Baseerat Online News Portal

معروف ہندی اخبار دینک بھاسکر کے دفاتر پر محکمہ انکم ٹیکس کا چھاپہ! اپوزیشن نے اسے پریس کی آزادی پر بزدلانہ حملہ قراردیا، مودی اور شاہ کا واحد ہتھیار آئی ٹی، ای ڈی اور سی بی آئی: دگ وجے سنگھ

نئی دہلی؍ ممبئی۔ ۲۲؍جولائی:(میم الف نون) ملک کے معروف میڈیا کمپنی دینک بھاسکر گروپ کے دفاتر پر انکم ٹیکس نے چھاپے ماری کی ہے، پورے معاملے کی جانکاری رکھنے والے ذرائع نے بتایا ہے کہ چھاپے ماری ٹیکس چوری کے معاملوں کی جانچ کےلیے کی گئی ہے۔ اس کے تحت آئی ٹی شعبے کی ٹیم نے دہلی، گجرات، مدھیہ پردیش، ممبئی اور راجستھان میں موجود دینک بھاسکر گروپ کے دفاتر اور مالکان کے گھروں میں چھاپے مارے ہیں۔ آئی ٹی کی جانب سے یہ اطلاع فراہم نہیں کی گئی ہے کہ یہ چھاپے ماری کس معاملوں میں کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی نہیں بتایا گیا ہے کہ کن کن دفاتر میں ریڈ ڈالی گئی ہے۔ واضح رہے کہ دینک بھاسکر گروپ ملک بھر میں پانچ اخبار شائع کرتا ہے ، اس گروپ کی جانب سے ہندی ، مراٹھی اور گجراتی میں ۶۵ ایڈیشن ملک کے مختلف حصوں سے شائع ہوتے ہیں۔ اس سال اپریل اور مئی میں دینک بھاسکر اخبار کے گروپ نے کورونا کی دوسری لہر کے دوران بڑے پیمانے پر کوریج کی تھی۔ نہ صرف یہ بلکہ اس طرح کی بہت ساری خبریں اخبار نے شائع کیں ، جس میں کورونا پر حکومتی اعدادوشمار پر سوال اُٹھاتے ہوئے حقیقت میں اموات کی تعداد زیادہ بتائی گئی تھی۔ جانکاری کے مطابق کمپنی کے دفاتر پر رات ڈھائی بجے سے ہی چھاپے مارے جارہے ہیں۔محکمہ انکم ٹیکس نے دینک بھاسکر گروپ کے دفتر اور مالکان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا ہے۔ مدھیہ پردیش سمیت نوئیڈا کے دفتر پر بھی یہ چھاپے مارے گئے ہیں۔محکمہ انکم ٹیکس نے دینک بھاسکر گروپ کے دفتر اور مالکان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا ہے۔ مدھیہ پردیش سمیت نوئیڈا کے دفتر پر بھی یہ چھاپے مارے گئے ہیں۔محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے چھاپے ماری کے دوران بھاسکر کے دفتر میں موجود تمام ملازمین کے فون ضبط کر لیے گئے۔ نیز کسی کو بھی باہر جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ انکم ٹیکس ٹیم پریس کمپلیکس سمیت نصف درجن مقامات پر موجود ہے۔چھاپے سے متعلق کانگریس نے مودی حکومت پر تینقید کی ہے۔ کانگریس کے قومی ترجمان رندیپ سورجے والا نے ٹوئٹ کیا کہ “ریڈ جیوی جی، پریس کی آزادی پر بزدلانہ حملہ! آپ “ریڈ راج” کے ذریعہ جمہوریت کی آواز کو نہیں دبا سکتے ہیں۔ راجستھان کے وزیراعلی اشوک گہلوت نے ٹویٹ کرکے لکھا ہے کہ ‘دینک بھاسکر اخبار اور بھارت سماچار نیوز چینل کے دفاتر پر انکم ٹیکس کا چھاپہ میڈیا کو دبانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ‘مودی حکومت خود کی معمولی تنقید بھی برداشت نہیں کرسکتی۔ یہ بی جے پی کی فسطائی ذہنیت ہے جو جمہوریت میں حقیقت کا آئینہ دیکھنا پسند نہیں کرتی ہے۔ کانگریس کے معروف سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے بھی ٹوئٹ کیا ہے انہوں نے لکھا کہ مودی شاہ کا ایک واحد ہتھیار آئی ٹی ای ڈی اور سی بی آئی۔ مجھے یقین ہے کہ اگروال ڈریں گے نہیں۔

You might also like