Baseerat Online News Portal

کورونا وباکامقابلہ کرنے کی ہماری کوششیں اسلامی و انسانی اقدار پر مبنی ہیں.  کورونا کے خاتمے کے لیے عالمی ادارۂ صحت کے زیر اہتمام جنیوامیں منعقدہ عالمی یکجہتی کانفرنس میں رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹرشیخ محمدبن عبد الکریم عیسیٰ کا اظہار خیال

 

(عربی جریدۃ الریاض سے ترجمہ ڈاکٹر جسیم الدین)

جینوا:(ایجنسی) عربی روزنامہ ’جریدۃ الریاض ‘ کی رپورٹ کے مطابق کورونا وبا کے خاتمے کے لیےسوئس دار الحکومت نے جنیوا عالمی یکجہتی کانفرنس کا اہتمام کیا، کانفرنس کی میزبانی عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کی ۔ رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سکریٹری شیخ ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسیٰ نے کانفرنس میں کلیدی خطبہ پیش کیا، کانفرنس میں عالمی ادارۂ صحت کے جنرل سکریٹری ٹیدروس ایڈھانوم، سکریٹری جنرل برائےانٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس، وریڈ کریسنٹ سوسائٹیوں کے سربراہ جگن چاپگن اور عالمی چرچوںکی کونسل سمیت بڑی بین الاقوامی تنظیموں اور متعدد حکومتی سماجی شخصیات کی موجودگی رہی۔کانفرنس کی نظامت ناروے کے سابق وزیر اعظم کجیل بنڈویک نے کی ۔کانفرنس کے شرکا نے وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے معاشرے میں بیداری لانے پر زور دیا، بطور خاص ویکسین کی خوراک لازمی طور پر لینے کی تلقین کی۔شرکا نے ویکسین کی منصفانہ تقسیم کے لیے ایک روڈ میپ بھی پیش کیا۔ڈاکٹر شیخ محمد بن عبد الکریم نے اپنے کلیدی خطبے میں کہاکہ:’عالمی ادارۂ صحت کی طرف سے دنیا کی تکلیف دہ مرض (کووڈ۱۹)کے خاتمے کےلیے کی جانے والی شاندارکوششوں کو عالمی سلامتی کے قیام کے لیے غیر معمولی جدوجہد کے طور پر بھی دیکھا جاسکتاہے‘ ۔انھوں نے اس بات پر زوردیا کہ مذکورہ ادارہ نے وباسے حفاظت وسلامتی کے لیے بہت ہی باریکیوں کے ساتھ قابل اعتماد ہدایات ، بین الاقوامی سائٹس کے ذریعے رہنمائی کرکے عالمی وبا کی تخفیف میں قابل ذکر کارنامہ انجام دیاہے۔موصوف نے مزید کہاکہ عالمی ادارۂ صحت کی جہد مسلسل سے روح تک سرایت کرجانے والی اس وباکے پھیلاؤ میں نمایاں طور کمی آئی ہے، نیز صحت کے لیے مضرت رساں چیزوں پر بھی قدغن لگی ہے۔ ناروے میں ’برج بلڈنگ ایوارڈ‘ کی ستائش کرتے ہوئےاسے عالمی ادارۂ صحت کو دینے کی وکالت کی۔انھوں نے اس بات پر زور دیاکہ دنیا اس وباکا مقابلہ دوسروں کے سنجیدہ تعاون کے بغیر نہیں کرسکتی ، اور یہی عالمی ادارۂ صحت کا مطالبہ بھی ہے۔ معاشرے میں وبا کے پھیلاؤ سے بچاؤ کی تدابیر کو اپنا نے کے لیے ہر چھوٹی بڑی تنظیموں کو اپنی وسعت کےلحاظ سے تعاون کرنا چاہیے۔معاشرے کے ہر فرد کے اندر بیداری کی مہم کے ساتھ تنظیم کی ہدایات کی وسیع پیمانے پر منظم انداز میں تشہیر بھی ضروری ہے۔شیخ موصوف نے قومی معاشروں کو درپیش مسائل پر بھی روشنی ڈالی، حفاظتی ٹیکوں کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ غریب ممالک کےلیے مطلوبہ مقدار میں ٹیکوں کی فراہمی اہم مسئلہ ہے۔انھوں اس طرف توجہ دلائی کہ اس وبا سے بچنے کے لیے جو تدابیر بتائی گئی ہیں ان پر عمل کرکے ہی وبا سےبچنا ممکن ہے۔ انھوں نے عالمی وبا کورونا کے ابتدائی دور سے لے کر اب تک اسے روکنے کے سلسلے میں رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کی کوششوں کا جائزہ بھی پیش کیا ، جس کا آغاز مرکزی دفتر مکۃ المکرمۃ سے کیا گیا۔انھوں نے کہاکہ وبائی بیماری سے نمٹنے کے لیے ہماری کوششیں ہمارے اسلامی وانسانی اقدار پر مبنی ہیںجو کسی رنگ ونسل، ذات پات سمیت دیگرامتیاز اور بھید بھاؤ کا قائل نہیں ہے۔انھوں نے کورونا کے خاتمے کے لیے کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہاکہ دنیا بھر کے ۳۰ سے زائد ممالک کے لیے ہماری جانب سے امداد فراہم کی گئی بطور خاص ان ممالک کا تعاون کیا گیا، جن کا شمار غریب مملکت میں ہوتا ہے۔تعاون کرنےمیں نسلی ، لسانی ، سیاسی ، مذہبی اور نہ ہی اس طرح کی دیگرامتیاز کو روا رکھا گیا۔ہماری کوششیں اب بھی جاری ہیں اور ہم اسے اپنا فرض سمجھ کر انجام دے رہے ہیں۔انھو ںنے مزید کہاکہ ہم نے وبائی امراض کے پھیلاؤ کےوقت امیر یورپی ممالک کی بھی مدد کی ہے۔جب ان کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت تھی ، ان کا نظام صحت تباہی کے دہانے پر تھاتو ہم نے برادرانہ رویہ اپنا تے ہوئے حتی المقدور تعاون کیا ۔ہم وبا سے مقابلہ کرنے کے لیے ایک خاندان کے رکن کی طرح سامنے آئے۔شیخ موصوف نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیاکہ بعض نظریات بظاہر مذہب پر مبنی ہوتے ہیں خواہ وہ مسلمانوں میں ہویاکسی اور میں،لیکن ہم نے ویکسین کے سلسلے میں اعتدال کی راہ اپنائی اور ہر ایک کو اسے استعمال کرنے کی تلقین کی۔

عالمی ادارۂ صحت کے ڈائرکٹر جنرل نے کہاکہ:’یہ فیصلہ ہم سب کے لیے ہے، ہمارے پاس وہ تمام وسائل ہیں جو ہمیں کووڈ ۱۹ کو روکنے، ٹیسٹ کروانے او رعلاج کرنےمیں مدد کرتے ہیں‘ ۔انھوں نے وضاحت کی کہ کووڈ۱۹ وبائی مرض نے دنیا بھر میں انسانی حالات کو خراب کیااورطرز زندگی کو نقصان پہنچایا، سفر اور تجارت

پر پابندیوں نے انسانی ہمدردی پر مبنی یکجہتی میں رکاوٹ ڈالی ، لیکن اس نے مقامی برادریوں کو مل کر یکجہتی اور فائدہ اٹھانے کی طاقت بھی دکھائی جو ان کے پاس وسائل کی شکل میں موجود تھے۔کانفرنس سے فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے سربراہ نے بھی خطاب کیا۔

(جریدۃ الریاض سے ترجمہ : ڈاکٹر جسیم الدین)

You might also like