Baseerat Online News Portal

سائنس داںکسانوں کے مسائل اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز پر توجہ دیں

نائب صدر جمہوریہ نے اعلیٰ نوعیت کی سائنس کو آگے بڑھانے پر زور دیا
نئی دہلی26ستمبر(بی این ایس )
نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو نے آج سائنسی اور صنعتی تحقیقاتی کونسل(سی ایس آئی آر)کو اعلیٰ نوعیت کی سائنس کو اپناتے ہوئے خود کو از سر نو تلاش کرنے اور مستقبل اثاث بننے کا مشورہ دیا۔اتوار کو یہاں سی ایس آئی آر کے 80ویں یوم تاسیس کی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے اْنہوں نے کہا کہ سی ایس آئی آر تجربہ گاہیں اور ادارہ اْن چیلنجوں کو حل نکالیں، جن کے لیے طویل مدتی سائنسی اور تکنیکی حل کی ضرورت ہوتی ہے۔خاص طورسے اْنہوں نے کہاہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ سی ایس آئی آر زرعی تحقیق پر زیادہ توجہ دیں اور کسانوں کے سامنے آنے والی پریشانوں کے اِزالے کے لیے نئی اختراعات ، تکنیک اور حل کے ساتھ سامنے آئے۔ اْنہوں نے کہاہے کہ موسمیاتی تبدیلی، قوت مدافعت کی دوا، آلودگی وباء اور وباء￿ کی صورت میں ہونے والی تباہیوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ ایسے چیلنجز ہیں، جن پر سائنسداں برادری کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔یہ دیکھتے ہوئے کہ کووڈ-19وباء ایک غیر یقینی بحران ہے اور یہ کہ دوسرے بہت سے چیلنجز سامنے ہیں۔ اْنہوں نے کہا کہ سی ایس آئی آر جیسے اداروں کو کسی بھی اچانک اور غیر یقینی مسئلے سے نمٹنے کے لیے کمرکسنے کی ضرورت ہے۔وینکیانائیڈونے زور دے کرکہاہے کہ سی ایس آئی آر کی ہر تجربہ گاہ کو نئے تحقیقی پروجیکٹوں پر ایک واضح روڈ میپ کے ساتھ آگے آناچاہیے، جو مختلف چیلنجز کو حل کرنے اور انسانیت کی وسیع بہتری میں تعاون کرنے میں مددگار ثابت ہو۔اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ بھارت نے خلاء، ایٹمی توانائی، بحری سائنس یا دفاعی تحقیقات میں سائنس کی دنیا میں ایک اہم تعاون دیا ہے۔ اْنہوں نے کہا کہ اب جبکہ ملک آزادی کے 75سال کا جشن منا رہا ہے، یہ دیکھنے کا ایک مناسب موقع ہے کہ جو ترقیاتی کام چل رہے ہیں، اْن میں کس طرح تیزی لائی جاسکتی ہے۔ اْنہوں نے کہا کہ سائنس کا بنیادی مقصد لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ اْسے آرام دہ بنانا ہونا چاہیے۔یہ دیکھتے ہوئے کہ کچھ پیمانوں اور زراع کی بنیاد پر تحقیقی طباعت کے معاملے میں بھارت دنیا میں تیسرے مقام پر ہے۔ نائب صدر جمہوریہ نے عالمی سائنسی تحقیقات میں بھارت کی حیثیت کو مسلسل آگے بڑھانے کے لئے سائنسدانوں اور تحقیق کاروں کی ستائش کی۔اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ بھارت نے تحقیق اور ترقی میں صنعتوں کے ذریعے سرمایہ کاری غیر اہم ہے۔وینکیانائیڈو نے کارپوریٹ اور صنعتوں سے اہم سائنسی اداروں کے ساتھ گہرے روابط قائم کرنے، اہم تحقیقاتی و ترقیاتی پروجیکٹوں کی شناخت کرنے اور اْن میں سرمایہ کاری کرنے کی گزارش کی۔ اْنہوں نے کہا کہ اس سے نہ صر ف فنڈنگ کو بڑھاوا ملے گا، بلکہ معیار اور اختراعات دونوں میں بہتری آئے گی۔اس بات کا اشارہ کرتے ہوئے کہ کووڈ-19نے سائنسی اور تکنیکی ترقی کے باوجود دنیا کو حیرت زدہ کردیا۔ اْنہوں نے کہا کہ وائرس دنیا میں خطرناک جرثومے کے ساتھ پھیل گیا اور اب یہ لاکھوں لوگوں کو متاثر کررہا ہے اور ہزاروں لوگوں کی جان لے رہا ہے۔وباء کے خلاف لڑائی میں صبر اورمضبوط عہد کے ساتھ ملک کی لڑائی کی قیادت کرنے کے لیے سائنسداں اور طبی برادری کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے کہاہے کہ سی ایس آئی آر کے سائنسدانوں اور تحقیق کاروں نے علاج، ٹیکہ، دوا ، عبوری اسپتال اور طبی معاونت کے آلات تیار کرنے کے لیے زبردست کوششیں کیں۔اس بات کا اظہار کرتے ہوئے کہ بھارت دنیا میں سب سے بڑی ٹیکہ کاری مہم کو لاگو کر رہا ہے۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہاہے کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ٹیکے کی 85کروڑ خوراک دی ہے یہ ایک قابل ذکر حصولیابی ہے۔ انہوں نے مزیدکہاہے کہ یہ بڑی حد تک بھارت کی سودیسی ویکسین، کو ویکسین اور بھارت میں تیار کووی شیلڈ جیسے دیگر ٹیکوں سے ممکن ہوسکاہے۔ انہوں نے کہاہے کہ مجھے اس موقع پر آگے آنے اور ملک میں ٹیکوں کی بھاری مانگ کو پورا کرنے کے لیے تیاری میں تیزی لانے کے لئے ویکسین تیار کرنے والوں کی ستائش کرنی چاہیے۔نوجوان سائنسدا ں ایوارڈعطا کرنے والے نائب صدر جمہوریہ نے اسکولی بچوں کے لیے سی ایس آئی آر اینوویشن ایوارڈ سمیت مختلف ایوارڈکے فاتحین کی ستائش کی۔اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے سائنس اور ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سی ایس آئی آر اورتمام سائنس سے متعلق محکمے غورو خوض کریں اور آئندہ کے 10سالوں میں ضروری سائنس وٹیکنالوجی اختراعات کا ایک بلیو پرنٹ لے کر سامنے آئیں۔ اگر ہمیں عالمی سطح پر اس مقابلے میں شامل ہونا ہے۔ وزیرنے کہاہے کہ ہمیں اپنی توقعات کو بھارت میں اعلیٰ ترین ہونے تک محدود نہیں رکھنا چاہئے، بلکہ دنیا میں اعلیٰ ترین ہونا چاہئے۔ ڈاکٹر جتندر سنگھ نے وضاحت کی کہ بھارت نوجوانوں کی آبادی کے اثاثے سے مالا مال ہے اور یہ صحیح تربیت اور تحریک کے ساتھ کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہاہے کہ اسکولی بچوں کے لیے سی ایس آئی آر اینوویشن ایوارڈ کے فاتحین کے درمیان اختراعات کی طاقت کو دیکھ کر وہ در حقیقت وہ بہت خوش ہیں۔اس موقع پر بھارت سرکار کے پرنسپل سائنسی مشیروجے راگھون ، سی ایس آئی آر کے ڈائریکٹر جنرل شیکھر سی مانڈے اور سی ایس آئی آر-ایچ آر ڈی جی کے سربراہ انجان رے، سینئر سائنسداں تحقیق کار اور ایوارڈ یافتگان موجود تھے۔

You might also like