Baseerat Online News Portal

ایم پی پرنس راج ریپ کیس سے صوبہ سیکس اسکینڈل کی پرانی کہانی تازہ ہوگئی

پٹنہ؍سمستی پور ، 15ستمبر ( بی این ایس )
سمستی پورنشست سے سابق ایم پی رام چند ر پاسوان کے لڑکے اور موجودہ وقت میں سمستی پورنشست سے لوک جن شکتی پارٹی کے ایم پی اور بہار لوجپا (پارس) گروپ کے ریاستی صدر پرنس راج ایک سیکس سکینڈل میں پھنس گئے ہیں۔ایک لڑکی نے پرنس راج کیخلاف عصمت دری کا مقدمہ درج کرایا ہے۔ دہلی کی راؤس ایونیو کورٹ کے حکم کے بعد پرنس راج کیخلاف عصمت دری کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے،تاہم پرنس راج اس سے قبل مذکورہ لڑکی کیخلاف اسی سال 9 فروری میں ایف آئی آر درج کروا چکے ہیں۔ درج ایف آئی آر کے مطابق پرنس راج نے الزام لگایا تھا کہ لڑکی نے اسے ہنی ٹریپ کے ذریعہ پھنسایا اور پھر بعد میں لڑکی نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر پیسے وصول کئے ۔ اُسے جھوٹے ریپ کیس میں پھنسانے کی دھمکی دی جا رہی تھی،تاہم پرنس راج نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے لڑکی کے بہ رضاو رغبت جنسی تعلقات قائم کیے تھے۔ممبر پارلیامنٹ پرنس راج کے ایف آئی آر کے مطابق مذکورہ لڑکی سے ان کی ملاقات سال 2019 میں ہوئی تھی ،جون 2020 تک دونوں ایک دوسرے کے قریب آگئے۔ 18 جون 2020 کو لڑکی نے انہیں غازی آباد واقع اپنے گھر دعوت دی، جہاں دونوں نے اپنی خوشی اور رضا سے جسمانی تعلقات قائم کئے ۔ایم پی پرنس راج کا کہنا ہے کہ اِس دوران لڑکی نے اپنے موبائل سے میرا قابل اعتراض ویڈیو شوٹ کرلیا پھر لڑکی اور اس کے منگیتر نے اس فحش ویڈیو کو عام کرنے کے نام پر بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔پرنس راج کی ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے لڑکی کو تقریباً دو لاکھ روپے بھی دیئے ہیں۔ خیال رہے کہ اس کے بعد لڑکی نے اسی سال جون میں تین صفحات کی تحریری شکایت کناٹ پلیس تھانہ میں دی تھی۔ ایف آئی آر درج کئے جانے میں تاخیرکی صورت میں مذکورہ لڑکی عدالت پہنچی ، پھر کیس درج کیاجاسکا۔ لڑکی کا الزام ہے کہ ایم پی پرنس راج نے شادی کا بہانہ بنا کر اُس کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کی۔ بظاہر یہ سیکس اسکینڈل ایک معروف سیاسی خاندان کے ایک فردسے جڑا ہے ، جو اس وقت ممبر پارلیامنٹ بھی ہیں ۔تاہم ، لیڈر ، لڑکی اور سیکس کے درمیان رشتہ کوئی نیا نہیں ہے۔بلکہ یہ رشتہ کافی پرانا اور بدنام زمانہ بھی ہے ۔ بہار کے لیڈران کے کئی سیکس اسکینڈلز کے کیس سامنے آچکے ہیں۔ دو سال قبل آر جے ڈی کے ممبراسمبلی ارون یادو کے سیکس سکینڈل اور سیکس ریکیٹ کا آرہ میں انکشاف ہوا تھا ۔ اُن پر نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے ساتھ ساتھ جنسی خواہشات کی تکمیل کیلئے لڑکیوں کی’سپلائی ‘کا بھی الزام لگایا گیا تھا۔ اسی طرح سال 2018 میںمظفرپور شیلٹر ہوم کی تلخ سچائی سامنے آئی تھی۔ شیلٹر ہوم کی آڑ میں نابالغ لڑکیوں کے سا تھ جنسی استحصال کا سنسنی خیز کیس منظر عام پر آیاتھا، جب مزید تفتیش شروع ہوئی تو رہنماؤں کے تار اِس واقعہ سے جڑنے لگے ۔اُس وقت کے وزیر سماجی بہبود منجو ورما کو واقعہ میں اپنے شوہر کے ملوث ہونے کی وجہ سے کابینہ سے مستعفی ہونا پڑا تھا ۔

You might also like