Baseerat Online News Portal

آزادی کے نام پر خواتین کا استحصال کرکے دنیا اپنا الو سیدھا کر رہی ہے: مفتی سید محمد حذیفہ قاسمی

جمعیۃ علماء شہر کانپور کے زیر اہتمام قلی بازار کانپور میں اجتماع خواتین کا انعقاد
کانپور:۲۶؍ستمبر(نمائندہ)
جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی کی زیر نگرانی جمعیۃ علماء شہر کانپور کے زیر اہتمام منعقد کئے جا رہے اجتماع کے تحت قلی بازار میں واقع مدرسہ جامعہ اسلامیہ میں مدرسہ کے مہتمم مفتی مقصود احمد ندوی کی صدارت میں خواتین کا اجتماع منعقد ہوا۔ اجتماع میں بطور مہمان خصوصی تشریف لائے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے ناظم تنظیم مفتی سید محمد حذیفہ قاسمی نے خواتین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ پردہ خواتین کا زیور، ان کے تحفظ کا ذریعہ اور ان کاضروریحق ہے۔ دنیا کی کمپنیاں اپنے سامانوں کی نمائش کرکے کاروبار کو چمکانے کیلئے خواتین کو بے وقوف بنا بنا کر انہیں نیم برہنہ کرکے بازار کی زینت بنا رہی ہیں۔ دنیا بھر کی خواتین کو اس کے خلاف احتجاج اور اعتراض کرنا چاہئے کہ ساری دنیا چھوڑ کرانہیں خواتین ہی ملی ہیں سر بازار رسوا کرنے کیلئے۔ مولانا نے کہا دنیا خواتین کی عزت و عفت کو نیلام کرکے غلط استعمال اور بیوقوف بنانا چاہتی ہے۔ مولانا نے نکاح کے فضائل پر بات کرتے ہوئے کہا مذہب اسلام نے نکاح کے ساتھ جو تقدس اور پاکیزگی کا تصور پیش کیا ہے، دنیاکے امن پسند لوگ اس کو تلاش کر کے اپنانا چاہ رہے ہیں۔ مفتی حذیفہ قاسمی نے کہا کہ موجودہ دور میں غریبی اور مال کی تنگی ہر کسی کیلئے مستقل مسئلہ ہے، اس سے ہمارا معاشرہ بھی نہیں بچ سکا ہے، شہر کانپور صنعتی اور کاروباری شہر ہے، یہاں کے کچھ کاروباری آگے بڑھیں اورگھروں کے اندر رہنے والی خواتین اور نوجوان بچیوں کیلئے ان کے گھروں تک ایسے کام لاکر دئے جائیں جنہیں وہ با آسانی اپنے گھروں کے اندر رہ کر عزت کے ساتھ کر سکیں تو وہ باہر نکل کر غیروں کی فیکٹریوں، کارخانوں اور کمپنیوں میں جانے اور دوسروں کے ساتھ بیٹھ کر کام کرنے کو مجبور ہونے سے بچیں گی اور کئی طرح سے ان کے برائیوں میں پڑنے کے خطرے کو کم کیا جا سکے گا۔ نیک نیت کیساتھ اس کی کوشش کرنا ہمارا کام ہے، نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں، اگر ہم نے کوشش بھی نہیں کی تو اللہ کے یہاں اس پر بھی ہم سے باز پرس ہوگی۔ مفتی صاحب نے مخلوط تعلیم کے نقصانات اور اس سے بچنے کے مختلف طریقوں سے واقف کراتے ہوئے کہاکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں ایسے معیاری اور مثالی اسکول قائم کئے جائیں جہاں صرف بچیاں پڑھیں اور انہیں پڑھانے والا مکمل اسٹاف بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ اوردین دار خواتین پر مشتمل ہو۔ مولانا نے خواتین سے کہا کہ اپنے گھروں کے چھوٹے بچے اور بچیوں کو بچپن سے ہی انبیائے کرام کے واقعات، حضرت محمدﷺ کی زندگی اور آپ ؐ کی بیویوں اور بیٹیوں کی زندگی کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام، صحابیات،اولیاء اللہ اور نیک بندوں و بندیوں کے واقعات سنائے جائیں۔جب بچپن سے ہی بچوں کو دینی تعلیم سے لیس کیا جائے گا اور انہیں دن کی بنیادیں باتیں معلوم ہوں گی تو جب وہ بڑے ہوں گے تو دنیا کی خرابیوں اور برائیوں میں پڑنے سے بچیں گے ورنہ وقت خالی ہے، بچوں کا ذہن سادہ ہے ہم نے اگر دمہ داری سمجھ کر اپنا کام نہیں کیا تو شیطان اپنا کام کرے گا دنیا کی خرافات سے محبت ان کے دلوں میں پیدا کر دے گا۔ مفتی حذیفہ قاسمی نے کہا کہ جب بچے اور بچی کی زبان کھلے تو سب سے پہلے ان کی زبان سے کلمہ، درود، اللہ اور پیغمبر ؑ کا مبارک نام ان کی زبان سے بار بار کہلوانا چاہئے، جب پڑھنے کے لائق ہو جائے تو قرآن پاک کی تعلیم، صبح و شام، سونے جاگنے، کھانے، پینے کی دعائیں، نماز کے مسائل، حلال و حرام کی پہچان اور اسلام کی بنیادی باتیں یا د کرائی جائیں۔ پھر اس کے بعد اسکول میں پڑھائیں کیونکہ اگر بنیاد پختہ ہوگی تو ساری زندگی انشاء اللہ قدم بہکے گا نہیں ورنہ عصری تعلیم کے نام پر جو بازار لگا ہوا ہے وہ مسلم بچوں کو آنے والے وقت میں تعلیم یافتہ بنانے کے نام پر مسلم نہیں رہنے دے گا۔
اس سے قبل اجتماع کا آغازحافظ فضل الرحمن نے تلاوت قرآن پاک سے کیا۔ نظامت کے فرائض انجام دے رہے صدر اجتماع مفتی مقصود احمد ندوی نے آئے ہوئے تمام مہمانوں اور اجتماع میں شریک رہیں تمام خواتین کا شکریہ ادا کیا۔ اعجاز صدیقی نے نعت و منقبت کا نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ اجتماع میں حافظ آصف، حافظ امامل، حافظ وحید الدین، مولانا عظیم خوشترجامعی، معید احمد کے علاوہ کثیر تعداد میں پردہ نشین خواتین شریک رہیں۔

You might also like