مضامین ومقالات

دہشت گر دی کے خا تمے میں ،تصو ف کا کر دا ر

از: غو ث سیو انی
د ہشت گر دی تا ر یخ کے آ ئینے میں
د ہشت گر دی اگر انسا نی جا نو ں کے عد م احتر ام کا نا م ہے تو تا ریخ میں اسکی بہت سا ر ی مثا لیں مل جا تی ہیں ۔ ہز ا روں سا ل قبل کی د نیا کے حا لا ت کا اگر جا ئزہ لیا جا ئے تو محسو س ہو تا ہے کہ تا ر یخِ انسا نی میں د ہشت گر د ی کو قا نو نی طو ر پر جا ئز ٹھہر ا یا گیا تھا ۔ د نیا کے سبھی ملکو ں میں سما ج کے لئے قو ا نین مو جو د تھے مگر ان میں کئی ایسی با تیں بھی شا مل تھیں جو د ہشت گر د ی کو کسی نہ کسی صو ر ت میں د ر ست ٹھہر ا تی تھیں ۔ ان قو ا نین کی سب سے بڑ ی کمز و ر ی یہ تھی کہ یہ را جہ اور پر جا میں فر ق کر تے تھے ۔ ان قو انین میں عا م لو گو ں کو ایک دو سر ے کی جا ن لینے کی اجا ز ت نہیں تھی مگر حکمر انو ں کو اپنے ملک کے عو ام کی جا نوں ، ما لو ں اور عز ت و آ بر و پر اختیا ر حا صل تھا ۔ وہ جسکی چا ہیں جا ن لے لیں اور جسے چا ہیں معا ف کردیں یہ انکا حضو صی حق تھا ۔
عا م لو گوں سے با لکل الگ قو انین (LAWS) غلا موں کے لئے تھے ، انکی جا نوں کے ما لک ان کے آ قا تھے ۔ وہ جس طرح چا ہیں انھیں ز ند ہ ر کھیں یا قتل کر دیں انھیں یہ اختیا ر حا صل تھا ۔ اسی طر ح ر و م کے قا نو ن کے مطا بق باپ اپنے بچو ں کی جا نو ں کا مالک ہو تا تھا ۔ و ہ ا نھیں قتل بھی کر سکتا تھا ۔یہ وہ قا نو ن تھا جس پر ر و میو ں کو فخر تھا ۔ بیو یو ں کی جا نوں کے ما لک ان کے شو ہر ہو ا کر تے تھے اور بچو ں کو حمل میں قتل کر نے کا حق ما ں کو حا صل تھا ۔ عرب اور دیگر کئی ملکو ں میں بچیو ں کو پید ا ہو تے ہی ز ند ہ د فن کر نے کا رو اج تھا ، اس عمل سے انھیں کو ئی قا نو ن نہیں ر و کتا تھا ۔ بلکہ یہ با ت و ہا ں کے مختلف قبیلو ں کے لئے با عث فخر تھی۔ ایک دوسر ے کی جا ن لینا ان کا پسند یدہ شو ق تھا اگر دو قبیلو ں کے بیچ کو ئی لڑ ائی شر وع ہو جا تی تو بر سو ں چلتی ر ہتی اور وہ ایک دو سر ے کی جا ن لیتے ر ہتے ۔ اس د ہشت گر دی سے انھیں کو ئی ر و کنے وا لا نہیں تھا ۔ د نیا کے کئی ملکو ں میں تو انسا نو ں کا گو شت کھا نے کا بھی رو اج تھا ۔ چین جو اپنی حکمت و دا نا ئی کے لئے د نیا میں ضر ب المثل تھا و ہا ں د کا نو ں میں لٹکا کر انسا نو ں کا گو شت فر و خت کیا جاتا تھا ۔ د نیا کے کئی ملکو ں میں انسا نو ں اور جا نو رو ں کے در میا ن کھیل کے مقا بلے ہو تے جن میں کبھی انسا ن جا نو ر کو قتل کر دیتا تو کبھی د ر ند ے انسا نو ں کا خو ن بہا د یتے ۔ غلا مو ں کو بھو کے د ر ند وں کے سا منے ڈا لنے کا عا م ر واج تھا اور یہ سب صر ف تفر یح طبع کے لئے ہو تا تھا ۔
بھا ر ت میں بھی ظا لما نہ د ستو ر ر ا ئج تھے۔ وہ ملک جو اہنسا اور عد م تشد د کے مر کز کے طو ر پر جا نا جا تا ہے ، وہا ں دلتو ں کو غلا م بنا کر ر کھا گیا تھا ۔ جو حقو ق دو سر وں کو حاصل تھے وہ انھیں حا صل نہیں تھے ۔ ان پر ظلم و ستم کی انتہا کی جا تی تھی ۔ کئی با رتو انکی جا ن بھی لے لی جا تی تھی اور ایسا کر نے وا لے کے خلا ف کو ئی قا نو نی کا رر وا ئی بھی نہیں ہو سکتی تھی ۔ د لت اگر مذ ہبی کتا بوں کا کو ئی حصہ سن لیتے تو اس جر م میں ان کے کا ن میں سیسہ پگھلا کر ڈال دیا جا تا تھا ۔ بھا ر ت میں ایک ظا لما نہ طر یقہ ستی کے نا م سے ر ائج تھا کہ بیو ہ عو ر ت کو اس کے شو ہر کی لا ش کے سا تھ ز ند ہ جلا دیا جا تا تھا ۔ یہا ں ایک رسم ’’ جل بر وا ‘‘ کے نا م سے ر ائج تھی جس کے تحت ما ں با پ اپنے بچو ں کو گنگا میں ز ند ہ ڈبو د یتے تھے ۔ یہ سب اس ملک میں ہو رہا تھاجہا ں گو تم بد ھ کا عد م تشد د (NONVIOLENCE) پیغا م کو نجا تھا ۔ جس ملک میں جا نو روں کی جا نو ں کی حفا ظت کے لئے قا نو ن مو جو د تھے و ہا ں انسا نی جا ن کی کو ئی قد ر و قیمت نہ تھی ۔ گو یا سما ج میں مختلف صو ر تو ں میں د ہشت گر د ی ر ائج تھی اور اسے سما ج و قا نو نی قبو لیت بھی حاصل تھی ۔
د ہشت گر دی مو جو د ہ دو ر میں
آ ج کل اخبا ر ا ت سے ٹی و ی چینلو ں تک اور ایو انِ حکو مت سے نجی محفلو ں تک جس مو ضو ع پر سب سے ز یا دہ بحث ہو تی ہے ، وہ ہے د ہشت گر دی ۔ د ہشت گر دی کی اصطلا ح بھی حا ل ہی کی ایجا د ہے اور اسے سب سے زیا دہ استعما ل کیا گیا ۱۱/۹کے حملوں کے بعد ۔۲۰۰۱میں امر یکہ کے شہر نیو یا رک میں مشہو رِ عا لم ور لڈ ٹر یڈ سنٹر کو تبا ہ کر دیا گیا ۔ یہ حملہ کس نے کیا ؟ یہ را ز آ ج بھی را ز ہی ہے ۔ اسی کے سا تھ اس سے متعلق بہت سے سو الو ں کے جو اب آ ج بھی نہیں مل پا ئے ہیں ۔ لیکن یہ ضر و ر ہو ا کہ اس کے بعد امر یکہ نے افغا نستا ن اور عر اق پر حملے کر کے د و نو ں ملکو ں کو تبا ہ کر دیا ۔ لا کھو ں بے قصو ر انسا نو ں کی جا نیں گئیں ۔ ننھے ننھے معصو م بچو ں نے دو ا اور خو را ک کے بغیر تڑ پ تڑ پ کر دم تو ڈ دیا ۔ لو گ غذ ا ئی اشیا ء (FOODS) کو ترس گئے اور فر ش مخمل کو جو تو ں سے ر و ند نے و الے سر چھپا نے کی چھت کے محتا ج ہو گئے ۔ جن لوگو ں نے اس ظلم و بر بر یت کے خلا ف آ و از بلند کی انھیں د ہشت گر د کہا گیا ۔ دو سر ے ملکو ں پر قبضہ کر کے و ہا ں کے عو ام کو غلا م بنا نے و الے ، اور ان کے و سا ئل کو استعما ل کر نے وا لے سو ر ما کہلا ئے اور اپنے ملک کی آ ز ا دی کے لئے جد و جہد کر نے وا لے ( FREEDOM FIGTHER)تشد د پسند ، با غی ، د ہشت گر د کہے گئے ۔
دہشت گر دی کی جڑ ا سر ا ئیل
امر یکہ اور مغر بی مما لک کی اسلا م اور مسلم مما لک کے خلا ف جنگ ، د ہشت گر دی کی بد تر ین مثا ل ہے ۔ یہ کو ئی نئی با ت بھی نہیں ، صد یو ں سے اسلا می مما لک اور یو ر پ ایک دو سرے سے بر سرِ پیکا ر ر ہے ہیں ۔ ما ضی قر یب میں شر و ع ہو نے وا لی ایک مستقل جنگ اسر ائیل کے وجو د کی شکل میں سامنے آ ئی ہے ۔ یہ وہ جنگ ہے جو تقر یبا پنیسٹھ برسو ں سے جا ری ہے ۔ ۱۹۴۷میں مغر بی ملکو ں کی سا ز ش سے اسر ئیل وجو د میں آ یا ۔ یہا ں بسنے و الے فلسطینیوں کی انکی سر زمین سے بے دخل کر دیا گیا ، جو آ ج بھی اپنے گھر وں اور اپنی ز مینو ں سے محر وم ہیں ۔ اسر ئیل کو و جو د بخشنے و الو ں نے یہو دیو ں کو سا ر ی د نیا سے لا لا کر بسا نا شر و ع کیا اور اس وقت بھی بیشتر اسر ئیلی با شند وں کے پا س دو ہر ی شہرت ہے ۔ فلسطین کے اصل با شند ے اگر اپنی زمین اور اپنے ملککے لئے لڑ تے ہیں تو انھیں د ہشت گر د قر ار د یا جا تا ہے ۔ یہ با ت جگ ظا ہر ہے کہ د ہشت گر دی کا ارتکا ب کر نے و الے اکثر اپنے مخا لفین کو ہی د ہشت گر د قر ا ر د یتے ہیں ۔ اس کی مثا لیں اسر ئیلی سے امر یکہ تک د یکھی جا سکتی ہیں ۔
وسا ئل پر قبضہ کی دہشت گر دی
د ہشت گر دی کی ایک صو ر ت ان مما لک میں دیکھنے کو مل ر ہی ہے ، جہا ں تیل، معد نیا ت اور د یگر انسا نی و سا ئل کی بھر ما ر ہے ۔ کئی افر یقی اور ایشیا ئی مما لک پر سا مر اجی (IMPERIALISTS)طا قتوں نے با لو اسطہ یا بلا وا سطہ قبضہ کر رکھا ہے ۔ بیشتر افر یقی ملکوں میں انتہا در جے کی غریبی ہے ، لیکن جہا ں کہیں بھی معد نیا تی و سا ئل پا ئے جا تے ہیں ، و ہا ں مغر بی طا قتیں پہنچ جا تی ہیں اور لو ٹ کھسو ٹ کا کھیل شر و ع ہو جا تا ہے ۔ عر ب ملکو ں میں اگر چہ کچھ با د شا ہو ں کی حکو متیں ہیں مگر حقیقتاََ یہا ں امر یکہ اور یو ر پی مما لک کی حکو مت ہی چلتی ہے ۔ یہا ں ان کی مر ضی کے بغیر ایک تنکا نہیں ہلتا ۔ سعو د ی عر ب ، کو یت اور عر اق کے سا تھ تو امر یکہ کے با قا عد ہ معا ہد ے ہیں ۔ مغر بی سا مر اج کی دخل ا ند ا زی کی تا ز ہ مثا ل لیبیا اور شا م ہیں ۔ مغر بی مما لک ا ن کے و سا ئل کو اپنے استعما ل میںلا نا چا ہتے ہیں مگر اس میں مشکلیں در پیش تھیں لہٰذا یہا ں کے امر یکہ مخا لف حکمر انو ں کو تبد یل کر نے کا فیصلہ کیا گیا ۔ لیبیا ئی حکمر اں پر پہلے حملے کئے گئے اور جب و ہ کمز و ر ہو گئے تو پو ر ے ملک پر قبضہ کر کے معمر قذ ا فی کا قتل کر دیا گیا ۔ اب لیبیا میں مغر ب کی کٹھ پتلی حکو مت ہے اور ملک کے وسا ئل مغر ب کے ز یر ِ اختیا ر ہیں ۔ بلکل ایسی ہی پا لیسی شا م کے معا ملے میں بھی اپنا ئی جا ر ہی ہے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ شا م کے حکمر اں طبقے کے خلا ف عو ام بر ہم ہیں مگر اس آ گ پر گھی ڈا لنے کا کا م کر ر ہے ہیں مغر بی مما لک اور یہ سب نا م نہا د جمہو ر یت کے نا م پر ہو ر ہا ہے ۔ جمہو ر یت مغر ب کے لئے ایک دو د ھا د ی تلو ا ر کی طرح ہے ، جب جیسے چا ہا استعما ل کر لیا ۔ جب جمہو ر یت کا نا م لے کر اپنے مخا لفو ں کو ختم کر نا ممکن لگا تو جمہو ر یت کی راگ الا پنے لگے اور جب عو ام نے مغرب نو از حکمر انوں کو ٹھکر ا دیا تو ملک میں بغا و ت کر ا کر اپنے من پسند حکمر انوں کو بر سرِ اقتد ا ر لے آ ئے ۔ الجز ائر میں کچھ ایسا ہی ہو ا ۔
مصر اور تر کی میں سا ز شو ں کا جا ل
مصر میں عو ام کا غصہ حکمر اں طبقے کے خلا ف ابل پڑ ا اور مغر ب نو از حکو مت کے خا تمے کا وقت آ یا تو عیا ر مغر بی مما لک نے ر یا کا ر انہ طو ر پر عو ام کی حما یت کا اعلان کیا ۔ مگر جب دیکھا کہ عو ام ملک کی مقبو ل تر ین سیا سی اور مذ ہبی جما عت اخو ان المسلمو ن کو بر سرِاقتد ا ر لا نے و الے ہیں تو مصر میں ایک با ر پھر ر یشہ دو ا نیوں میں اضا فہ ہو گیا ۔ اس پا ر ٹی کو بد نا م کر نے کے لئے مختلف حر بو ں کا استعما ل کیا گیا ۔ اسلا م مخا لف عا لمی میڈ یا بھی اس سا ز ش میں انکا بھر پو ر سا تھ د یتا ر ہا ۔ اسی طر ح اسلا م کی طر ف ر فتہ ر فتہ قد م بڑ ھا نے وا لا تر کی بھی مغر ب کی نظر وں میں بر ی طر ح کھٹک ر ہا ہے ۔ یہاں کبھی فو ج کے ذ ر یعے بغا و ت کی کو شش کی جا تی ہے تو کبھی کر دوں کو بغا و ت پر اکسا یا جا تا ہے ۔ کبھی عد لیہ اور حکو مت میں اختلا فا ت ہو نے کا ڈھنڈ و ر اپیٹا جا تا ہے تو کبھی کسی اور طر یقے سے تر کی کو کمز و ر کر نے کی کو ششیں ہو تی ہیں ۔ یہاں کئی با ر عو ام کے ذ ر یعے منتخب حکو مت کو فو ج بر خو است کر چکی ہے ، صر ف اس لئے کہ عو ام نے ایک ایسی پا رٹی کو چنا تھا جو اسلا م میں یقین ر کھتی ہے ۔ اور اس سب کے پیچھے ان مغربی ملکو ں کا ہا تھ ر ہا ہے جو جمہو ر یت کی د ہائی د یتے نہیں تھکتے۔
سعو د ی عر ب محفو ظ کیو ں ؟
سعو د ی عر بیہ ایک مسلم اکثر یتی ملک ہے ، مگر یہاں امن و اما ن ہے کیو نکہ یہا ں کے حکمر اں امر یکہ اور مغر بی مما لک کے سا منے سجد ہ ر یز ہیں ۔ یہا ں اسلا م کے نا م پر جبر کا قا نو ن ر ائج ہے ، عو ام کو زبا ن کھو لنے کی اجا ز ت نہیں ، عو ر تو ں کے ساتھ قید یوں سا بر تا ؤ ہو ر ہا ہے مگر اس کے با و جو د امر یکہ خا مو ش ہے ، مغر بی مما ملک چپ ہیں ، عا لمی بر ا در ی کو جمہو ر یت کی کو ئی فکر نہیں ستا تی کیو نکہ انکا مفا د اسی جبر ی نظا م سے وا بستہ ہے ۔
ایر ان تنہا ایسا مسلم ملک ہے جس نے اپنے یہا ں جمہو ر ی اسلا می نظا م کا نفا ذ کیا ہے اور مغر ب کی ر یشہ دو انیوں کے خلا ف سینہ سپر ہے اس کا نتیجہ ہے کہ عا لمی بر ا د ر ی میں اسے اچھو ت کی جگہ پر ر کھنے کی کو شش ہو رہی ہے ۔ مغر بی مما لک اس کے خلا ف صف آ ر ا ہیں اور امر یکہ ، اسر ا ئیل و اقو ام متحد ہ اسے نیست و نا بو د کر نے کے منصو بے بنا ر ہے ہیں ۔
اصل د ہشت گر د کو ن ؟
یہی تما م اسبا ب و محر کات ہیں کہ مشر قی مما لک خا ص طو ر پر مسلم ملکو ں میں امر یکہ اور مغر بی مما لک کو نا پسند کیا جا تا ہے اور انکے خلا ف عو ام صف آ ر ا ہو ر ہے ہیں ۔ کٹھ پتلی حکو متیں بھی عو امی نشا نے پر ہیں اور بعض ملکو ں میں عوا م نے مسلح بغا و ت کا ر ا ستہ اپنا یا ہے ۔ امر یکہ اور مغر بی ملکو ں کی دا دا گیر ی کے خلا ف آ و از بلند کر نے و الے ہی اس دو ر میں د ہشت گر د کہے جا رہے ہیں مگر انصا ف کی نظر سے د یکھا جا ئے تو اصل د ہشت گر د تو وہی مما لک ہیں جو دو سر وں کے حقو ق پر شبخون (SNIPE) ما ر رہے ہیں ۔ دوسر ے ملکو ں کے وسا ئل کو وہا ں کے عو ام کی مر ضی کے خلا ف استعما ل کر ر ہے ہیں ۔ دو لت اور میڈ یا کے بل بو تے پر سا ر ی د نیا میں سچا ئی کے خلاف پر چا ر کر ر ہیں ہیں ۔
دہشت کی ڈ ر و ن
د ہشت گر دی کی ایک صو ر ت وہ بھی ہے جو د ہشت گر دی کے خلاف جنگ کے نا م پر جار ی ہے ۔ پا کستا ن میں آ ج کل ڈ ر و ن حملے ہو ر ہے ہیں ۔ یہ حملے د ر اصل د ہشتگر د ی کا ہی ایک حصہ ہیں ۔ یہ الگ با ت ہے کہ انھیں د ہشت گر د ی کے خلا ف جنگ کا حصہ قر ا ر د یا جا ر ہا ہے تا کہ بے گنا ہو ں کی خو نر یز ی کی در ست ثا بت کیا جا سکے اور جس طر ح معصو مو ں کا خو ن بہا یا جا رہا ہے اسکی پر دہ پو شی کی جا سکے ۔ اس د ہشت گر دی میں امر یکہ ، نا ٹو اور پا کستا نی حکمر اں بر ابر کے شر یک ہیں ۔بے گنا ہو ں کی آ ہیں اور بے قصو ر وں کی سسکیاں سننے و الا کو ئی نہیں ۔ ننھے ننھے بچے ، پر دہ نشیں خو اتین اور ضعیف و نا تو اں بز ر گو ں اور بیما روں کو بھی نہیں بخشا جا رہا ہے ۔ آ خر ا ن کا قصو ر کیا ہے ؟ انھوں نے کسی کا کیا بگا ڑا ہے ؟ کیا یہ تما م لو گ د ہشت گر دہیں جو ، اُ ن پر ڈ ر ون حملے کر کے انھیں خا ک و خو ن میں غلطا ن کیا جا رہا ہے؟ کیا انھوں نے ور لڈ ٹر یڈ سنٹر پر حملہ کیا تھا یا سا ز ش میں شر یک تھے ؟ ان حا لا ت کا بچو ں کے معصو م ذ ہنو ں پر بہت بر ا اثر ہو ر ہا ہے اور و ہ تشد د کی طر ف ما ئل ہو رہے ہیں ۔ بہت ممکن ہے کہ یہ نسل مستقبل میں کسی اور جنگ کا ایند ھن بنے
جا بر حکمر انوں کی دہشت گر دی
د ہشت گر دی کی ایک قسم و ہ بھی ہے ، جو جا بر حکمر انو ں کی طر ف سے عو ا م کے خلاف تشد د کی شکل میں سا منے آ ر ہی ہے اور عوا م کی مر ضی کے خلا ف ان پر حکو مت کر نے وا لو ں کی طر ف سے جا ری ہے ۔ جبر ی نظا م وا لے ملکو ں میں سعو د ی عر ب سرِ فہر ست ہے ، جہا ں ایک خا ند ان نے پو رے ملک پر قبضہ کر رکھا ہے اور عو ام کی دو لت پر عیش کررہا ہے ۔ اس کے علا وہ لیبیا ، شا م ، یمن ، عرا ق اور کچھ دو سر ے ملکو ں کی صور ت حا ل بھی اس سے الگ نہیں ہے ۔ شا م اور یمن کے عو ام اس وقت حکو مت کے خلا ف اٹھ کھڑ ے ہو ئے ہیں ۔ و ہ با د شا ہت اور ڈ کٹیٹر شپ سے نجا ت چا ہتے ہیں مگر حکمر اں طبقہ عو امی احتجا جی کا جو اب بند وق کی گو لیوں سے دے رہا ہے ۔ لیبیا پر معمر قذ ا فی اور عر اق پر صدا م حسین نے گو لیو ں کی مد د سے ہی ایک مد ت تک حکو مت کی اور آ ج کل عرا ق و ا فغا نستا ن میں اسی قسم کی جبر ی حکو مت جا ری ہے ۔ یقینا یہ بھی د ہشت گر دی کی ایک قسم ہی کہی جا ئیگی۔
د ہشت گر دی کی ایک قسم یہ بھی ہے
حکمر اں طبقے کی طر ف سے عو ام پر ظلم ، بڑ ے ملکو ں کی طر ف سے کمز و ر ملکو ں کے مفا د کے خلا ف کا م اور عوا م پر انکی مر ضی کے خلا ف حکو مت یہ سب یقینا د ہشت گر دی ہے مگر ان کے علا وہ ایک د ہشت گر دہ وہ بھی ہے جو مختلف جما عتیں عو ام کے خلا ف چلا ر ہی ہیں ۔ ٹر ینو ں ، بسو ں اور عو امی مقا ما ت پر بم رکھ کر بے قصو ر انسا نو ں کو قتل کر نا ، مسجد وں ، در گا ہو ں اور عبا د ت کی جگہو ں پر خود کش حملے کر کے معصو مو ں کی جا نیں لینا یقینا د ہشت گر دی کی بد تر ین مثا لیں ہیں ۔ کبھی کبھی میڈ یا میں ان تنظیمو ں کے نا م بھی آ تے ہیں مگر ان خبر وں پر پو ر ی طر ح یقین کر نا بھی مشکل ہے کیو نکہ میڈ یا پر جس طبقے کا قبضہ ہے اسکی با تو ں پر بغیر کسی آ ز اد ذ ر یعے سے تصد یق کے بھر و سہ کر نا جلد با زی ہو گی ۔ بہر حا ل جو افر اد اور تنظیمیں بھی اس قسم کی د ہشت گر دی میں ملو ث ہوں وہ قا بلِ مذ مت ہیں ۔ کو ئی بھی مہذ ب سما ج اس قسم کی حر کتو ں کو بر د ا شت نہیں کر سکتا ۔
کس کے پاس کتنے ہلا کت خیز ہتھیا ر ؟
د ہشت گر دی کی مختلف شکلیں ہیں مگر سب سے بھیا نک شکل وہ ہے جو د نیا کے کئی ملکو ں کی طر ف سے جا ر ی ہے ، اسے اٹیمی د ہشت گر دی بھی کہہ سکتے ہیں ۔ اس وقت کئی ملک اٹیمی ہتھیا ر بنا چکے ہیں اور جنھوں نے اب تک نہیں بنا یا ہے وہ بنا نے کی تیا ر ی میں ہیں ۔ یہ صو ر تحال اتنی خطر نا ک ہے کہ اگر کبھی ان اسلحو ں کا استعما ل ہوا تو قیا مت بر پا ہو جا ئیگی ۔ اس وقت د نیا کے نو ملکوں کے پا س اٹیمی ہتھیا ر ہیں ۔ ایک بے حد محتا ط اند ا ز ے کے مطا بق امریکہ کے پا س ۱۹۵۰ اسے ۱۸۰۵۰۰ تک اٹیمی ہتھیار مو جود ہیں ۔ رو س کے پا س ۱۲۴۳۰ سے ۱۱۱۰۰۰ تک اسلحے ہیں ۔ بر طا نیہ کے پا س۱۱۲۰ سے ۱۲۲۵ تک ، فر ا نس کے پا س۱۱۹۰ سے ۱۳۰۰ تک ، چین کے پاس ۱۱۸۰ سے ۱۲۴۰ تک بھا ر ت کے پا س ۱۸۰ سے ۱۲۰۰ تک اٹیمی ہتھیا ر مو جود ہیں ۔ جر منی ، بلجیم ، کنا ڈا ، گر یس ، اٹلی، نید ر لینڈ اور تر کی نا ٹو مما لک ہیں ، جن کے پا س اگر چہ اپنے اٹیم بم نہیں مگر امر یکہ ایک معا ہد ے کے تحت انھیں فر اہم کر ر ہا ہے ۔ ان کے علا وہ بعض و ہ مما لک ہیں جن کے متعلق شک ہے کہ انھوں نے خفیہ طو ر پر اٹیمی ہتھیا ر بنا لیا ہے ۔ ایسے ملکوں کی تعدا د بھی آ د ھ د ر جن کے قر یب ہے ۔

امر یکہ کے پاس بعض ایسے ہتھیا ر ہیں جو کسی دو سر ے ملک کے پا س نہیں جیسے ADAPTIV.REAPER DRONE.LASER AVANGER MQ9یہ وہ ہتھیا ر ہیں جو د نیا کے کسی بھی حصے میں تبا ہی پھیلا سکتے ہیں ۔ ایک لمحے میں ہز ا روں ز ند گیو ں کو مو ت میں بد ل سکتے ہیں ۔ فی الحا ل امر یکہ کے پا س گیا رہ قسم کے ایسے ہتھیا ر ہیں ، جو د نیا کے کسی دو سر ے ملک کے پا س نہیں ۔ یہ سب اٹیمی اسلحے ہیں ۔
اس وقت د نیا میں ہتھیا روں کاسب سے بڑا تا جر ا مر یکہ ہے ۔ امر یکی معیشت (ECONOMY) کا ایک حد تک دا ر و مد ا ر اسی صنعت پر ہے ۔ ہتھیا ر کے بیو پا ری دو سر ے ملکوں میں اسر ائیل ، فر انس اور بر طا نیہ بھی شا مل ہیں ۔ یہ وہ ملک ہیں جو خو د کو عا لمی امن کے بڑ ے ٹھیکے دا ر سمجھتے ہیں ، اور کمز و ر ملکو ں کو د با نا اپنا حق جانتے ہیں ۔ ان مما لک کی اسلحہ سا ز ی کی صنعت تب ہی چل سکتی ہے جب د نیا میں خو ف و دہشت کا ما حو ل بر قر ا ر ر ہے اور ایک ملک کی دوسر ے ملک سے ان بن جا ر ی رہے ۔ یہ مما لک دو سر وں کو تو امن کی تلقین کر تے ہیں مگر خو د د ہشت گر دی اور تشد د کوبڑ ھا و ا دیتے ہیں ۔ امن کے ا ن خو د سا ختہ ٹھیکید ا روں کو سب سے ز یادہ عا لمی بد امنی کی ضر و رت ہے ۔ جب تک دنیا میں بد امنی ر ہے گی ، ان کی ہتھیا روں کی صنعت پھلتی پھو لتی ر ہے گی ۔ اس کے بغیر انکی معا شی حا لت بگڑ جا تی ہے ۔
د نیا کی تبا ہی کا انتظا م
اوپر جن اٹیمی ہتھیا رو ں کی تفصیلا ت د ر ج کی گئیں انکی مقد ا ر اتنی ہے کہ اگر انھیں کبھی استعما ل کیا گیا تو کئی با ر اس د نیا کو ختم کیا جا سکتا ہے ۔ ان کی مد د سے یہ د نیا کئی با ر و یر ان کی جا سکتی ہے اور اسکی فضا ؤ ں کو زہر آ لو د کیا جا سکتا ہے ۔ زمین ایسی بنجر ہو سکتی ہے کہ پیڑ پو دے اور سبز ے اگا نے کے لا ئق نہ بچے ۔ اس سر زمین سے انسا ن ہی نہیں جا نو ر اور د ر خت تک ختم ہو جا ئیں ۔ یہ تو صر ف اٹیمی ہتھیا روں کی تفصیلا ت تھیں ان کے علا وہ د یگر اسلحو ں کی بھی کمی نہیں ۔ سبھی ملکو ں کے اسلحہ خا نو ں میں ایک سے بڑھ کر ایک ہلا کت خیز ہتھیا ر مو جو د ہیں ، مگر اس کے با و جو د ہلا کت خیز ی کا جنو ن اپنے نقطہ عر و ج پر پہنچنا با قی ہے ۔ اس وقت ان سے بھی ز یا دہ ہلا کت خیز ہتھیا ر بنا نے کی کو شش جا ری ہے ۔ ماہر ین کا خیا ل ہے کہ ایسے ہتھیا ر بھی بنا ئے جا چکے ہیں جو سیٹیلا ئٹس کا نا کا ر ہ بنا سکتے ہیں ، یعنی مو با ئل ، فو ن ، انٹر نیٹ اور دیگر آ لا تِ تر سیل کو پہلے بیکا ر کیا جا ئے گا پھر لوگو ں کو ما ر اجا ئے گا ، ہتھیاروں کی یہ دو ڑ کہا ں تک جا ئیگی ، کچھ کہا نہیں جا سکتا ۔
سما جی د ہشت گر دی
سما ج میں تشد د برپا کر نا اور لو گو ں کو خو ف و ہر ا س میں مبتلا کر نا بھی د ہشتگر دی ہے ۔ ہما رے سما ج میں ، ہما رے آ س پا س اس قسم کی و ا ر دا تیں آ ئے د ن ہو تی ر ہتی ہیں ، کچھ بڑ ی وا ر دا تیں پو لیس اور میڈ یا تک پہنچ جا تی ہیں ، مگر بیشتر وار دا تیں خبر نہیں بن پا تیں ۔ سما جی د ہشت گر دی سا ر ی دنیا میں عا م ہے ، ہر ملک میں اس قسم کی وا ر داتیں و قو ع پذ یر ہو تی ر ہتی ہیں ۔ اسکی ایک چھو ٹی سی مثا ل امر یکہ سے ہے ۔ اس ر پو رٹ سے اند ا ز ہ لگا یا جا سکتا ہے کہ د نیا کے انتہا ئی پر امن ملک امر یکہ میں جب ایسے حا لا ت ہیں تو ان ملکوں کی کیا حا لت ہو گی جہا ں کو ئی مستقل حکو مت نہیں یا جہاں خا نہ جنگی کی صو ر تحا ل ہے ۔ امر یکہ کے عو ام اپنے حقو ق کے تئیں ز یا دہ حسا س ہیں اور وا قفیت رکھتے ہیں ، یہا ں سو فیصد تعلیمی تنا سب ہے ، باو جو د اسکے جر ائم اور تشد د کے معا ملے میں بھی و ہ بہت آ گے ہے ۔ سنٹر فا ر ڈ یز یز کنٹر و ل اینڈ پر یو نشن (SFDCP) کی ایک سر وے ر پو رٹ کے مطا بق د نیا کے سب سے مہذ ب اور تر قی یا فتہ ملک ، اٹیمی سپر پا و ر امر یکہ میں بیس فیصد عو ر تیں عصمت د ر ی کا شکا ر ہو تی ہیں اور پچیس فیصد عو ر توں کو تشد د کا نشا نہ بننا پڑتا ہے ۔ اسی فیصد عو ر تیں پچیس سا ل سے کم عمر میں پہلی با ر جنسی تشد د کا نشا نہ بنتی ہیں ۔ ان میں ایسی عو ر توں کی بھی کمی نہیں جو اپنے قر یبی ر شتے دا ر وں یا پا ر ٹنر س کے ہا تھو ں ہی اپنی عصمت گنو ا تی ہیں ۔ الا سکا ، یگا ن اور نیو اڈہ میں سب سے زیا دہ تشد د اور عصمت در ی کے معاملے د یکھنے کو ملے ۔ ہر آ ٹھ میں سے ایک عو ر ت کا کہنا تھا کہ اسکے گھر یلو مر د نے ہی اسے لقمۂ تر سمجھ کرہوس کا شکا ر بنا یا ۔ اسی طرح ہر ۷۱ میں سے ایک مر د کا کہنا تھا کہ اسے غیر فطر ی جنسی عمل کا شکا ر ہو نا پڑ ا ۔ ہر سا ت میں سے ایک مر د کو ز ند گی میں کم سے کم ایک با ر اپنے قر یبی پا ر ٹنر کے ہا تھو ں جسما نی تشد د کا شکا ر ہو نا پڑ ا ۔ اس ر پو ر ٹ پر تبصر ہ کر تے ہو ئے امر یکہ کی و ز یر بر ائے صحت و انسا نی خد ما ت کتھلین سی بکو لس نے کہا ہے کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ لا کھو ں امر یکیو ں کی زند گی کن تبا ہ کن حا لات سے دو چا ر ہے ۔( اس ر پو ر ٹ کو دنیاکے مختلف اخبا ر وں نے شا ئع کیا ہے ۔ انٹر نیٹ پہ بھی مو جو د ہے ۔ (یو این این بشکریہ ایس ایم ایس سرورس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker