائی: جموں و کشمیر میں ممنوعہ دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس کے ہونے کے ثبوت ہاتھ لگے ہیں ۔ پیر کو اس کے بانی اراکین میں سے ایک قاسم خراسانی اور اس کے دو ساتھیوں کی گرفتاری کے بعد ہندوستانی خفیہ ایجنسی کے سامنے اس بات کا انکشاف ہوا ہے ۔ ہندوستانی خفیہ ایجنسی گزشتہ ایک سال سے ان کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھ رہی ہے ۔ سی این این ۔ نیوز 18 کی جانب سے یہ ایکسکلوزیو خبر دی گئی ہے ۔اپریل 2020 میں جموں و کشمیر میں آئی ایس آئی ایس ماڈیول کے بانی اراکین میں سے ایک عمر نثار بھٹ عرف قاسم خراسانی ، جو وہاں آئی ایس کیڈروں کی بھرتی میں شامل تھا ، کی شناخت ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعہ ایک میسیجنگ ایپ پر کی گئی تھی ۔ خراسانی کے بارے میں پہلے یہ مانا جاتا تھا کہ وہ افغانستان کے خراسان میں ہے ، لیکن بعد میں وہ ہندوستانی اور غیر ملکی ایجنسیوں کی مدد سے اننت ناگ ضلع کے ایک چھوٹے سے شہر اچبل میں پایا گیا ، جہاں سے وہ ٹیلی گرام پر اپنے گروپ کے اراکین کے ساتھ صوات الہند میگزین کے پروڈکشن اور سرکولیشن کے بارے میں بات چیت کررہا تھا ۔میگزین صوات الہند کو ولایت الہند کے نظریہ کی تشہیر کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے ۔ ولایت الہند کی تشکیل مئی 2019 میں خاص طور پر ہندوستان کی ‘سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرنے کیلئے کیا گیا تھا ۔ شہریت ترمیمی ایکٹ ( سی اے اے ) پر ہندوستانی مسلمانوں کو بھڑکانا ، بابری مسجد انہدام اور کشمیر میں مظالم کا بدلہ لینے کے نظریہ سے ولایت الہند کی تشکیل دی گئی تھی ۔ اس نے ہندوستان میں حملے کرنے کیلئے خراسان ، سیریا ، عراق اور انڈین مجاہدین کے ہندوستانی لڑاکوں کی کافی تعریف بھی کی ہے ۔ولایت الہند کے ذریعہ دہشت گرد تنظیم نے غزوہ ہند کی بھی کال دی تھی ۔ غزہ ہند کے مطابق شام سے کالے جھنڈے کے ساتھ دہشت گردوں کی فوج ہندوستان کی جانب مارچ کرے گی اور ملک کو جیت کر اسلامی ریاست میں بدل دے گی ۔ اس نے اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ دی لیوینٹ ۔ خراسان کے آپریٹروں کی قیادت میں فروری 2020 میں صوات الہند میگزین شروع کی ۔میگزین کے اب تک 17 شمارے جاری کئے جاچکے ہیں ۔ پہلا شمارہ میڈیا چینل القتال پر لانچ کیا گیا تھا اور یہ اس بات پر مرکوز تھا کہ راشٹرواد ایک بیماری تھی ۔ اس نے شہریت ترمیمی ایکٹ کی بھی سخت تنقید کی اور وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امت شاہ ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال اور اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو نشانہ بنایا ۔ اتنا ہی نہیں میگزین نے ہندوستانی مسلم دانشوران مونالا محمود مدنی اور مولانا ارشد مدنی پر بھی نشانہ سادھا ۔اسی شمارہ میں انہوں نے کہاکہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی اور جواہر لعل نہرو طلبہ یونین کے سابق صدر کنہیا کمار ، جنہیں 2016 میں دہلی پولیس نے غداری کے الزام میں گرفتار کیا تھا ، ہندوستانی مسلمانوں کو گمراہ کررہے تھے ۔ اس میں ہندوستانی نوجوانوں کو شدت پسندی کے راستے پر دھکیلنے کیلئے ذمہ دار پاکستانی شہری حذیف الباکستانی کی موت پر بھی غم کا اظہار کیا گیا ۔

You might also like