Baseerat Online News Portal

مسجداقصی کودرپیش خطرات (2)

بقلم:مفتی محمداشرف قاسمی

دارالافتاء:شہرمہد پور،اُجین،ایم۔پی

*مسجد اقصی اور اس کے مختلف حصے*

شہرقدس کی فصیل کے علاوہ شہر کے اندر اور ایک فصیل ہے، جو مسجد اقصی کے گرد جبلِ موریہ پہ واقع ہے، اس فصیل کا مغربی گوشہ490 میٹر، مشرقی گوشہ474 میٹر، شمالی گوشہ32 میٹر اور جنوبی حصہ283 میٹر ہے۔ حرم قدس کے فصیل بند دائرے میں کئی ایک اسلامی عمارتیں اور مقدَّسات ہیں، جن میں مشہور قبۃ الصخرۃ ہے (جس کا گنبد سنہرا ہے)، جب”مسجد اقصی“ کا لفظ بولا جاتا ہے تو سلف کے نزدیک فصیل بند سارا حرم مراد ہوتا ہے۔ لہذا قبۃ الصخراء؛ حرم اقصی کا حصہ ہے،اسی طرح مسجد عمر، حضرت عمر ؓ نے فتح کے وقت تعمیر کی تھی اور جس کی تعمیر عبد الملک بن مروان نے کی تھی، مسجد اقصی ہی کا حصہ ہے۔ مسجد قبلی(سیاہ مائل بہ سرمئی گنبد والی مسجد) جو مسجد اقصی کے بالکل جنوب میں واقع ہے۔ مصلی مروانی، حائط البراق بھی مسجد اقصی کے احاطہ میں واقع ہے۔ مسجد اقصی کا کل رقبہ 144000
میٹر مربع ہے۔ اس طرح یہ رقبہ فصیل بند شہر قدس کا چھٹا حصہ ہے۔ یہ رقبہ غیر مربوط گوشوں پر مشتمل ہے۔، چنانچہ مغربی گوشے کی لمبائی 291 میٹر مشرقی گوشے کی لمبائی462 میٹر، شمالی گوشے کی لمبائی 301 اور جنوبی گوشے کی لمبائی 281میٹر ہے۔ اس رقے میں جب سے مسجد بنی ہوگی کوئی کمی زیادتی واقع نہیں ہوئی۔ مسجد اقصی کی مزیدتعریف وتعارف سے قبل مسجد اقصی کے احاطہ میں پائی جانے والے کچھ اہم ومقدس تعمیرات کا تذکرہ ذیل میں پیش کرنا مناسب معلوم ہو تا ہے۔
1.مسجد اقصی کی عمارت:
مسجد اقصی در حقیقت ایک اِحاطہ ہے، جس کے اندر عمارتیں، مسجدیں، پرنالے، گنبد، گیلریاں اور محرابیں وغیرہ ہیں۔ اور یہ سارا کچھ مسجد اقصی کی عمارت ہے۔
مسجد اقصی کے نام سے معروف موجودہ عمارت کومجازاً مسجد اقصی کہا جاتا ہے۔ پہلے اس کو جامع مسجد اور مسجد رجال(مسجد مرداں) کہاجاتا تھا۔ یہ موجودہ عمارت، خلیفۂ اموی عبد الملک بن مروان کے دور میں بنی تھی۔ اِسی طرح قبۃ الصخرۃ کی عمارت بھی مسجد اقصی نہیں ہے۔ بلکہ مسجد اقصی مذکورہ چیزوں سے عبارت ہے، اور سب کی جامع ہے، نہ صرف مذکورہ دونوں عمارتیں بلکہ سیکڑوں تاریخی اسلامی آ ثار ونقوش پر مسجد اقصی ہی کا اطلاق ہوتاہے، مسجد اقصی کی بیچ والی گیلری کے نیچے قدیم مسجد اقصی واقع ہے، جس کی تحریک اسلامی نے اصلاح ومرمت کرائی تھی۔
مسجد اقصی کی اسی عمارت میں جامع النساء(عورتوں کے لیے نماز کی مخصوص جگہ) ہے۔جامع النساء مسجد اقصی کے اندر جنوب مغربی حصے کو خواتین کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ آ ج یہ تین حصوں میں منقسم ہے:
(الف) مغربی حصہ اسلامی میوزیم کے تابع ہے۔
(ب) درمیانی حصہ”الا قصی“ مرکزی مکتبہ ہے۔
(ج) مشرقی حصہ مسجد قبلی کے تابع ہے، جس کو اسٹور کے طور پر استعمال کیاجاتا ہے۔
جامع النسا ایک وسیع عمارت ہے، جو مسجد قبلی کی سطح سے کچھ بلندی پر واقع ہے، محققین کاکہنا ہے کہ،اس کی تعمیر صلیبی دور میں بطور چرچ ہوئی تھی۔ جس کو بعد میں صلاح الدین ایوبی ؒنے عورتوں کی نماز پڑھے کے لیے خاص کیا تھا۔
2۔ مسجد اقصی کا جنوبی مشرقی گوشہ:
مسجد کے احاطے میں یہ سب سے بلند حصہ ہے۔ یہ مسجد اقصی کے جنوب مشرقی حصے کی آ خری حد ہے۔
3۔ گوشہئ خنثنیہ:
یہ مسجد اقصی کا آ خری جنوبی حصہ ہے۔ یہیں سے خلفاء وامراء اپنے محلا ت سے مسجد اقصی آ یاکرتے تھے۔
4۔ گوشہئ جنوب مغربی:
یہ مسجد اقصی کی آ خری جنوب مغربی حد ہے۔
5۔ شمال مغربی حد:
یہ مسلمانوں کے محلے میں واقع ہے۔
6.شمال مشرقی حد:
یہ اسباط دروازے کے پہلو میں ہے۔
7۔ الجامع قبلی یا المسجد القبلی:
یہ حرم اقصی کے جنوب میں قبلہ کی جانب مسقف مسجد ہے، قبلہ کی جانب ہونے کی وجہ سے الجامع القبلی نام دیا گیا۔ اسی مسجد کو مرکزی مسجد سمجھا جاتا ہے، جہاں سے جمعہ کا خطبہ دیاجا تا ہے۔ اسی طرح مردوں کے لیے نماز پڑھنے کی مخصوص جگہ یہی ہے۔ جہاں امام کی اقتدا میں با جماعت نمازیں ادا کی جا تی ہیں، اور اسی میں مرکز ی محراب اور منبر ہے۔ اس مسجد کو سب سے پہلے حضرت عمر بن خطابؓ نے سن 15ھ ہجری میں فتح اسلامی کے موقع پر بنوایاتھا۔ اس وقت اس کے اندر تقریبا ایک ہزار نمازیوں کی گنجائش تھی، اس کے بعد حضرت امیرمعاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہ نے اس کی تجدید وتوسیع کی، تو تقریبا تین ہزارنمازیوں کے لیے کافی تھی، جب صلیبیوں نے القدس پر قبضہ کرلیا تو انھوں نے اس مسجد کو تین کو حصوں میں تقسیم کردیا، ایک حصے کو دفاتر کے لیے خاص کیا، دوسرے حصے کو سپاہیوں کی قیام گاہ بنالیا، اور تیسرے حصے کو(کینسہ) چرچ بنالیا۔ صلاح الدین ایوبیؒ کے زمانہ تک یہی حالت برقرار رہی، فتح کرنے کے بعد صلاح الدین ایوبیؓ نے538 ھ مطابق1187ء میں مسجد میں ترمیم کی پھر دورعثمانی تک بارہا ترمیم ہوتی رہی۔ موجودہ زمانہ میں فلسطین پر یہودیوں کے قبضے کے بعد یہ مسجد یہودیوں کے ذریعہ مسلسل بے حرمتی اور نقصانات کانشانہ بنتی رہی،اس کے نیچے سرنگیں بنانے اور کھدائی کاکام جاری ہے۔آ تش زنی کے واقعات رونما ہوتے رہے جس سے اس مسجد کوکافی نقصان پہونچتا رہا، اور اس کے تقدس کو پامال کیا جا تا رہا۔
(ملخصاً مِن”بیت المقدس اور فلسطین،حقائق وسازشوں کے آئینہ میں،صفحات29و30 از:عنایت اللہ وانی ندوی)

مرتب:
*ڈاکٹر محمد اسرائیل قاسمی*

آلوٹ، ضلع رتلام، ایم پی۔

You might also like