Baseerat Online News Portal

پنچایت انتخابات میں تعلیم یافتہ نوجوان بڑھ چڑھ کر حصہ لیں : توقیر احمد

جالے(رفیع ساگر؍بی این ایس)
ریاست میں 11 مرحلوں میں ہونے والے پنچایت انتخابات کا ایک مرحلہ ختم ہوچکا ہے اور قریب 59 فیصد ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے اور دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 29 ستمبر کو ہوگی ایسے میں نمائندوں کے انتخابات میں دوراندیشی سے کام لینا پڑے گا۔اگر ہم نے نمائندوں کو منتخب کرنے میں ذرا سی بھی چوک کی تو ماضی میں افسوس کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔مقامی بلاک کے لتراہا گاوں باشندہ سرگرم سماجی رکن توقیر احمد انصاری عرف منا نے ایک پریس ریلیز جاری کرکے کہا ہے کہ اس بار پنچایت انتخاب میں تعلیم یافتہ نوجوان بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ اس بار کا پنچایت انتخابات اس سے قبل والے پنچایت انتخابات سے الگ ہو رہا ہے ۔ہمارے نوجوانوں کے سیاسی سوچ میں کافی تبدیلی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک خاص کر ریاست بہار میں جس طرح سے کورونا جیسی مہلک وبا کے دوران لوگوں نے اپنا روزگار اور کام کے مسلئے کو جھیلا ہے اس سے نجات دلانے کے لیے سماج کے لوگوں کو ساتھ لیکر عوامی نمائندوں کو گاؤں اور پنچایت سطح پر انکی پریشانی کو کم کرنے کے لئے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میرا کہنا ہے کہ اب وہ دور شروع ہوگیا ہے کہ ہم لوگ پنچایتی سطح پر ایک تعلیم یافتہ شخص کو اپنا عوامی نمائندہ منتخب کرے جو کورونا جیسی مہلک وبا کے دوران ہوئے نقصانات کا جائزہ لے کر صحیح اور مستحق لوگوں تک سرکاری امداد فراہم کر وا سکے ۔توقیر احمد انصاری نے کہا کہ اس مرتبہ پنچایت انتخابات میں جس طرح تعلیم یافتہ نوجوان حصہ لے رہے ہیں اسی سے لگتا ہے کہ پنچایت میں ترقی کے رفتار تیز ہوں گے اور تعلیم یافتہ نمائندے عوام کی بات کو سنجیدگی سے لیکر اُنکے مسئلے کو حل کریں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس دور میں پنچایتی سطح پر ہر عہدے کے لئے تعلیم یافتہ نمائندے کی ہی ضرورت ہے تاکہ وہ عوام کی خدمت صحیح طریقے سے کرسکے۔ اُنہوں نے کہا کہ آپکے نمائندے تعلیم یافتہ ہونگے تبھی وہ مسئلے کا ازالہ کرواسکیں گے۔

You might also like