Baseerat Online News Portal

’طالبان نے جلوس محرم کو تحفظ فراہم کیا ‘ افغانستان میں شیعہ سنی اتحاد کا عدیم المثال مظاہرہ ، ۱۰۲ ویں یوم آزادی پر امارت اسلامیہ کے قیام کا اعلان،تجارتی تعلقات کے خاتمے کی تردید، قومی پرچم کے لیے دوسرے روز بھی مظاہرہ، دو ہلاک، پنج شیر میں جنگ کا خدشہ

کابل۔۱۹؍اگست: طالبان کے اقتدار میں آنے پر شیعہ سنی ٹکرائو کا جو خدشہ ظاہر کیاجارہاتھا وہ آج اس وقت پوری طرح ختم ہوگیا جب طالبان نے افغانستان کے طول وعرض میں بالخصوص شیعہ اکثریتی علاقے میں جلوس میں نہ صرف شرکت کی بلکہ اس کو تحفظ بھی فراہم کیا۔ واضح رہے کہ طالبان پشتون اور سنی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے خدشہ ظاہر کیاجارہا تھا کہ دیگر مسلک اور قبائل کے لوگوں کو زیادتیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے لیکن طالبان نے ہرمسلک اور مکتبہ فکر کے لوگوں کو مکمل تحفظ اور مذہبی رسومات کی آزادی کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کردکھایا۔ اطلاعات کے مطابق کابل، غزنی، ہرات اور شیعہ اکثریتی شہر مزارشریف سمیت افغانستان کے طول وعرض میں جمعرات کو عاشورائے حسینی کی مناسبت سے ماتمی جلوس نکالاگیا۔ کابل سے موصولہ رپورٹ کے مطابق حسینی عزاداروں نے بدھ کی رات شہر کی مساجد اور حسینیوں میں شب عاشور کی مناسبت سے شب بیداری کا اہتمام کیا ۔ کابل کے عزاداروں نے شب عاشور کے مخصوص اعمال کے ساتھ ہی شہدائے کربلا کی عزاداری کی اور رات نوحہ و ماتم میں بسر کی۔بلخ کے دارالحکومت مزارشریف میں یوم عاشورا کی مجالس اور جلوسوں کا انعقادکیاگیا۔ طالبان نے جلوسوں کو سکیورٹی فراہم کی۔کابل میں شب عاشور عزاداروں کا سب سے بڑا اجتماع مغربی کابل کی مسجد امام مہدی میں ہوا جہاں عزاداری کا سلسلہ ساری رات جاری رہا۔دریں اثناء طالبان قیادت نے اسلامی امارات افغانستان کے قیام کا اعلان کر دیا ہے طالبان کےترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے برطانوی قبضے کے خاتمے کے ۱۰۲برس مکمل ہونے پر اسلامی امارات افغانستان کا اعلان کیا جاتا ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے کی گئی ٹویٹ میں ایک تصویر شیئر کی گئی ہے جس پر دا افغانستان اسلامی امارات لکھا ہوا ہے۔ تصویر میں امارات اسلامی کا جھنڈا اور سرکاری نشان بھی موجود ہے۔ترجمان نے کہا کہ دنیا ہمیں برداشت کرنا سیکھے۔ہم نے کسی کے گھر پر حملہ نہیں کیا۔تمام ممالک سے سفارتی تعلقات چاہتے ہیں، لیکن اپنے ریاستی و مذہبی معاملات میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔ہم کسی کے جبر یا کسی ہتھیار کے سامنے ہار ماننے والے نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ تنظیم نے کبھی نہیں کہا کہ وہ کسی ملک کے ساتھ تجارت نہیں کرناچاہتی ہے، تنظیم ایسی کسی بھی افواہ کو خارج کرتی ہے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق تحریک طالبان کے ایک سینئر رکن وحید اللہ ہاشمی نے بتایا ہے کہ حکومتی نظام ایک کونسل کے تحت ہو سکتا ہے جبکہ طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ مجموعی طور پر انچارج رہیں گے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہا کہ طالبان اپنی صفوں میں شامل ہونے کے لیے افغان پائلٹوں اور مسلح افواج کے سپاہیوں سے بھی رابطہ کریں گے۔وحید اللہ ہاشمی نے اقتدار کے ڈھانچے کا جو خاکہ پیش کیا ہے وہ طالبان کے 1996 سے 2001 تک کے طرزِ اقتدار سے ملتا جلتا ہے۔ اُس وقت طالبان کے سپریم لیڈر ملا عمر نے پس پردہ رہ کر روزمرہ کے حکومتی کام ایک کونسل کے سپرد کر رکھے تھے۔ہاشمی نے مزید کہا کہ ’ہبت اللہ اخوندزادہ ممکنہ طور پر کونسل کے سربراہ کے اوپر ایک کردار ادا کریں گے جو ملک کے صدر جیسا ہوگا۔‘انہوں نے انگریزی میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’صدر کا کردار شاید ان کا (ہبت اللہ اخوندزادہ کا) نائب ادا کرے گا۔‘وہیں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کو وزیر اطلاعات ونشریات مقرر کیاگیا ہے۔ بتایاجارہا ہے کہ جلد ہی تمام اراکین شوریٰ کی فہرست اور عہدے ظاہر کیے جائیں گے۔ افغان طالبان کے عہدے دار کا کہنا ہے کہ خواتین سے بھی مشاورت کی گئی ہے اور انہیں بھی عہدوں کی پیش کش کا امکان ہے۔افغان طالبان کے عہدے دار نے یہ بات جاری کیئے گئے ایک بیان میں کہی ہے۔طالبان رہنماؤں اور سابق افغان حکومتی لیڈروں کے درمیان بات چیت جاری ہے۔طالبان عہدے دار کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ نئی افغان حکومت میں سابق عہدوں پر فائز کچھ افراد کوبھی عہدے دیئے جائیں گے۔طالبان عہدے دار نے بتایا کہ خواتین سے بھی مشاورت کی گئی ہے اور انہیں بھی عہدوں کی پیش کش کا امکان ہے۔برطانیہ سے ۱۰۲ ویں آزادی کے موقع پر پورے افغانستان میں یوم آزادی کی تقریبات بھی منعقد کی گئی اور جلوس آزادی میں خواتین کی بھی بڑی تعداد میں شرکت رہی۔ ادھر افغان طالبان نے دارالحکومت کابل اور دیگر صوبوں میں مساجد کے امام اور خطیبوں کے لیے گائیڈ لائنز جاری کردی ہے۔ طالبان نے ہدایت کی ہے کہ جمعہ کے خطبات میں شہریوں کو اسلامی نظام اور اتحاد کی طرف بلایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اہلِ وطن کو ترغیب دیں تاکہ سب ملک کی بہتری کے لیے کام کریں۔افغان شہریوں کے افغانستان چھوڑنے سے متعلق انہوں نے اپیل کی کہ امام اور خطیب شہریوں سے کہیں کہ وہ ملک چھوڑ کر نہ جائیں۔ انہوں نے ملکی معیشت کی بہتری کے لیے علماء کو ہدایت کی کہ وہ شہریوں کو ملک میں سرمایہ لانے کا کہیں۔طالبان نے اپنی گائیڈلائنز میں کہا کہ بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے بچنے کی تلقین کی جائے۔وہیں افغانستان کے مختلف شہروں میں دوسرے روز بھی مظاہرین افغانستان کا جھنڈا لہراتے سڑکوں پر نکل آئے جس کے بعد ’طالبان کی ایک ہجوم پر فائرنگ‘ سے دو افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ میں کابل کے اندر مردوں اور کچھ خواتین پر مشتمل ہجوم افغانستان کا جھنڈا لہرا کر ’ہمارا جھنڈا ہماری پہچان‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔روئٹرز نے اس حوالے طالبان ترجمان سے رابطہ کیا لیکن وہ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے دستیاب نہیں تھے۔افغانستان کے شہر خوست میں طالبان انتظامیہ نے کرفیو نافذ کردیا، جس کے بعد سڑکوں پر سناٹا ہوگیا ہے۔طالبان حکام کا کہنا ہے کہ خوست میں ہر قسم کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ شہری آئندہ احکامات تک گھروں میں رہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ کرفیو کا مقصد شہر میں ہنگامہ آرائی کو روکنا ہے۔گزشتہ روز خوست میں بھی افغانستان کے قومی پرچم کے معاملے پر مظاہرے ہوئے تھے۔ادھر طالبان قیادت نے شہریوں کو کابل ایئرپورٹ چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ طالبان نے ملک سے نکلنے کی امید لیے کابل ایئرپورٹ کے باہر منتظر افغان شہریوں کو یہ کہتے ہوئے اپنے گھروں کو واپس جانے کا کہا ہے کہ وہ کسی کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتے۔خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ پیشرفت اس واقعے کے ایک دن بعد ہوئی ہے جس میں طالبان جنگجوؤں کی مظاہرین پر فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان کے سابق مجاہدین کمانڈر احمد شاہ مسعود کے صاحبزادے احمد مسعود کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی طالبان کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہیں۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں احمد مسعود لکھتے ہیں کہ ’میں آج وادی پنجشیر سے لکھ رہا ہوں اور تیار ہوں اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کے لیے اور مجاہدین جنگجو بھی تیار ہیں ایک بار پھر طالبان کے خلاف لڑنے کے لیے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے پاس ہتھیار اور دیگر اسلحہٰ موجود ہے جو انہوں نے اپنے والد کے زمانے سے اکٹھا کرنا شروع کردیا تھا کیونکہ انہیں پتہ تھا اس کی ایک بار پھر ضرورت پڑ سکتی ہے۔فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق طالبان مخالف معروف مزاحمتی کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے نے امریکا سے ہتھیاروں کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

You might also like