Baseerat Online News Portal

مکہ مکرمہ میں مولانا حبیب الرحمن ثانی علیہ الرحمہ و مولانا عبد الحئی قاسمی ويشالوی کی وفات پر تعزیتی نششت کا انعقاد

آن لائن نیوزڈیسک
بتاريخ 11/ستمبر 2021 بروز شنبہ ، بعد نماز عشاء مکہ مکرمہ کے مشہور و معروف ہوٹل ریدان میں، شیر اسلام حضرت مولانا حبيب الرحمن ثانی لدھیانوی شاہی امام پنجاب، اور حضرت مولانا حافظ عبدالحی قاسمی ویشالوی کے حادثہ وفات پر ایک تعزیتی نششت کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں مکہ میں موجود احباب نے شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز حافظ یاسر کلیم سلمہ الله کی تلاوت قرآن سے ہوا،بعدہ شرکاء مجلس نے مرحومین سے متعلق اپنے اپنے قلبی تاثرات کا اظہار فرمایا۔مولانا ڈاکٹر نعمت اللہ ناظم قاسمی نے فرمایا کہ حضرت مولانا حبيب الرحمن ثانی لدھیانوی رحمہ اللہ نہایت ہی جری اور بے باک عالم دین تھے، انہوں نے الاحرار کے پلیٹ فارم سے بڑے نمایاں کارنامے انجام دیئے، ان کا انتقال ایک عظیم خسارہ ہےاور حضرت مولانا عبدالحی صاحب سے متعلق انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہایت ہی سلجھے ہوئے اور اخلاق مند عالم دین تھے، میرا ان سے ایک معاملہ ہوا تھا، جس کو انہوں نے بحسن و خوبی نبھایا۔مولانا مفتی محمد شمیم اختر القاسمی ریسرچ اسکالر جامعہ ام القری نے بھی ان حضرات کے انتقال پر اپنے شدید رنج وغم کا اظہار فرمایا،مولانا حبيب الرحمن ثانی لدھیانوی کو ان کی دینی ملی رفاہی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا، مولانا حافظ عبدالحی صاحب مرحوم کے بارے میں انہوں نے فرمایا کہ موصوف مرحوم سے میرے تعلقات بیس سال سے زائد عرصے پر محیط ہے، ہر معاملے میں انہوں نے ہمیشہ اعلیٰ ظرفی اور سبقت کا مظاہرہ کیا، وہ میرے چھوٹے بھائی کی طرح تھے، معاملات کے بڑے صاف وشفاف تھے، انہوں نے ذاتی محنت اور لگن سے اتنی کم عمری میں کافی ترقیات حاصل کیں۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مجلسوں سے موت کی یاد تازہ ہوتی ہے، انسان کو ہمیشہ موت کے لیئے تیاراور حسن خاتمہ کی دعاء کا اہتمام کرنا چاہیے۔اظہار خیال کرنے والوں میں مولانا فیروز احمد قاسمی، مولانا حافظ عرفان الحق قاسمی بھی شامل ہیں۔اس موقع پر مفتی محمد عطاء اللہ داؤد قاسمی ریسرچ اسکالر جامعہ ام القری نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور دونوں مرحومین کی وفات پر افسوس کااظہار کیا۔ مولانا نے کہا کہ قرآن مجید میں موت کے تعلق سے لفظ ’’ذائقہ‘‘استعمال ہوا ہے، یہ ہر بندہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق سکرات کے وقت اس چیز کا احساس کرتا ہے۔ اسی طرح مولانا نے احادیث میں مومن اور منافق و نافرمان بندے کی موت کی جو مثال ہے وہ بھی پیش کی۔ مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی کی خدمات پر روشنی ڈالی اور ختم نبوت کے نمایاں کارنامے کو اجاگر کیا، ساتھ ساتھ انہوں نے کہا بالمشافہ ملاقات تو نہ ہوسکی تاہم ان کی تنظیم’’الاحرار‘‘ کی ایمانی حرارت محسوس کرتارہا ہوں۔پروگرام کی نظامت مفتی محمد کلیم أختر القاسمی نے کی، موصوف نے بھی ان مرحومین کو خراج عقیدت پیش کیااور دعاء پر مجلس کا اختتام ہوا اورعشائیہ مفتی کلیم صاحب کی طرف سے ہوا۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان مرحومین کی مغفرت اور درجات بلند فرمائے، جنت میں اعلیٰ مقام، و پس ماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔( آمین)

You might also like