Baseerat Online News Portal

آسان اور مسنون نکاح مہم کے سلسلے میں مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی کا ریاست کرناٹک کادورہ 

 بیدر اور گلبرگہ میں مختلف پروگراموں سے مخاطبت
گلبرگہ:۲۶؍ستمبر(نمائندہ)
 اسلام نے نکاح کا انتہائی آسان اور صاف ستھرا نظام پیش کیا ہے،جس کے مطابق نکاح کا انعقاد کرنا بالکل آسان ہے ،مگر افسوس کہ آج اس نظام کو فراموش کر کے بیجا رسوم ورواج کو اختیار کرلیا گیاہے ،جس کے نتیجے میں نکاح مشکل ہوچکا ہے، نکاح کو آسان بنانے اور اس کے انعقاد کے سلسلے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی کی جانب سے ملکی سطح پر’’ آسان اور مسنون نکاح مہم ‘‘جاری ہے، اس مہم کو آگے بڑھانے کی غرض سے آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے سکریٹری اور اصلاح معاشرہ کمیٹی کے کل ہند کنوینر مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب نے مورخہ ۲۴؍ستمبر  ۲۰۲۱؁ء جمعہ کے روز کرناٹک کے دو اضلاع بیدر اور گلبرگہ کا دورہ کیا ،ان دونوں مقامات پر کئی پروگراموں کا انعقاد ہوا جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:صبح۱۰؍بجے شاہین کیمپس کے آڈیٹوریم میں ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی،جس میں خواص اور سرکردہ حضرات بڑی تعداد میں شریک ہوئے،اس نشست سے مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے،جس نے اپنے ماننے والوں کی زندگی کے تمام شعبوں کے متعلق رہنمائی کی ہے،نکاح بھی شریعت اسلامی کا ایک اہم حصہ ہے،جس کے سلسلے میں اسلام نے انتہائی آسان اور صاف ستھرا نظام پیش کیا ہے،اس نظام کے مطابق نکاح کا انعقاد کرنا انتہائی آسان ہے ، مگر افسوس کہ عام مسلمانوں خصوصاً مالدار اور معاشرے کے اونچے طبقے کے لوگوں نے بیجا رسوم ورواج کو اختیار کر کے نکاح کو مشکل بنادیا ہے جس کے نتیجے میں طرح طرح کی برائیاں پیدا ہورہی ہیں،اب اگر نکاح کو آسان کرنا ہے اور برائیوں کو ختم کرنا ہے تو معاشرے کے خواص اور اونچے طبقے کے افراد کو اس سلسلے میں پہل کرنی ہوگی،انہوں نے بتایا کہ سماج کی اصلاح اور بگاڑ میں اونچے طبقے کا اہم کردار ہوتا ہے ،مچھلی جب سڑتی ہے تو اوپر کی طرف سے سڑنا شروع ہوتی ہے،اس لیے خواص اور اونچے طبقے کے لوگوں کو معاشرے کی اصلاح کے سلسلے میں بیدار ہونا ہوگااور سادگی کے ساتھ نکاح کا انعقاد کرکے عملی نمونہ پیش کرنا ہوگا،تاکہ معاشرے کے دیگر افراد اس کی پیروی کرسکیں،انہوںنے تمام ہی حاضرین کو آسان نکاح مہم کی تفصیل بتائی اور اس مہم سے جڑنے سے گزارش کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبد القدیر صاحب (صدر شاہین ادارہ جات )نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور اس مہم کو اہتمام سے آگے بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ۔اس پروگرام میں اصلاح معاشرہ کمیٹی کی جانب سے تیار کردہ اقرار نامہ کا اجراء ہوا،جس کو خوبصورت ڈیزائننگ کے ساتھ بڑی سائز میں اس طور پر چھپوایا گیا کہ اس کو مساجد میں چسپاں کیا جاسکے،بحمد اللہ کرناٹک اور حیدر آباد کی سینکڑوں مساجد میں ڈاکٹر عبد القدیر صاحب کی کوششوں سے یہ اقرار نامہ آویزاں کیا جاچکا ہے،اور اب بھی اس کا سلسلہ دراز ہے۔ بعدازاں مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی نے بیدر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز سے پہلے خطاب کیا،جس میں انہوں نے مختلف اصلاحی پہلوؤں پر گفتگو کی ،خاص طریقے پر نوجوانوں کو توجہ دلائی کہ وہ حیاء اور پاکدامنی کے ساتھ زندگی گزاریں،تعلیم ،تجارت اور معاش میں آگے بڑھیں اور احکام شریعت کی پاسداری کریں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے نوجوان دینداری کی بنیاد رشتہ نکاح کا انتخاب کریں،اس لیے کہ مال ،حسن وجمال اور اونچا خاندان جیسی چیزیں مٹ جانے والی ہیں ،جب کہ دینداری اور اچھے اخلاق باقی رہنے والی چیزیں ہیں،جو بیوی دیندار او ربااخلاق ہوگی اس کے آنے سے گھر کا ماحول پرسکون ہوگا،اور زندگی خوشگوا ر ہوجائے گی۔ بعد نماز جمعہ ۳؍بجے شاہین کیمپس کے وسیع وعریض گرائونڈ پر ایک بڑا پروگرام منعقد ہوا،جس میں شاہین کیمپس کے تقریباً چارہزار طلبہ شریک ہوئے جن کے سامنے مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب کا اصلاحی و تربیتی خطاب ہوا،جس میں انہوں نے طلبہ کو مرتب زندگی گزارنے ، اوقات کی حفاظت کرنے، گناہوں سے بچنے اوراچھی خوبیوں کو اختیار کرنے کی ترغیب دی ،اسی کے ساتھ تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے اور کامیاب زندگی گزارنے کے نسخے بھی بتائے،انہوں نے کہا کہ کوئی شخص اس وقت تک ترقی نہیںکرسکتا جب تک کہ وہ اپنا ہدف متعین نہ کرلے اور وہاں تک پہنچنے کے لیے مطلوبہ محنت نہ کرے۔مولانا محترم نے اپنے خطاب کے اخیر میں علم کے ساتھ اس پر عمل کی بھی تاکید کی اور کہا کہ اچھا اور کامیاب انسان بننے کے لیے برائیوں سے بچنا اور اچھے اعمال کو انجام دینا،خصوصاً اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کرنا ضروری ہے۔اسی روزبعد نماز عصر بیدر کی تاریخی قدیم اور وسیع وعریض جامع مسجد میں ڈاکٹر عبد القدیر صاحب کے صاحبزادے عبد الحسیب کا نکاح بڑی سادگی کے ساتھ ہوا، ڈاکٹر عبد القدیر صاحب مشہور تعلیمی شخصیت ہیں اور بحمد اللہ ذی حیثیت اور وسیع تعلقات کے حامل ہیں،اس کے باوجود انہوں نے اپنے بیٹے کا نکاح سادگی کے ساتھ کر کے ایک مثال قائم کی،یہاں نکاح کی مجلس سے پہلے مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سادہ اور آسان نکاح کا عملی نمونہ پیش کرنا متعدد تقریروں اور تحریروں سے بڑھ کر مؤثر ہے اور اسی کی ضرورت ہے کہ علماء ،امراء اور اونچے طبقے کے لوگ سادہ اور آسان نکاح کی عملی مثالیں اور نمونے پیش کریں ،انہوں نے اس بات پر خوشی کا بھی اظہار کیا کہ بورڈ کی اس آسان نکاح مہم کا بہترین اور خوشگوار اثر دیکھنے کو مل رہا ہے،خطاب کے بعد انہوں نے نکاح پڑھایا اور زوجین کو دعا کے تحفے سے نوازا ۔اس موقع پر مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب کا خطاب سننے کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور بورڈ کی آسان نکاح مہم سے جڑنے کا عزم کیا ۔بعد نماز عشاء مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب بیدر سے سفر کر کے کرناٹک کے مشہور اور تاریخی شہر گلبرگہ پہنچے اور وہاں جامع مسجد محمد آباد میں علماء اور عمائدین کے خصوصی پروگرام میں شرکت کی اور آسان نکاح مہم کا تعارف کرایا ،یہاں گلبرگہ کے مشہور علمائے کرام اور مختلف جماعتوں کے ذمہ داران بالخصوص مولانا محمد شریف مظہری صاحب،جناب مولانا فخر الدین صاحب،جناب مولانا جاوید صاحب،جناب سید عبد المقیم صاحب وغیر ہ شریک تھے ،اسی طرح جماعت اسلامی،جمعیت اہل حدیث اور مسلک اہلسنت والجماعت کے نمائندگان بھی تشریف فرما تھے ،گلبرگہ کے اس خصوصی پروگرام میں انہوں نے ملک کے موجود حالات پر بھی روشنی ڈالی اور اور بتایا کہ ملک کے ان تشویش ناک اور نازک حالات میں ہمت اور حکمت کے ساتھ خدمت کےکاموں کو بڑھانے اور نفرت کے زہر کو مٹانے کی کوشش ضروری ہے،ملک کی موجودہ صورت حال تشویش ناک ہے اور علمائے کرام اور عمائدین کی ذمہ داری بھی پہلے سے زیادہ بڑھی ہوئی ہے،مولانا موصوف کے خطاب سے پہلے مولانا محمد شریف مظہری اور سید عبد المقیم صاحب نے بھی خطاب کیا،یہ خصوصی اجلاس مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب کی دعا پر اختتام پذیر ہوا۔

You might also like