مضامین ومقالات

لکیر ہی پیٹتے رہ گئے۔۔۔!

مرکزی حکومت نے فحش ویب سائٹس پر پابندی پر اپنے قدم پیچھے ہٹالئے اورنام نہاد شخصی آزادی کے علمبرداروں کے سامنے دفاعی پوزیشن میں آگئی۔ لکیر پیٹنے کی بجائے یہ بہتر ہوتاکہ فرقہ واریت کو فروغ دینے کی بجائے حکومت ہر فرد کے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتی۔ پھر دیکھئے کیسے سماج میں اخلاقی بلندی پروان چڑھتی ہے کیونکہ کوئی بھی مذہب فحاشی اور بے راہ روی کی تعلیم نہیں دیتا۔۔۔

٭خلیل الرحمان خان
گزشتہ دنوں مرکزی حکومت کی ایما پروزرات مواصلات نے نہایت رازدارانہ طریقے سے انٹرنیٹ پر موجود آٹھ سو سے زائد فحش ویب سائٹس کو بلاک کرنے کی ہدایت جاری کی تھی ۔ کئی سنجیدہ اور مذہبی حلقوںکی طرف سے حکومت کے اس اقدام کی ستائش کی گئی۔لیکن نام نہاد اظہار آزادی کے علمبرداراس عمل کو شخصی آزادی میں حکومت کا دخل قرار دیتے ہوئے مخالفت پر اتر آئے اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پرپیچ تاب کھاتے ہوئے جم کر اپنا غصہ اتارا۔ حکومت بھی ان کے دبائو میں آگئی اور 10اگست کو سپریم کورٹ میں اندور کے ایک وکیل کملیش وسوانی کی عرضداشت (جس میں فحش ویب سائٹس پرمکمل پابندی لگانے کی درخواست کی گئی تھی) کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل مُکل روہتگی نے چیف جسٹس ایچ ایل دتو کی بینچ کے سامنے حکومت کا موقف واضح کیا کہ حکومت صرف بچوں کے جنسی استحصال پرمبنی ویب سائٹس پر قدغن لگائے گی ،رہی بات تمام فحش سائٹس پر پابندی لگانے کی تو حکومت اس سے معذور ہے کیونکہ کوئی شخص اپنی خلوت میں کیا دیکھتا ہے ،فرداََ فرداََنگرانی کرنا حکومت کیلئے ممکن نہیں ہے۔ اٹارنی جنرل کے مطابق فحش سائٹس پرپابندی کے معاملے میں سماج اور پارلیمنٹ میں بحث کی ضرورت ہے۔ عدالت عظمیٰ نے بھی ان سائٹس پر پابندی لگانے سے انکار کرتے ہوئے دلیل دی کی ایسا کرنا آئین کی دفعہ21(شخصی آزادی کے حقوق) کے خلاف ورزی ہوگی۔ مرکزی حکومت کے واضح موقف کے باوجود انٹر نیٹ سروس پروائیڈرس نے اس ضمن میںکوئی مخصوص کارروائی کرنے سے خود کو قاصر بتایا ہے اور کہا کہ حکومت بذات خود ان ویب سائٹس کے ناموں کی فہرست پیش کرے جن پر پابندی مقصود ہوں۔ انٹرنیٹ سروس پروئیڈر ایسوسی ایشن آف انڈیا کے صدر راجیش چھیریا کے مطابق ہمارے ملک میں کون سی چیز فحاشی کے زمرے میں آتی ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ ممبئی سے دہلی اور شہر سے گائوں کے درمیان فحاشی اوربداخلاقی کے میزان الگ الگ ہیں۔جو چیزیں شہروں میں عام بات سمجھی جاتیں ہیں وہی عمل مواضعات میں فحاشی اور مخراب اخلاق عمل کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ راجیش کے مطابق اس بات کا فیصلہنہ تو حکومت اور نہ عدالت کرسکتی ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے شخص کو کتنی آزادی دی جانی چاہئے بلکہ فرد کے ’ذاتی احتساب‘ ہی سے اس کا پیمانہ مقرر کیا جاسکاتا ہے ۔ اب یہا ں سارا معاملہ سماج اور فرد کی خود احتسابی پر سمٹ کر رہ گیا ہے۔اب ایسا سماج جہاں فحاشیپھیلانے والے ،مخرب الخلاق فلموں میں کام کرنے والوں کو’سلیبریٹی‘ کادرجہ دیا جاتا ہو اور دوسری طرف اسی فحاشی ،عریانیت اوربے راہ روی کے فروغ کے سبب عصمت دری جیسے گھنائونے فعل کا شکار ہونے والی خواتین سے ناروا سلوک کیا جانا عام بات ہوں تو کیا ممکن ہے کہ فرد کی خود احتسابی کے ذریعہ اس مسئلہ پر قابو پایا جاسکتا ہے؟
انٹرنیٹ اسی صدی کی نعمتِ غیر مترقبہ ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ دو دھاری تلوار بھی ہے ۔ اس کا صحیح استعمال جہاں فرد کوآسمان کی بلندیوں تک پہنچا سکتا ہے تو اس کا غلط استعمال تنزلی کے تاریک گڑھے میں دھکیل بھی سکتا ہے۔ موجودہ دور جدید تکنالوجی اور اسمارٹ فون کا زمانہ ہے۔ وہ معلومات جن کا آج سے کچھ سالوں پہلے آسانی سےدستیاب ہونا مشکل تھا اب وہ صرف ایک کلک پر ہماری دسترس میں ہیں۔لیکن اس معلومات کے انفجار اورآسانی سے سب کچھ دستیاب ہونے کی سہولت نے ہمارے سماجی ڈھانچے کو نہایت نقصان پہنچایا ہے۔ اب زیادہ تر لوگ شخصی ملاقات کی بجائے میسیج ،چیٹنگ اورڈئجیٹل ورلڈ پر ہی منحصر ہونے لگے ہیں۔ اس سے نہ صرف فرد کی ذہنی صلاحیتوں کے ارتقا کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ ہمارے سماج کا روایتی تانابانا بھی بری طرح متاثر ہورہاہے۔ آج نوعمروں کے ہاتھوں میں موجود اسمارٹ فون کسی سم قاتل سے نہیں۔ آسانی سے فحش مواد کی دستیابیکی وجہ سے سماج میں جنسی جرائم میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔اس پر قابو کیلئے تمام قوانین بے اثر ثابت ہورہے ہیں۔ تو کیا ایسے میں صرف چند فحش ویب سائٹس کو بلاک کردینے سے مسئلہ حل ہوجائے گا یا پھر ضرورت ہے ایسے نفوس تیار کرنے کی جو کانٹوں بھری راہوں میں بھی دامن بچاکر نکلنے کا ہنر جانتے ہوں ۔اطراف میں لاکھ برائی سہی لیکن دل میں تقویٰ اور پاکیزگی کا نور منور ہوتو فحاشی اور عریانیت کی سونامی بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ بہتر ہواگرحکومت لکیر پیٹنے کی بجائے سماج کے بنیادی مسائل پر توجہ دیں۔ فرقہ واریت کا بیج بونے کی بجائے ہر فرد کو اس بات کی ضمانت دی جائے کہ آپ چاہے جس بھی مذہب کے ماننے والے ہوں، آپ کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔تو پھر دیکھئے کیسے سماج میں اخلاقی بلندی پروان چڑھتی ہے کیونکہ کوئی بھی مذہب فحاشی اور بے راہ روی کی تعلیم نہیں دیتا۔
(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker