Baseerat Online News Portal

ہاتھرس واقعے کا ایک سال: پرینکا گاندھی کا یوگی آدتیہ ناتھ پر نشانہ -یوپی کے سی ایم خواتین مخالف سوچ کے رہنماہیں

نئی دہلی ،15؍ ستمبر (بی این ایس )
اترپردیش کے مشہور ہاتھرس کیس کو آج ایک سال مکمل ہوگیا۔ کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے اس واقعہ کے حوالے سے کئی ٹویٹس کئے ہیں ، جس میں یوپی کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کو خواتین مخالف سوچ رکھنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ پرینکا نے اپنے ٹویٹ میں لکھاکہ آج سے ایک سال پہلے ہاتھرس میں عصمت دری کا ایک خوفناک واقعہ پیش آیا تھا اور خاندان کو انصاف اور تحفظ دینے کے بجائے اتر پردیش حکومت نے خاندان کو دھمکی دی تھی اور بیٹی کے آخری رسومات کا حق بھی چھین لیا تھا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ حکومتی عہدیداروں اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماؤں نے بیان دیا تھا کہ ریپ جیسی چیزیں نہیں کی گئیں اور پوری حکومتی مشینری کی توانائی متاثرہ کے کردار کو مارنے میں خرچ کی گئی۔انہوں نے ایک دیگرٹویٹ میں لکھا کہ آپ حکومت کے سربراہ سے کس طرح حساسیت کی توقع کر سکتے ہیں جو عورتوں کے خلاف جرائم پر اتنا برا رویہ رکھتا ہے؟ ویسے بھی یوپی کے وزیر اعلیٰ خواتین مخالف سوچ کے رہنما ہیں۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ عورتوں کو آزاد نہیں ہونا چاہیے۔واضح رہے کہ 14 ستمبر کو یوپی کے ہاتھرس کے ایک گاؤں میں ایک دلت لڑکی کو مبینہ طور پر کچھ لوگوں نے اجتماعی عصمت دری کی تھی ۔ مبینہ طور پر اجتماعی عصمت اور تشدد کا نشانہ بننے والی 20 سالہ متاثرہ لڑکی کی بعد میں دہلی کے ایک اسپتال میں موت ہو گئی۔ ان کی آخری رسومات 30 ستمبر کی نصف شب میںپولیس فورس کی موجودگی میں ادا کی گئیں۔ الزام لگایا گیا کہ پولیس نے خاندان کی اجازت لیے بغیرلڑکی کی آخری رسومات ادا کردی ۔ پولیس کو اس حوالے سے کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم حکام نے بتایا کہ آخری رسومات خاندان کے مطابق انجام دیا گیا ۔

You might also like