Baseerat Online News Portal

بھاجپاایم پی پرتاپ روڈی کے ایمبولینس پر پھرسوالیہ نشان

ایمبولنیس سے مریض کے بجائے شراب لائی جا رہی تھی
چھپرا ؍پٹنہ، 15ستمبر ( بی این ایس )
بہار کے سارن (چھپرا) سے بی جے پی کے رکن پارلیامنٹ راجیو پرتاپ روڈی ایک بار پھر ایمبولینس کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔ اس بار ایم پی روڈی کے فنڈ سے چلنے والی ایمبولینس سے دیسی شراب برآمد ہوئی ہے ۔ چھپرا بھگوان بازار کی پولیس نے 280 لیٹر دیسی شراب کے ساتھ ایک ایمبولینس ضبط کی ہے۔ ضبط شدہ ایمبولینس کے ڈرائیور نے بتایا کہ یہ ایمبولینس ایک مکھیا چلا رہا ہے۔ پولیس شراب اسمگلنگ میں مکھیا کے کردار کی تحقیقات کر رہی ہے۔خفیہ معلومات کی بنیاد پر تھانہ بھگوان بازار تھانہ کے علاقے شیام چک میں ایک ایمبولینس کی تلاشی لی۔ اس تلاشی میں ایمبولینس میں چادر کے نیچے سے 6 بوری دیسی شراب برآمد ہوئی۔جس پر ڈرائیور کو فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا اور ایمبولینس پولیس تھانے لے گئی۔ ڈرائیور سے پوچھ گچھ کے بعد ڈوری گنج تھانہ علاقہ کے کٹوا رام پٹی پنچایت کے مکھیا جے پرکاش سنگھ سمیت دو نامزد اور ایک نامعلوم کے خلاف شراب بندی قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ بھگوان بازار پولیس اسٹیشن کے صدر مکیش کمار جھا نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے گاڑیوں کی چیکنگ مسلسل کی جا رہی ہے ، تمام مشکوک گاڑیوں کی گہر ی تفتیش کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ایمبولینس سے دیسی شراب برآمد کی گئی ہے۔پکڑی گئی ایمبولینس 2019 میں سارن ایم پی راجیو پرتاپ روڈی کے ایم پی فنڈ سے خریدی گئی تھی۔ اسے پنچایتوں کے مکھیا کے حوالے کیا گیا تھا، تاکہ دیہی علاقوں سے بیمار لوگوں کوطبی مراکز میں لے جانے میں پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لیکن اس ایمبولینس کے غلط استعمال کے معاملات منظر عام پر آرہے ہیں۔ اس کڑی میں اس بار شراب کی اسمگلنگ کا ایک کیس منظر عام پر آیا ہے۔حالیہ دنوں میں یہ پہلا معاملہ نہیں ہے جب ایم پی راجیو پرتاپ روڈی کے ذریعہ دی گئی ایمبولینس کے حوالے سے تنازعہ ہوا ہے۔ اس سے قبل کرونا دور کے دوران سابق رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے ان ایمبولینسوں کے بارے میں سوالات اٹھائے تھے۔ ایسی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں ، جن میں ایمبولینس سے ریت لے جانے کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے۔ اس کے حوالے سے اپوزیشن نے اس منصوبے پر سوالات اٹھائے تھے۔معاملہ سامنے آنے کے بعد رکن پارلیامنٹ راجیو پرتاپ روڈی خود میڈیا کے سامنے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایمبولینس ، بشمول کٹوا رام پورپٹی40 جگہوں پر چلائی جارہی ہیں ۔ انہوں نے اس ایمبولینس کو چلانے کے لیے بنائی گئی اسٹیئرنگ کمیٹی کے تمام ارکان کیخلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس معاملہ کے انکشاف پر پولیس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پولیس کو ایسے تمام معاملات میں سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

You might also like