Baseerat Online News Portal

مشکل ہے پھر ملے کبھی یاران رفتگان

اکبر الہ آبادی، جگر مراد آبادی اور اختر شیرانی کے مشترکہ ماہ وفات کے موقع پر اردو کارواں کی جانب سے قومی سطح کے ویبنار میں خراج عقیدت
ممبئی:26؍ستمبر(نمائندہ)
اکبر الہ آبادی جگر مراد آبادی اور اختر شیرانی کے مشترکہ ماہ وفات کے موقع پر اردو کارواں کی جانب سے خراج عقیدت پیش کی گئی. پروگرام کی شروعات جگر مراد آبادی کی نعت سے ہوئی سلیم شاہ نے جگر مراد آبادی کی نعت پیش کی.
شعیب ابجی نائب صدر اردو کارواں نے اردو کارواں کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو کارواں گزشتہ کئی برسوں سے طلباء کے درمیان کام کر رہا ہے اردو زبان و ادب کے فروغ اور ارتقاء کے مختلف پروگراموں کے انعقاد سے لے کر طلبہ کے درمیان علمی و ادبی مقابلوں کا انعقاد کرتا آرہا ہے اور یہ مقابلے اسکول کی سطح سے لے کر یونیورسٹی کی اعلیٰ سطح تک مستقل ہوتے ہیں اور ان مقابلوں میں وہ طلبہ بھی حصہ لیتے ہیں جو اردو میڈیم سے نہیں ہیں اور جن کی مادری زبان بھی اردو نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ وہ اس کامیابی کے حقدار فرید احمد خان صدر ار دو کاروں کو مانتے ہیں
فرید احمد خان صدر اردو کارواں نے پروفیسر ضیاء الرحمن صدیقی( صدر شعبہ اردو علی گڑھ) اور دیگر مقررین کا خیرمقدم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بہت اطمینان محسوس کرتے ہیں کہ اردو کارواں کے ذریعے اردو زبان ان کالجوں تک پہنچی ہے جہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے طلبہ اور اساتذہ اردو زبان و ادب کی خدمات سے انجان تھے انہوں نے ولسن کالج، ایس این ڈی ٹی کالج، مٹھی بائی کالج اور ٹا ٹا انسٹیٹیوٹ کا بطور خاص ذکر کیا. اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ آن لائن پروگرام ہونے کی وجہ سے اردو کارواں کو کافی فائدہ بھی پہنچا ہے. آن لائن سے قبل اردو کارواں تقریبا 50 کالجوں کے اشتراک سے پروگرام کرتا آیا، آن لائن کا فائدہ یہ ہوا کہ ہم ممبئی مضافات کے علاوہ تقریبا ہندوستان کے ہر چھوٹے بڑے شہروں سے جڑ گئے کالج اور یونیورسٹیوں کے اشتراک میں مزید اضافہ ہوا جو کہ اردو کارواں کے خوش آئند مستقبل کی طرف اشارہ ہے.
عرفان عارف (صدر تحریک بقائے اردو) جو نظامت کے فرائض بھی انجام دے رہے تھے کہا کہ تینوں شعراء کی تاریخ وفات ایک ہی ہے مگر تینوں کی شاعری میں الگ الگ رنگ نظر آتا ہے ڈاکٹر فاطمہ کے مقالے پر انھوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اختر شیرانی صرف رومانی شاعر نہیں تھے بلکہ نثر پر ان کا بہت کام ہے جس کو نظر انداز کیا گیا ہے اس طرف توجہ دی جانی چاہیے اس کے علاوہ انہوں نے جگر مراد آبادی کے شاعرانہ انداز فکر پر بھی بات کی کہ عشقیہ شاعری کے علاوہ تصوف کا رنگ بھی نظر آتا ہے انہوں نے جگر مراد آبادی کی لکھی ہوئی نعت کا بطور خاص ذکر کیا اور اکبر الہ آبادی کی شاعری کے لیے کہا کہ ان کی نظموں میں اصلاح کا پہلو نمایاں ہے ہے
ڈاکٹر فاطمہ خاتون (کولکاتہ) نے اختر شیرانی کے حوالے سے کہا کہ وہ مقصدیت اور افادیت کے شاعر نہیں تھے بلکہ وہ زندگی کا حسن دیکھتے تھے زندگی کے مثبت پہلو کو دیکھتے تھے عورتوں کا ذکر ان کی شاعری میں پایا جاتا ہے انہوں نے اپنی محبوباؤں کا نام لیا اپنی شاعری میں لیا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ اختر شیرانی پہلے شاعر نہیں ہیں جنہوں نے اپنی شاعری میں محبوب کا نام لیا ہے، ان سے پہلے مصطفیٰ زیدی کی شہناز، نظیر اکبر آبادی نے موتی اور غالب کے ہاں ڈومنی کا ذکر ملتا ہے. اختر شیرانی کی شاعری میں خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی باتوں کو کھل کر کہا . اختر شیرانی اور سلمیٰ کے خطوط میں عورت حقیقی معنوں میں عورت نظر آتی ہے. انھوں نے مختصر زندگی میں بھی شاعری کے علاوہ نثر میں بھی بہت کام کیا
. جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا. . صحافت کے میدان میں بھی انکی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا
وہ ایک اچھے مترجم بھی تھے انہوں نے فارسی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ڈرامے لکھے دھڑکتے دل افسانوں کا مجموعہ. وہ بہترین کالم نگار تھے. عکاسی لارڈ بایرن آف راجستھان، جیسے فرضی ناموں سے کالم لکھتے تھے، اس کے علاوہ زمیندار اور ہمدرد اخبار کے لیے بھی انہوں نے کالم لکھے قدرت اللہ شہاب کو رسالہ رومان کے ذریعے متعارف اور بچوں اور عورتوں پر بھی انہوں نے نظم اور کہانیاں لکھیں.
پروفیسر شاکر حسین شاکرinternational foundation of urdu poetry, Director Artist welfare Association لے جگر مراد آبادی کی شاعری پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جگر کو ان کی زندگی میں ہی بے پناہ مقبولیت حاصل ہو چکی تھی جگر نے اردو شاعری کو نیء جیت عطا کی. انھوں نے مزید کہا کہ جگر پر بہت سارا کام ہو چکا ہے لیکن کسی نے ان کی شخصیت کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش نہیں کی، جگر کی شاعری میں اصغر گونڈوی کی صحبت میں رہنے کے بعد تبدیلی نظر آتی ہے. تصوف کا رجحان نظر آتا ہے. فارسی زبان پر ان کو عبور حاصل تھا. انہوں نے کہا کہ وہ جگر مراد آبادی کو نئی غزلوں کا علمبردار مانتے ہیں. جگر کو جگر بنانے میں ان کے ترنم کا بڑا ہاتھ ہے لیکن یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے اس لیے کہ ان کی شاعری میں جو ندرت جو وسعت خیال ہے وہ بہت کم شعراء میں دکھائی دیتا ہے. آتش گل میں انہوں نے خاص بحروں کا انتخاب کیا ہے.
پروفیسر سلیم محی الدین نے اکبر الہ آبادی کے تعلق سے کہا کہ یہ وہ شاعر ہے جسے سب سے زیادہ نظرانداز کیا گیا ہے جبکہ ان کی شاعری دور حاضر کے تقاضوں کو بھی پورا کرتی ہے. ان کی شاعری میں سارے امکانات وہی ہیں جو موجودہ دور میں نظر آتے ہیں، انہوں نے اکبر الہ آبادی کو نو آبادیاتی دور کا شاعر کہا انہوں نے مزید کہا کہ داغ امیر مینائی کی غزلوں کے ماحول میں اکبر الہ آبادی کی نظموں کا ایک الگ رنگ نظر آتا ہے. ان کی شاعری سراپا احتجاج ہے لیکن اردو شاعری کے مزاج کے ساتھ، اردو طنز و مزاح کی روایت کو لیے ہوے، وہ شاعر، فلسفی، مصلح قوم اور مفکر اور مترجم بھی تھے. اکبر الہ آبادی پر مزید تحقیق ہونا ضروری ہے. ان کے نزدیک شاعری کا مقصد اصلاح تھا. . انھیں انگریزی زبان سے اختلاف نہیں تھا وہ انگریزی تہذیب سے اختلاف رکھتے تھے.
ڈاکٹر پروفیسر ضیاء الرحمن صدیقی (صدر شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ اکبر الہ آبادی سر سید کے معاصرین میں سے تھے اکبر نےاپنی نظموں اور غزلوں کے ذریعے اپنی بات کو پیش کیا، اور اپنی شاعری کے ذریعے سے کسی حد تک اپنا پیغام پہنچانے کی کوشش کی کی، اکبر کی نظم تعلیم نسواں کا بھی انہوں نے ذکر کیا، اور بتایا کہ اس کی تحریک اکبر الہ آبادی کو ممبئی سے ملی تھی. اکبر الہ آبادی حکمرانوں سے کبھی متاثر نہیں ہوئے اور مسلسل لکھتے رہے.
اختر شیرانی کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ اختر شیرانی کے ہاں زندگی میں سکون نظر آتا ہے ان کی زندگی میں وہ جب پریشان ہوتے ہیں تو رومان کو ذہنی سکون کے لئے تلاش کر لیتے ہیں وہ نغمگی کی طرف آتے ہیں غم غلط کرنے کے لیے فرضی کریکٹر سلمہ اور عذرا کی طرف طرف لپکتے ہیں انہوں نے ان کی نظم جوگن کا ذکر کیا. اور مجاز کی شاعری پر بھی روشنی ڈالی. اس کے علاوہ نظم اور نثر پر بھی بات کی. جگر مراد آبادی کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ جگر بنیادی طور پر فارسی کے شاعر تھے وہ رومان کے شاعر تھے، انھوں نے فانی میر اور حسرت کا ذکر کیا. یہاں جگر اور حسرت کی شاعری پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حسرت کے ہاں زندگی میں شاعری نظر آتی ہے اور جگر کے یہاں شاعری ہی زندگی ہے جگر کے یہاں عشق کے متعلق پاکیزگی کے جذبات پائے جاتے ہیں اور بعد میں تصوف کی طرف ان کا رجحان نظر آتا ہے جگر کے یہاں انسانیت کا جذبہ بےپناہ موجود تھا.
اس موقع پر کفایت حسین کیفی نے اختر شیرانی کی نظم او دیس سے آنے والے بتا…
عظمیٰ فردوس نے جگر مراد آبادی کی غزل، جہانگیر روش اور عبدالرحمن نے اکبر الہ بادی اور جگر مراد آبادی کی غزلیں پیش کیں. گلواکارہ شبانہ شیخ نے اکبر الہ آبادی کی غزل کہوں سے قصہ درد و غم کوی ہمنشیں ہے نا یار ہے.. سنا کر سماں باندھ دیا اس کےے علاوہ انھوں نے اختر شیرانی اور جگر مراد آبادی کی غزلیں بھی پیش کیں.
اس نشست میں پروفیسر محمد کاظم دہلی یونیورسٹی، ڈاکٹر پروفیسر عبدالشعبان (ٹاٹا انسٹیٹیوٹ ممبیء) ممبیء و مضافات کے علاوہ کولکتہ، کشمیر، علی گڑھ، مرادآباد، اورنگ آباد کے اساتذہ و طلباء کی بڑی تعداد شریک تھی اس کے علاوہ اردو کارواں ممبیء و اورنگ آباد کے ممبران و رکن مجلس عاملہ نفیسہ شیخ رابطہ کار اردو کارواں، پروفیسر عرفان سوداگر ،راشدہ کوثر بن ناصر سر، محسن ساحل شبانہ ونو پرنسپل ڈی ایڈ کالج خلافت ہاوس ممبیء و دیگر ممبران شامل تھے.
رسم شکریہ شبانہ خان جنرل سیکرٹری اردو کارواں نے ادا کیا۔

You might also like