Baseerat Online News Portal

افغانستان میں امریکی حملہ دوحہ معاہدوں کی خلاف ورزی طالبان ترجمان نے مذمت کرتے ہوئے سنگین تنائج کی دھمکی دی

کابل۔٢٥؍جولائی: افغانستان میں گزشتہ روز طالبان کے ٹھکانوں پر امریکہ نے بمباری کی تھی جس میں کئی طالبان جاں بحق ہوگئے اور عام شہریوں کو بھی نقصان اُٹھانا پڑا۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’امریکی جارح افواج نے بدھ اورجمعرات کی درمیانی شب افغانستان کے قندہار ارو ہلمند صوبوں کے کچھ علاقوں پر فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں اور طالبان کو جانی نقصان پہنچا۔ہم اس وحشت ناک حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، یہ طے شدہ معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے نتائج برآمد ہونگے۔انہوں نے کہاکہ جمعرات کے روز کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی نے کمانڈو کور میں اعلان کیا کہ اگلے چھہ ماہ کے لیے ایک بڑے آپریشن کا منصوبہ بنایا ہے۔طالبان اس بارے میں بھی متنبہ کرتا ہےکہ آنےوالے چھ مہینوں میں فوجی شعبے میں ہر قسم تبدیلی کی ذمہ داری کابل انتظامیہ کے حکام پر عائد ہوگی، طالبان اپنے علاقوں کا شدید دفاع کرے گا اور دشمن کی جانب سے جنگ جاری رکھنے کی صورت میں ہم صرف دفاعی حالت میں نہیں رہیں گے۔انہوں نے کہاکہ طالبان کا اصولی اور پرامن مؤقف ہے، مگر ہمارے ملکی اور غیرملکی دونوں دشمن سلامتی اور امن و امان مخالف اقدامات اٹھا رہے ہیں اور انہیں مفاہمت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے زعیم نے عید پیغام میں دعوت،سلامتی، امن و امان اور ترقی کے حوالے سے تجاویز پیش کی تھیں، تاہم اس کے برعکس کابل انتظامیہ کا اعلان جنگ ثابت کررہا ہے کہ امن عمل کی تباہی کے پس پردہ کون ہے، جو بات چیت اور افہام وتفہیم کے ذریعے مسائل کا حل نہیں چاہتا۔اس بارے میں ماہرین، سیاسی تجزیہ نگار، میڈیا اور دیگر ہموطنوں کو متوجہ رہنا چاہیے اور نتائج کے ذمہ دار فریق کو پہچان لیں‘‘۔

You might also like