Baseerat Online News Portal

مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

وائس چانسلر کے بدست جدید سرجری سیمینار ہال کا افتتاح
علی گڑھ، 15؍ ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی) کے سرجری شعبہ میں ملٹی میڈیا سہولیات سے لیس سو سیٹوں والے جدید ترین سرجری سیمینار ہال کا افتتاح کیا۔
اس موقع پر وائس چانسلر نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ جدید ٹکنالوجی سے لیس نیا کثیر مقصدی ہال تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مددگار ہو گا اور طبی تحقیق میں بین الاقوامی تعاون کو آسان بنائے گا‘‘۔
پروفیسر منصور نے کہا ’’سرجری طب کی ان شاخوں میں سے ایک ہے جس میں اچھی سہولیات، بنیادی ڈھانچہ اور مہارت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ حال ہی میں جاری شدہ این آئی آر ایف کی رینکنگ میں جے این ایم سی پندرہویں نمبر پر ہے۔ ہمارے ڈینٹل کالج نے بھی اس رینکنگ میں ممتاز اداروں کی فہرست میں جگہ حاصل کی ہے۔ اگر ہم نئے ایم سی ایچ/ ڈی ایم کورسز شروع کریں گے تو میڈیکل میں ہماری رینکنگ مزید بہتر ہوگی‘‘۔ انھوں نے کہا کہ بہتر رینکنگ نہ صرف جے این ایم سی میں اعلیٰ تعلیمی معیار کی عکاسی کرتی ہے، بلکہ میڈیکل کالج اسپتال میں کمزور طبقات کے لوگوں کے لئے دستیاب صحت سہولیات کے معیار کا بھی ثبوت ہے‘‘۔
وائس چانسلر نے اس موقع پر نئے تعمیر شدہ سرجری میوزیم کا بھی معائنہ کیا۔
پروفیسر راکیش بھارگو (ڈین، فیکلٹی آف میڈیسن) نے سیمینار ہال کی بر وقت تزئین کاری میں پروفیسر سید امجد علی رضوی (چیئرمین، سرجری شعبہ) اور ڈاکٹر محمد واصف علی کی کا وشوں کا ذکر کیا۔
پروفیسر شاہد علی صدیقی (پرنسپل اور چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، جے این ایم سی) نے کہا کہ جدید ترین ہائی ٹیک سرجری سیمینار ہال کا تصور وائس چانسلر نے پیش کیا جس کی اشد ضرورت تھی۔
خطبہ استقبالیہ میں پروفیسر افضال انیس (کارگزار چیئرمین، شعبہ سرجری) نے جدید سرجری سیمینار ہال کی خصوصیات کا ذکر کیا۔ پروفیسر سید امجد علی رضوی نے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے سیمینار ہال کی جدید کاری میں مطلوبہ تعاون فراہم کرنے پر وائس چانسلر کا شکریہ ادا کیا اور جے این ایم سی کے مختلف شعبوں کے سبھی اساتذہ، طلبہ اور محققین پر اس سہولت کا بہتر فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔
پروفیسر فرید مہدی (ممبر انچارج، بلڈنگ ڈپارٹمنٹ)، پروفیسر محمد ریحان (ممبر انچارج، بجلی شعبہ)، راجیو شرما (یونیورسٹی انجینئر)، جے این ایم سی کے مختلف شعبوں کے سربراہان اور اساتذہ نے تقریب میں شرکت کی۔
٭٭٭٭٭٭
پروفیسر محمد تابش، اے ایم یو کورٹ کے ممبر مقرر
علی گڑھ، 15؍ ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے بایو کیمسٹری شعبہ (فیکلٹی آف لائف سائنسز) کے چیئرمین پروفیسر محمد تابش کو سینیارٹی کی بنیاد پر آئندہ تین برس کے لئے یا صدر شعبہ کے عہدے پر برقرار رہنے تک اے ایم یو کورٹ کا ممبر مقرر کیا گیا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
آزادی کا امرت مہوتسو اور یوم ہندی پر تقریبات و انعامی مقابلوں کا اہتمام
علی گڑھ، 15؍ ستمبر: آزادی کا امرت مہوتسو اور یوم ہندی کے موقع پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ویمنس کالج نے تین روزہ بین الاقوامی خطبات سیریز کا اہتمام کیا۔
افتتاحی خطبہ نیدرلینڈ کی پروفیسر پشپیتا اوستھی نے پیش کیا۔ انھوں نے آزادی کی اہمیت اور عام انسان کے وقار و احترام پر اظہار خیال کیا۔ بنارس ہندو یونیورسٹی کی پروفیسر شردھا سنگھ نے جنگ آزادی میں خواتین کی حصہ داری کے موضوع پر اینی بیسٹ کے حوالہ سے گفتگو کی۔
یومِ ہندی کی مناسبت سے ہیمبرگ، جرمنی سے ڈاکٹر رام پرساد بھٹ نے بین الاقوامی سطح پر ہندی کی صورت حال پر روشنی ڈالی۔ خطبہ کی صدارت ویمنس کالج کی پرنسپل پروفیسر نعیمہ خاتون نے کی، جب کہ نظامت کے فرائض پروفیسر ریشمہ بیگم نے انجام دئے۔ کوآرڈنیشن کی ذمہ داری ڈاکٹر شگفتہ نیاز نے نبھائی۔ اس موقع پر شعبہ ہندی کے پروفیسر عبدالعلیم، پروفیسر تسنیم سہیل، پروفیسر عفت اصغر، پروفیسر شمبھو ناتھ تیواری، پروفیسر رومانہ صدیقی، پروفیسر اسماء، ڈاکٹر انیتا، ڈاکٹر فیروز، ڈاکٹر شمیم، ڈاکٹر نازش، ڈاکٹر راحیلہ رئیس، ڈاکٹر ثناء فاطمہ اور ریسرچ اسکالروں نے شرکت کی۔
دوسری طرف ایس ٹی ایس اسکول میں یوم ہندی پر آن لائن پروگرام منعقد کیا گیا، جس کی صدارت پرنسپل فیصل نفیس نے کی۔ اساتذہ اور طلبہ نے پروگرام میں شرکت کی۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر نسیم احمد نے انجام دئے۔ اس موقع پر بارہویں جماعت (آرٹس) کے طالب علم ایم ڈی شہباز شمس اور یاسر عرفات نے تقریر کی۔
مسٹر فیصل نفیس نے اپنے خطاب میں ہندی زبان کی ترویج و اشاعت اور اس کے زیادہ استعمال پر زور دیا۔ انھوں نے کہاکہ ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی ہندی مقبول ہورہی ہے جو ہمارے لئے مسرت کی بات ہے۔ انھوں نے سبھی شرکاء کو یوم ہندی کی مبارکباد دی۔
نائب پرنسپل محمد طارق، ڈاکٹر نسیم احمد، عدنان احمد، فرحان حبیب، خان ریاض احمد، جیوتی کُسُم بل، نیلوفر انور وغیرہ نے پروگرام کو کامیاب بنانے میں تعاون کیا۔
اے ایم یو سٹی اسکول کی جانب سے یوم ہندی پر متعدد پروگرام منعقد کئے گئے۔ اس موقع پر ہوئے تقریری مقابلہ میں نویں سے بارہویں جماعت کے بیس طلبہ نے ’کورونا نے طرز زندگی کو تبدیل کیا‘ موضوع پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اس میں اوّل انعام بارہویں جماعت کے عدنان شاہین نے، دوئم انعام گیارہویں جماعت کے فرحان سہیل نے اور سوئم انعام ہرشت آریہ (دسویں جماعت) اور ارشاد عالم (گیارہویں جماعت) نے مشترکہ طور سے حاصل کیا۔
شجرکاری اور ماحولیات کے موضوع پر منعقدہ سلوگن رائٹنگ مقابلہ میںچھٹی سے آٹھویں جماعت کے طلبہ نے حصہ لیا۔ اس میں مینک پاٹھک، محمد شارق اور عفان دانش نے بالترتیب اوّل، دوئم و سوئم انعام حاصل کیا۔
اصل پروگرام آن لائن ہوا جس میں شعبہ ہندی کے پروفیسر تسنیم سہیل بطور مہمان خصوصی شامل ہوئے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہاکہ زبانوں کا علم حاصل کرنا اچھی عادت ہے جس سے ہم دوسرے کی ثقافت و تاریخ کو بھی سمجھتے ہیں۔ زبان جوڑنے کا کام کرتی ہے۔ انھوں نے ہندی اور اردو زبانوں کے باہمی تعلق کے بارے میں بھی گفتگو کی۔
پرنسپل سید تنویر نبی نے ہندی کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہندی رفتہ رفتہ مقبول ہورہی ہے اور سرکاری کام کاج میں اس کا خاطر خواہ استعمال ہورہا ہے۔
ہندی کی استاد فارحہ افضال نے ہندی کی اہمیت پر اپنے خیالات پیش کئے جب کہ تنویر احمد نے کویتا پاٹھ کے ذریعہ ماں کی عظمت بیان کی۔ ڈاکٹر فیاض احمد نے بھی ہندی کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جب کہ محمد اقبال خاں نے بھارتیندو کی کویتا کے توسط سے ہندی کی افادیت بیان کی۔
پروگرام کی نظامت پروگرام انچارج ڈاکٹر ذوالفقار نے کی ، جب کہ شیبا خاں نے اظہار تشکر کیا۔ پروگرام کے انعقاد میں سی سی اے انچارج انور سلطانہ اور کمپیوٹر ٹیچر شعیب احمد اور عظیم بیگ نے بھی تعاون کیا۔
٭٭٭٭٭٭
پروفیسر ایم جے وارثی نے انگریزی کی آن لائن تدریس پر خطبہ دیا
علی گڑھ، 15؍ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ لسانیات کے پروفیسر ایم جے وارثی نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد کے سنٹر فار پروفیشنل ڈیولپمنٹ آف اردو میڈیم ٹیچرز کے دو روزہ آن لائن قومی سیمینار بعنوان ’ ڈجیٹل عہد میں انگریزی زبان کی تدریس: مسائل و مواقع‘ میں ’انگریزی کی آن لائن تدریس‘ پر افتتاحی خطبہ دیا۔
ایلن اور ووڈ (2020) کے حوالے سے پروفیسر وارثی نے کہا : ’’ہم آمنے سامنے کی کلاس میں جو کچھ کرتے ہیں اس کی ہو بہو نقل نہیں کر سکتے لیکن ہم وہی نتائج حاصل کرنے کے طریقے ڈھونڈ سکتے ہیں‘‘۔ انھوں نے کہاکہ آن لائن تدریس کو دلچسپ بنانا وقت کا تقاضا ہے کیونکہ کووِڈ کے بعد آن لائن تعلیم و تدریس کو وسیع پیمانہ پر اپنایا گیا ہے ۔
پروفیسر وارثی نے کہا ’’کووڈ کے بعد کے منظر نامے میں، آن لائن تعلیم جدید اعلیٰ تعلیم کا حصہ بن گئی ہے، لیکن یہ تصور وبائی مرض سے پہلے کے دنوں میں بھی موجود تھا۔ پروفیسر وارثی نے کہا کہ ہندستان میں انجینئرنگ انگلش، بزنس انگلش، میڈیکل انگلش اور ایوی ایشن انگلش وبا سے پہلے آن لائن پڑھائی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہاکہ آن لائن تدریس کے اپنے چیلنجز ہیں جس کی وجہ سے کلاسوں کی نوعیت اور امتحان کے مستقبل پر بحث ہورہی ہے۔ اس بات کا احساس کرکے کہ وبائی مرض توقع سے زیادہ دیر تک رہے گا، پورے ملک میں اساتذہ نے تدریس کے لئے آن لائن پلیٹ فارم جیسے کہ بلیک بورڈ لرن، اسکائپ، گوگل ہینگ آؤٹ، کلاس روم، میٹ، وہیئربائی، زوم، ویب روم، ایڈموڈو اور مائیکروسافٹ ٹیم کا استعمال کیا۔
پروفیسر وارثی نے کہاکہ انگریزی کی تدریس زیادہ انٹرایکٹیو ہوتی ہے چنانچہ اساتذہ نے اس کے لئے مختلف کمیونکیشن ٹولس کا استعمال کیا۔
انہوں نے معذور طلبہ کے لئے ٹیکنیکل سپورٹ کا بھی ذکر کیا جن کے لئے بات کرنے والی کتابیں ، الیکٹرانک پبلیکیشن اور ڈجیٹل ایکسیسیبل انفارمیشن سسٹم (DAISY) کافی مفید ثابت ہورہے ہیں۔
پروفیسر وارثی نے کہاکہ آن لائن تدریس کے لئے اساتذہ کو کمپیوٹر اور سوشل میڈیا کے استعمال میں ماہر ہونا چاہئے ۔ انھوں نے کہا کہ آن لائن تدریس اساتذہ اور طلبہ دونوں کے لئے مفید ثابت ہوئی ہے۔ اگر اساتذہ کو ایک طرف متبادل طریقہ تدریس کے لئے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت بڑھانی پڑی ہے تو دوسری طرف طلبہ، ٹکنالوجی سے متعارف ہورہے ہیں جو ان کے کیریئر کے لئے سودمند ہے۔
پروفیسر وارثی نے ڈراپ باکس، امیزن کلاؤڈ ڈرائیو، گوگل ڈاکس اور تدریس میں ملٹی میڈیا کے انضمام پر بھی روشنی ڈالی۔
انھوں نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے ’بلینڈڈ لرننگ‘ کے تصور کی وضاحت کی، جس میں چالیس فیصد کورسز کو آن لائن اور بقیہ کورس آف لائن پڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔ انہوں نے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے سیکشن 23 کے بارے میں بھی گفتگو کی جس میں ٹکنالوجی کے استعمال اور انضمام کی بات کہی گئی ہے اور ڈجیٹل مواد کی تخلیق، ڈجیٹل ڈھانچہ کے فروغ، اور کالجوں و اداروں کی ای لرننگ ضروریات کی نگرانی کے لیے صلاحیت کے فروغ پر زور دیا گیا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
وائس چانسلر نے الیکٹرک وہیکل انٹگریشن پر کتاب کا اجراء کیا
علی گڑھ، 15؍ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے’ الیکٹرک وہیکل انٹگریشن اِن اے اسمارٹ مائیکروگِرڈ اِنوائرمنٹ‘ نام سے ایک کتاب کا اجراء کیا۔ یہ کتاب سی آر سی پریس، یو ایس اے نے شائع کی ہے اور اسے مشترکہ طور سے ڈاکٹر سعد عالم( پروفیسر، الیکٹریکل انجینئرنگ شعبہ، اور کوآرڈنیٹر، کیریٹ، اے ایم یو) اور ڈاکٹر مہیش کرشنامورتی (پروفیسر، الیکٹریکل و کمپیوٹر انجینئرنگ شعبہ، الینوائے انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی، شکاگو، امریکہ) نے مرتب کیا ہے۔
واضح رہے کہ پٹرولیم سے چلنے والی گاڑیوں سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی مسائل سے نپٹنے کے لئے حکومت ہند نے ہائی بِرِڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار کے لئے فیم انڈیا مشن شروع کیا ہے۔
چونکہ الیکٹرک گاڑیاں رفتہ رفتہ مقبول ہورہی ہے اس لئے مائیکرو گِرِڈ ماحول میں توانائی کے ذخیرہ اور بندوبست کے نظام کی فہم ضروری ہے۔ مـذکورہ کتاب فلیٹ مینجمنٹ، مربوط آپریشن، ری سائیکلنگ کے اثرات اور دیگر متعلقہ امور سمیت الیکٹرک ٹرانسپورٹیشن کی منصوبندی اور مینجمنٹ کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اے ایم یو نے اس مشن میں کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے سینٹر آف ایڈوانسڈ ریسرچ اِن الیکٹریفائیڈ ٹرانسپورٹیشن (کیریٹ) کا قیام کیا ہے۔ کیریٹ کو اسمارٹ انکیوبیشن سینٹر کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور انڈیا اسمارٹ گِرِڈ فورم سے پلاٹینم ایوارڈ حاصل کیا ہے۔ کیریٹ نے پیٹنٹ سے لے کر ہارڈ ویئر ٹریننگ اور 150 سے زائد جرنلز، کانفرنس پیپرز اور کتابوں کے ابواب شائع کئے ہیں۔
ٹرانسپورٹیشن سیکٹر کے ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے یہ کتاب جنوب مشرقی ایشیا میں برقی ٹرانسپورٹیشن فریم ورک کے قیام کی خاطر ماحول تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ اس تناظر میں دنیا کے چھ براعظموں سے فیوچرسٹک تحقیقات موصول ہوئیں جنھیں ڈاکٹر سعد عالم اور ڈاکٹر کرشنا مورتی نے ایڈٹ کیا ۔ کتاب کا پیش لفظ شری ریجیکمار پلئی ، صدر، آئی ایس جی ایف نے تحریر کیا ہے۔
کتاب کی رسم اجراء تقریب میں ڈین، فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی، پروفیسر پرویز مستجاب، چیئرپرسن، شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ پروفیسر سلمان حمید، کیریٹ اے ایم یو ایڈوائزر پروفیسر ایم ایس جمیل اصغر، کیریٹ انجینئرنگ فیکلٹی ایڈوائزر پروفیسر رضوان خان، پروفیسر سعد عالم اور ڈاکٹر یاسر رفعت، کوآرڈنیٹر، کیریٹ موجود تھے۔
٭٭٭٭٭٭

You might also like