Baseerat Online News Portal

آبادی پر کنٹرول کے لئے مجوزہ قانون

 

فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب مدظلہ العالی
کارگزار جنرل سیکرٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ

اس وقت ملک کی مختلف ریاستوں میں آبادی پر کنٹرول کے لئے ایک قانون متعارف کرانے کی کوشش کی جارہی ہے ، اس کے مطابق الیکشن میں وہی لوگ حصہ لے سکیں گے جن کے دو سے زیادہ بچے نہ ہوں ، گویا الیکشن کو فیملی پلاننگ کے لئے ایک ذریعہ اور وسیلہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ، اور تمام سرکاری مراعات بھی بچوں کی تعداد سے جوڑی جا رہی ہیں، غور کیا جائے تو یہ نہایت ہی نا منصفانہ اور نا معقول اُصول ہے ، اور کسی طرح اس کا جواز نہیں ہے، اولاً تو یہ بات دیکھنے کی ہے کہ کیا یہ اُصول ملک کے دستور اور عقلِ عام کے تقاضے کے مطابق ہے ؟ دوسرے :کیا الیکشن میں اس طرح کی قیود و حدود واقعی فیملی پلاننگ کے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے مفید ہوگی ؟ تیسرے :خود فیملی پلاننگ کا نظریہ کس حد تک عقل اور قانونِ فطرت کے مطابق ہے ؟

جہاں تک اس قانون کی معقولیت کی بات ہے تو الیکشن میں کھڑے ہونے کا مقصد قوم کی اجتماعی خدمت کا فریضہ انجام دینا ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ انسان کے اندر انتظامی صلاحیت اور دیانت ہو ، انتظامی صلاحیت کا تعلق انسان کے فہم ، سمجھ بوجھ ، دماغی صلاحیت اورقوت فکر سے ہے اور دیانت کا تعلق انسان کے قلب و ضمیر ، جذبۂ خدمت اور خلوص سے ہے ، اسی لئے قرآن مجید نے بہترین ورکر اس شخص کو قرار دیا ہے جو قوی اور امین ہو :  إِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ( القصص : ۲۶) ’’قوی ‘‘ سے مراد باصلاحیت اور مفوضہ کام کی اہلیت کے مطابق ہونا ہے اور’’ امین ‘‘ سے اشارہ امانت و دیانت کی طرف ہے ، حقیقت یہ ہے کہ قیادت کے لئے اس سے بہتر کوئی معیار نہیں ہو سکتا ؛ بلکہ اس کے سوا کوئی معیار ہی نہیں ہوسکتا ؛ اس لئے اگر انتخابی قوانین میں تعلیم کے ایک خاص معیار کی شرط ہوتی یا کردار کی پاکیزگی ملحوظ ہوتی ، مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والوں کو اور جاہل اور کندۂ ناتراش قسم کے نیتاؤں کو روکنے کی سعی کی جاتی تو یہ یقیناً ایک معقول اور مناسب بات ہوتی ؛ لیکن اس کو بچوں کی تعداد سے متعلق کر دینا ایک ایسا معیار ہے جو عقل اور فطرت سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا ، کیا دو اور اس سے کم اولاد والے زیادہ سمجھ دار، دیانت دار ، معاملہ فہم اور جذبۂ خدمت کے حامل ہوتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہے، اس سے بھی زیادہ نا معقول بات یہ ہے کہ جس کے بچے زیادہ ہوں، ان کو سرکاری رعایتوں سے محروم کر دیا جائے، رعایتیں ملک کے شہری ہونے کی وجہ سے دی جاتی ہیں، نہ کہ بچے کم یا زیادہ پیدا کرنے کے لحاظ سے۔

پھر غور کیجئے کہ دستور و آئین اور جمہوری روایات سے اس کا کیا تعلق ہے ؟ دستور تمام بالغ مردوں اور عورتوں کو الیکشن میں اُمید وار بننے کا یکساں حق عطا کرتا ہے ، اس جمہوری تقاضے کو اتنی وسعت دی گئی ہے کہ جو لوگ کھلے ہوئے مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہیں ، پولیس کے نامزد مجرم ہیں اور جنھوں نے رشوت ستانی کی ایک تاریخ بنائی ہے ، انھیں بھی الیکشن میں اُمید وار بننے سے روکانہیں جاسکتا ، تو آخر یہ کیسا انصاف ہوگا کہ ایک شخص کو محض اس لئے الیکشن میں اُمید وار بننے سے روکا جائے کہ اس کے بچے زیادہ ہیں اور اتفاق سے اولاد کے بارے میں قدرت اس پر زیادہ مہر بان ہے ؟ اس لئے ملک کا دستور و آئین بھی ایسے قوانین کے حق میں نہیں ہے ۔

الیکشن میں اُمید وار بننے والوں کا تناسب بہت ہی معمولی ہوتا ہے ، ان کی تعداد عام لوگوں کے مقابلہ ایک فی لاکھ سے بھی کم ہوگی ، اگر آبادی میں ایسے چند افراد دو بچوں پر قناعت کر لیں ، تو اس سے اس مقصد کے حاصل کرنے میںکوئی خاص مدد نہیں ملے گی ، اس کے برعکس اندیشہ یہ ہے کہ اس سے بہت سے مفاسد جنم لیں گے ، ممکن ہے لوگ اپنی اولاد کے سلسلہ میں غلط حلف نامے داخل کریں اور اس کو بنیاد بنا کر آئندہ مقدمہ باز یاں ہوں ، بھائی بھائی کے رشتہ کا انکار کرے ، جائز اولاد ناجائز قرار دی جائے ، مال و زر کی حرص وطمع میں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں کہ اپنے ہی بھائی کے نسب کا انکار کر دیا جاتا ہے ،؛ اس لئے حکومت جو کچھ چاہتی ہے ، اس مقصد کے لئے بھی یہ کوئی مفید صورت نہیں ہے، اور جب حکومت اپنی اس پالیسی کو وسعت دیتے ہوئے دوسرے شعبوں میں بھی اسی طرح کے قوانین نافذ کرے گی، تو اگر ملازمتوں اور حکومت کے وسائل سے استفادہ کی صورتوں میں بھی یہ پالیسی اختیار کی گئی ، تو یہ نہایت ہی نقصان دہ بات ہوگی ، اس سے حق داروں کی حق تلفی ہوگی اور ملک کی لگام نا اہل لوگوں کے ہاتھ میں چلی جائے گی اور کسی بھی ملک اور قوم کے لئے اس سے زیادہ مضرت رساں بات اور کیا ہو سکتی ہے ؟

خود فیملی پلاننگ ایک ایسا نظریہ ہے جس کو تجربات اور واقعات نے رد کر دیا ہے ، جو لوگ اس نظریے کے بانی اور مؤسس تھے ، ان کے قیاس کی رو سے اس وقت دنیا کو دانہ دانہ کا محتاج ہونا چاہئے تھا اور انسانیت کے بہت بڑے حصہ کو فاقوں پر گذر کرنی چاہئے تھی ؛ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ؛ بلکہ پوری دنیا میں فی کس آمدنی میں اضافہ ہو رہا ہے ، پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک میں بھی معیارِ زندگی بلند ہوا ہے ، کھانے پینے ، لباس و پوشاک ، سواری اور زندگی کے ہرشعبہ میں راحت بخش وسائل کا استعمال بڑھا ہے ، زمینوں کی پیداوار میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور اگر مغربی ممالک اپنی زراعتی ٹکنا لوجی ترقی پذیر ممالک کو فراہم کریں تو زرعی وسائل میں نا قابل تصور اضافہ ہو سکتا ہے ، جو انسان کی سب سے  بنیادی ضرورت ہے اورایسا سبز انقلاب رونما ہوسکتا ہے جو کسی شخص کو بھوکے پیٹ نہ سلائے ، گذشتہ سو ڈیڑھ سو سال میں بعض ایسے قدرتی وسائل بھی انسانوں کی گرفت میںآئے ہیں ، جنھوں نے صحراؤں اورریگستانوں کو باعث رشک کر دیا ہے ، کیا قدرت کی اس فیاضی کے باوجود فیملی پلاننگ کا نظریہ کوئی معنویت رکھتا ہے ،اور اس کو قانونِ فطرت سے ہم آہنگ قرار دیا جاسکتا ہے ؟

ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ آج دنیا میں ہمارے ملک کو جو اہمیت حاصل ہے ، یا حاصل ہوتی جارہی ہے ، اس کی بنیاد کیا ہے ؟ یہ بات کیوں کہی جاتی ہے کہ ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں ؟ ترقی یافتہ ممالک اپنی سرمایہ کاری کے لئے ہماری طرف کیوں متوجہ ہیں ؟ اورملٹی نیشنل کمپنیاںکیوں ہماری دلداری کرتی ہیں ؟ حالاں کہ نہ ہم صنعت وٹکنالوجی میں جاپان کی ہمسری کر سکتے ہیں، نہ دفاعی طاقت میں امریکہ اور روس کی، نہ ہمارے پاس سعودی عرب اور کویت کی طرح قدرتی وسائل ہیں، نہ ہماری برآمدات کا دامن چین کی طرح وسیع ہے، پھر بھی ہماری اہمیت اس لئے ہے  کہ یہ آبادی کے اعتبار سے بہت بڑا ملک ہے ، یہ اشیاء کی کھپت کے لحاظ سے بہت بڑی مارکیٹ ہے ، یہ افرادی وسائل کے اعتبار سے بہت خوش قسمت خطہ ہے ، پوری دنیا کو یہاں سے ماہرین ملتے ہیں اور ہر جگہ یہاں کے محنتی اور ذہین مزدور ، ورکرس اپنے وجود کی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں ، اگر شرح پیدائش پر بہت زیادہ کنٹرول ہو جائے اور افرادی وسائل ہمارے پاس کم ہوجائیں تو ہم کس طرح اس اہمیت کو بر قرار رکھ سکیں گے ۔

اسلامی نقطۂ نظر اس سلسلہ میں دو اور دو چار کی طرح واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کا صرف خالق ہی نہیں ؛ بلکہ وہ اس کارب اور پالنہار بھی ہے ، کائنات کے ایک ایک ذرہ پر اس کی نظر ہے ، وہ ایک منصوبہ کے ساتھ آبادی کو بڑھاتا اور گھٹاتا ہے ، اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ رزق کے خزانے ہمارے پاس ہیں اورہم اس کو ایک متعین مقدار میں عطا کرتے ہیں: ’’وَمَا نُنَزِّلُہٗ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ‘‘( الحجر : ۲۱) یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی ضرورت کے لحاظ سے غذائی وسائل فراہم کرتے رہتے ہیں ، قرآن کہتا ہے کہ دنیا میںکتنے ہی جانور ایسے ہیں ، کہ بظاہر ان کی روٹی روزی کا کوئی سامان نہیں ؛ لیکن یہ اللہ کی رزق رسانی کا کرشمہ ہے ، کہ وہ تم جیسے قوتِ عمل اور فہم وشعور کی حامل مخلوق کو بھی رزق دیتا ہے اور ان کو بھی : ’’اَﷲُ  یَرْزُقُھَا وَاِیَّاکُمْ‘‘ (العنکبوت : ۶۰) قرآن نے ایک موقع پر یہ بات بڑی وضاحت سے کہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی چاہت کے مطابق رِزق کا سروسامان فراہم فرماتے ہیں ؛ کیوں کہ وہ اپنے بندوں سے ہر آن باخبر ہیں او رانھیں دیکھ رہے ہیں : ’’وَلٰکِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدْرٍ مَّایَشَآءُ اِنَّہٗ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرٌ بَصِیْرٌ‘‘ ۔ ( الشوریٰ: ۲۷)

جب انسان اپنی کوتاہ عملی اور اپنی فکر و نظر کی محدودیت کے باوجود ایک نظام کے ساتھ ہر کام انجام دیتا ہے اور دنیا کی حکومتیں اپنی رعایا کی ضرورتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بجٹ بناتی ہیں تو کیا خدا ئے علیم و بصیر اور رزاق و قدیر کو اپنے بندوں کی ضرورت اور کائنات میں اس کے پیدا کئے ہوئے وسائل کا کچھ اندازہ نہ ہوگا ؟
(بصیرت فیچرس)

You might also like