Baseerat Online News Portal

عالِم باورچی’ تہجد گزار اسٹوڈنٹس! تحریر: ایم ودود ساجد

کیا آپ نے کبھی کسی باورچی کو اُجلے (صاف شفاف) کپڑے پہنے ہوئے دیکھا؟ میں نے بھی نہیں دیکھا۔۔ پچھلے دنوں ایسے ہی ایک باورچی سے ملاقات ہوئی۔ اس کا ظاہر بھی اُجلا نہیں تھا لیکن یقین کامل ہے کہ اس کاباطن اُجلا اور صاف شفاف ہوگا۔۔

بہار سے تعلق رکھنے والے اس باورچی کا نام اور شناخت میں ظاہر نہیں کر رہا ہوں ۔۔ لیکن یہ نوجوان باورچی حافظ بھی ہے‘ قاری بھی ہے اور عالم بھی ہے۔ وہ باورچی کا کام بخوشی کرتا ہے لیکن پابندی سے تراویح میں قرآن بھی سناتا ہے۔ آگے بھی اس کا یہی عزم ہے۔۔ گو کہ اسے 70 سے زیادہ لوگوں کا ناشتہ اور دونوں وقت کا کھانا بنانے کی تنخواہ ملتی ہے لیکن وہ اس کام کو کارِثواب بھی سمجھتا ہے۔۔ وجہ یہ ہے کہ ان 70 افراد میں 55 طلبہ وہ بھی ہیں جو حافظ قرآن ہیں اور جو اس وقت سائنس‘ ریاضی‘ کیمسٹری اور بائیولوجی کے ساتھ دسویں‘ گیارہویں اور بارہویں کلاس کے امتحانات کی تیاری کر رہے ہیں۔۔

12ویں پاس کرتے ہی یہ حافظ قرآن بچے NEET / JEE کی تیاری کریں گے۔۔ ایسا ایک بڑا اور کامیاب تجربہ کرناٹک میں پہلے ہی کیا جارہا ہے۔۔ لیکن زیر نظر سطور میں جنوبی ہند کے ایک دوسرے مقام کا ذکر ہورہا ہے۔۔ میں عمداً اس ادارے اور مقام کا نام مخفی رکھ رہا ہوں ۔۔

یہ کوئی بہت بڑا ادارہ بھی نہیں ہے۔۔ یہ محض ایک مسجد ہے۔۔ مسجد بھی کسی عوامی چندہ سے نہیں بنی ہے۔اتنی بڑی اور شاندار مسجد محض ایک نیک صفت خاتون کی ’ضد‘ کے سبب بنی ہے۔۔ اس نے اپنے سارے زیورات الله کے گھر کی تعمیر کیلئے دیدئے تھے۔۔

پھر اس خاتون کے نیک شوہر اور صالح اولاد نے اس کی خواہش کے مطابق بیڑا اٹھایا اورایک ایکڑ سے زیادہ رقبہ میں تعمیر یہ شاندار مسجد اب کئی ایکڑ متصل زمین کی مالک ہے۔۔ یہاں ان 55 حفاظ بچوں کو مذکورہ تیاری کرائی جارہی ہے۔۔ یہی بچے آگے چل کر ڈاکٹر اور انجینئر بنیں گے۔۔ انہیں ہندوستانی قانون کی حد کے مطابق ڈرون/ روبوٹ بنانے / کوڈنگ/ ڈی کوڈنگ کرنے اور آرٹفیشیل انٹلی جینس کی تربیت بھی دی جارہی ہے۔۔

اس مسجد کی خوبی یہ ہے کہ یہ شہر سے ایک گھنٹے کی مسافت پر ایک ہائی وے پر واقع ہے اور ایک طرف جہاں جمعہ کے روز اس ہائی وے سے گزرنے والے لوگ یہاں ٹھہر کر جمعہ کی نماز ادا کرتے ہیں وہیں اس مسجد کی منتظمہ کمیٹی کے اراکین بھی بڑی مقدار میں شہر سے کھانا بنواکر لاتے ہیں اور جمعہ کی نماز میں شریک ہر فرد کو کھانا کھلاتے ہیں۔۔ کھانے کا اعلان مائک پر ہوتا ہے مگرلہجہ میں عاجزی اور درخواست ہوتی ہے۔۔ مسجد کے جنرل سیکریٹری نے بتایا کہ ان کے والد کی خواہش تھی کہ مسجد اس طرح تعمیر ہو کہ یہاں نماز ادا کرنے والے کو غیر معمولی سکونِ قلب حاصل ہو۔۔ میں نے بھی یہ تجربہ کیا۔۔ فی الواقع دوہرا سکون قلب حاصل ہوا۔۔ خوش الحان موذن حافظ’ قاری اور عالم ہے۔۔ راہ گیر تک آذان کی آواز سن کر ساکت وجامد ہوجاتے ہیں ۔۔ امام کا تو خیر کہنا ہی کیا۔۔

تو حافظ‘ قاری اور عالم باورچی کا قصہ یہ ہے کہ پہلے لاک ڈاؤن کے دوران وہ جس مسجد میں امامت کراتا تھا اس کے ذمہ داروں نے یہ کہہ کر اسے گھر بھیج دیا کہ حالات ٹھیک ہوتے ہی بلالیں گے۔۔ حالات ٹھیک ہوئے‘ بلا بھی لیا گیا لیکن اس کی غیر موجودگی میں کسی اور کو امامت کی ذمہ داری دیدی گئی تھی۔۔ اس نوجوان نے یہ دیکھا تو ذمہ داروں سے کہا کہ کورونا نے کتنوں کو بے روزگار بنا ڈالا۔۔ روزگار آسانی سے نہیں ملتا۔۔ میرا جی نہیں چاہتا کہ جس شخص کو آپ نے میری غیر موجودگی میں رکھ لیا تھا اب اسے ہٹاکر میں امامت کروں۔ میں کوئی اور جگہ تلاش کرلیتا ہوں۔۔

اس نوجوان کو کوئی مسجد امامت کیلئے نہیں ملی۔لیکن کسی نے بتایا کہ فلاں مسجد میں 55 حفاظ نوجوانوں کیلئے ایک باورچی کی ضرورت ہے۔۔ نوجوان نے باورچی کا مشغلہ اختیار کرلیا۔ میں نے اس کے ہاتھ کا بنایا ہوا کھانا کھاتے ہوئے اس سے پوچھا کہ آپ نے یہ کام کیوں اختیارکیا؟ تو اس نے جواب دیا کہ حفاظ کو کھانا بناکر کھلاتا ہوں تو بڑا سکون ملتا ہے۔۔ یہ باورچی صبح تین بجے اٹھ کر اپنے کام سے لگ جاتا ہے اور پھر رات کو دس بجے ہی بستر پر جانا نصیب ہوتا ہے۔۔ بس آخری بات یہ ہے کہ یہ حافظ بچے تہجد گزار ہیں اور باورچی کے ساتھ ساتھ یہ بھی نیند سے بیدار ہوجاتے ہیں۔

مجھے جب یہ علم ہوا کہ مختلف عمر والے یہ حافظ بچے شب بیدار ہیں تو میں نے وہاں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آخری پہر جاگ کر عبادت الہی میں مصروف یہ بچے ایک دن اس سوئی ہوئی قوم کے نصیبے جگانے کا سبب بنیں گے اور ان شاء اللہ پورے عالم پر چھا جائیں گے۔۔

حفاظ کی یہ ساری خدمت مفت ہے۔۔ ان بچوں کو ناشتہ میں بیضہ ( Boiled egg ) کی ضرورت ہوتی ہے۔۔ لہذا مسجد کے سیکرٹری نے ایک مرغی خانہ ہی قائم کردیا جس میں سیاہ فام نسل کے مرغوں کے علاوہ 200 مرغیاں بھی ہیں ۔۔

مبارکباد اور شکریہ کے مستحق ہیں اس مسجد کی کمیٹی کے ذمہ داران کہ جو ان بچوں کی اس طرز پر تربیت کر رہے ہیں۔۔ سفر سے واپسی کے دوران راستہ بھر سوچتا رہا کہ شمالی ہندوستان میں بھی ہزاروں مسجدیں اور لاکھوں متمول خاندان ہیں۔۔۔۔ مگر شاید جذبہ اور خلوص نہیں ہے۔۔۔۔۔

You might also like