Baseerat Online News Portal

داعش سے مبینہ تعلق کی بنیادپرگرفتاررضوان کی ضمانت عرضداشت پردفاع کی بحث مکمل

ممبئی:15/ ستمبر(بی این ایس)
اترپردیش کے شہر کشی نگر سے ممنوع تنظیم داعش (آئی ایس آئی ایس) کے لئے کام کرنے اور مسلم نوجوانوں کو آئی ایس آئی ایس کی جانب راغب کرانے کے الزامات کے تحت گرفتار رضوان احمدکی ضمانت پر رہائی کی درخواست پر آج ممبئی ہائی کورٹ میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران دفاعی وکیل ایڈوکیٹ شریف شیخ نے دو رکنی بینچ کو بتایا کہ ملزم گذشتہ پانچ سال سے زائد عرصہ سے جیل میں قید ہے اور ملزم کے خلاف ابتک جتنے بھی سرکاری گواہوں نے خصوصی این آئی اے عدالت میں گواہی دی ہے سے ایسا لگتا ہے کہ ملزم کو اس مقدمہ میں جبراً پھنسایا گیا ہے۔
جسٹس ایس ایس شندے اور جسٹس جمعدار کو ایڈوکیٹ شریف شیخ نے مزید بتایا کہ ابتک استغاثہ نے تین سو میں سے صرف 36 گواہوں کو عدالت میں گواہی کے لیئے پیش کیا ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس رفتار سے مقدمہ کی سماعت ہوری ہے اور ایسے ہی سماعت ہوتے رہی تو اگلے دس برسوں میں بھی مقدمہ ختم نہیں ہوگا۔
ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ چارج شیٹ میں ملزم کے ملاڈ کے نواجوان کو جہاد کی ترغیب دینے اور داعش میں شمولیت اختیار کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے نیز استغاثہ ملزم کے خلاف ایسا کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا ہیکہ ملزم ہندوستان میں داعش تنظیم کا نائب امام تھا بلکہ یہ ایک خیالی اور فرضی عہدہ ہے جس سے ملزم کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ استغاثہ نے ملزم رضوان کے خلاف گواہی دینے کے لیئے ایک شخص (نام مخفی رکھا گیا ہے)کو نامزد کیا تھا لیکن اس شخص نے دوران گواہی عدالت میں روتے ہوئے یہ کہا کہ اس سے اے ٹی ایس نے جبراً ملزم کے خلاف بیان دینے کو کہا تھا بیان درج کرتے وقت اس کی ایک سالہ لڑکی کو برہنہ کرکے کار کے بونٹ پر بیٹھایا تھا جو گرم ہونے کی وجہ سے تپ رہا تھا۔خصوصی این آئی اے عدالت نے اپنے ریکارڈ پر ملزم کے اس بیان کو نوٹ کیا ہے جسے آج ہائی کورٹ میں پیش کیا گیا۔
اسی درمیان ایڈوکیٹ شریف شیخ کی بحث کا اختتام ہوا جس کے بعد عدالت نے سرکاری وکیل کی بحث کے لیئے 23/ ستمبر صبح دس بجے کا وقت مقرر کیا ہے۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے ایڈوکیٹ شریف شیخ نے بحث کی جبکہ ان کی معاونت شاہد ندیم، کرتیکا اگروال، عادل شیخ، قربان حسین و دیگر نے کی۔
واضح رہے کہ استغاثہ کا الزام ہیکہ ملزم ممبئی کے ملاڈ مالونی علاقے کے چند مسلم نوجوانو ں کو انٹرنیٹ کی مدد سے داعش میں شمولیت کے لئے اکسا رہا تھا نیز اسی کی ایماء پر سال 2016 میں ملک سے فرار ہونے والے ایک مسلم نوجوان کی مدد کرنے کے اور اس کی ذہن سازی کا بھی الزام ہے۔
دوما ہ قبل خصوصی این آئی اے عدالت نے ملزم رضوان احمد کی ضمانت عرضداشت مسترد کردی تھی جس کے بعد جمعیۃ علماء مہاراشٹرقانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کی ہدایت پر نچلی عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے جس پر آج سماعت عمل میں آئی جسکے دوران دفاعی وکیل نے ضمانت پر رہائی کی عرضداشت پر بحث مکمل کرلی۔

You might also like