Baseerat Online News Portal

دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ابوبکر کی والدہ کی صفائی

میرا بیٹا بے قصور ہے ، اُسے جھوٹے الزام کے تحت پھنسایا جارہاہے
بہرائچ ؍ دہلی ، 15ستمبر ( بی این ایس )
سید سالار مسعود غازی کی دھرتی بہرائچ دہشت گردی کے عنوان کے تحت حالیہ دنوں سرخیوں میں ہے۔ یہ معاملہ ضلع بہرائچ کے قیصر گنج پولیس اسٹیشن کے سناری چوراہا کے رہائشی ابوبکر سے وابستہ ہے ، جسے دہلی پولیس نے دہلی سے گرفتار کیا ہے۔ دہلی پولیس اور یوپی اے ٹی ایس نے 6 مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کادعویٰ کیا ہے، جن میں سے ایک ابوبکر بھی ہے ،جو کہ یوپی کے بہرائچ ضلع کا رہائشی ہے ۔ پریس کانفرنس کے ذریعہ گرفتار کئے مبینہ دہشت گردوں کے بارے میں اطلاع دیتے ہوئے دہلی پولیس نے دعویٰ کیا تھاکہ ان میں سے 2 دہشت گرد پاکستان سے ٹریننگ لے کر آئے ہیں۔ مبینہ طور پر ابوبکر بھی ان دہشت گردوں میں شامل ہے ،جو پاکستان سے ٹریننگ لے کر آئے ہیں ۔ تاہم ابوبکر کا خاندان دعویٰ کر رہا ہے کہ اس کا بیٹا مکمل طور پر بے گناہ ہے، اسے سازش کے تحت پھنسایا جا رہا ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ تبلیغی جماعت میں شامل ہونے کے لیے دہلی واقع مرکز گیا تھا۔ جہاں سے پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔اہل خانہ کو میڈیا کی خبروں کے ذریعہ اس بارے میں اطلاع ملی۔ ابوبکر کی والدہ ، اس کا چھوٹا بھائی اور چچا سب اسے بے گناہ قرار دے رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہمارا بھائی کبھی پاکستان نہیں گیا ، اُسے جھوٹا پھنسایا جا رہال ہے۔ ہم سب کا مطالبہ ہے کہ اس کے ساتھ انصاف کیا جائے اور اسے درست تفتیش کے بعد رہا کیا جائے۔ابوبکر کے چھوٹے بھائی نے بتایا کہ جب وہ 6 سال کے تھے ، تب دونوں بھائی اپنے والد کے ساتھ سعودی عرب گئے تھے ،اس کے بعد دونوں بھائی 2013 میں ہندوستان واپس لوٹ آئے۔ بھائی کا دعویٰ ہے کہ وہ سعودی عرب کے علاوہ کبھی وہ ہندوستان سے باہر نہیں گیا۔ ابوبکر کے چچا کا کہنا ہے کہ ان کے پاس آبائی جائیداد ہے جس پر وہ اچھی طرح سے گزر بسر کرلیتا ہے ،انہیں کسی طرح کے پیسے کا لالچ نہیں تھا۔ ہمارا خاندان اپنے وطن سے بے لوث محبت کرتا ہے ، اوردہشت گردانہ سرگرمیوں کے بارے میں کبھی وہ تصور بھی نہیں کرسکتا ہے ۔

You might also like