Baseerat Online News Portal

ہریانہ کے ایک گاؤں میں بخار کی وجہ سے 10 دنوں میں آٹھ بچوں کی موت

محکمہ صحت جانچ میں مصروف
چندی گڑھ ،15؍ ستمبر (بی این ایس )
ہریانہ کے پلول ہاتھن ودھان سبھا کے گاؤں چلی میں پراسرار بخار کی وجہ سے گزشتہ 10 دنوں میں آٹھ بچے مر چکے ہیں۔ گاؤں کے لوگ ڈینگی بخار سے ہونے والی اموات بتا رہے ہیں ، حالانکہ محکمہ صحت نے ڈینگی بخار سے ہونے والی اموات کی تصدیق نہیں کی ہے۔ گاؤں میں بچوں کی اموات کے بعد محکمہ صحت نے گاؤں کا جائزہ لیا ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے اب ہیلتھ ورکرز کی ٹیمیں گھروں میں جا کر لوگوں کو آگاہ کر رہی ہیں اور بخار میں مبتلا لوگوں کے بچوں کا ڈینگی اور ملیریا کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ یہی نہیں بخار میں مبتلا لوگوں کے کوویڈ کی بھی جانچ کی جا رہی ہے اور ان کے نمونے لیے جا رہے ہیں، تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کہیں وہ کورونا کی گرفت میں تو نہیں آ رہے ہیں۔گاؤں کے درجنوں بچے بخار کی زدمیں آچکے ہیں۔ ان میں سے کچھ بچے مختلف نجی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ سب ڈویڑن کے چلی گاؤں میں بخار کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔ گاؤں کے درجنوں بچے بخار کی زدمیں ہیں۔ بچوں کے علاوہ بڑوں میں بھی بخار کے مریض ہیں۔ یہی نہیں دس دن میں آٹھ بچے بخار کی وجہ سے مر گئے۔ گزشتہ کئی دنوں سے گاؤں میں بخار کے مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی ہے۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ بخار کی وجہ سے پلیٹ لیٹس کم ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے صحت یابی نہ ہونے کی وجہ سے موت واقع ہوئی ہے۔ یہ اکثر صرف ڈینگی بخار میں ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر محکمہ صحت نے گاؤں کی بروقت دیکھ بھال کی ہوتی تو بچوں کو موت سے بچایا جا سکتا تھا۔جبکہ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ وائرل بخار میں بھی پلیٹ لیٹس کم ہونا عام بات ہے۔ اس کے ساتھ ہی گاؤں کے سرپنچ نریش کا کہنا ہے کہ گاؤں میں گزشتہ10 دنوں میں بخار کی وجہ سے آٹھ بچے مر چکے ہیں اور تقریبا 50 سے 60 بچے ابھی تک بخار کی زدمیں ہیں ، جن کا علاج جاری ہے۔

You might also like