Baseerat Online News Portal

بیٹے عاصم کی یوپی ایس سی امتحان میں اردو زبان کے ذریعے ملی شاندار اور انوکھی کامیابی دیکھنےکےلئےوالدہ حیات نہیں رہیں

اردو زبان کی شان میں طرہ امتیاز کا اضافہ
جلگاؤں سعیدپٹیل کی خصوصی رپورٹ
٢٤ ستمبر ٢٠٢١ ء کے روز یو۔پی۔ایس۔سی امتحان ٢٠٢٠ کا نتیجہ اعلان کیاگیا۔جس میں دھولیہ ضلع کی ساکری تحصیل کے نظام پور کے رہنےوالے عاصم خان کفایت خان جن کے والد۔و۔والدہ دھولیہ بلدیہ اعظمی کی اردو اسکول میں درس۔تدریس کے پیشے سے منسلک تھے۔ان کے ذہن بیٹے عاصم خان نے یو۔پی۔ایس۔سی امتحان میں اپنی مادری زبان اردو ذریعے تعلیم سے پانچویں کوشش میں ٥٥٨ ویں رینک حاصل کی۔یہ کامیابی عام کامیابی نہیں ہے۔بلکہ یہ کامیابی شاندار ، انوکھی اور اردو کے طلباء کےلیۓ مشعل راہ اور نمونہ کامیابی ہے۔کیونکہ اس مرتبہ اردو ذریعے تعلیم سے قومی سطح کے امتحان میں بازی مارنےوالے عاصم خان واحد امیدوار ہے۔جس کی وجہ سے ان کی کامیابی انھیں منفرد بناتی ہے۔ان کے والد ملازمت سے سبکدوش ہوچکے ہے۔لیکن ان کی بہت بڑی کامیابی دیکھنےکےلیۓ ان کی والدہ اس دنیا میں نہیں ہیں۔ گذشتہ ڈیڑھ برس قبل اس دارے فانی سے چل بسیں ہیں۔ والدہ کی خدمت میں عاصم خان نے کوئی کثر باقی نہ رکھی تھی۔۔قبل ازیں جب انھوں حج ہاوس ممبئ کی رہنمائی سے دہلی میں داخلہ لیاتو اسی دوران ان کے والد فالج کے مرض کی وجہ سے ان کا آپریشن کرنا پڑا تھا۔جن کی خدمت اور بھرپور خیال رکھنے میں ان کا ناغہ ہوا۔لیکن ان کے گھرانے کی خصوصیت یہ کہ ان کے برادر عزیز قیوم خان بھی مدرس ہےجو شہادہ بلدیہ اردو اسکول میں سرگرم عمل ہے۔دونوں بہنیں بھی معلمہ ہیں۔لیکن ان کی ضد بھری جدوجہد سے ملی کامیابی دیکھنےکےلیۓ والدہ حیات نہیں ہیں۔جس کا انھیں زندگی بھر افسوس رہےگا۔ ان کی ١٢ ویں تک کی تعلیم دھولیہ کی ایل۔ایم سردار ہائی اسکول و جونیئر کالج میں اردو زبان میں ہوئی۔کاویتری بہینابائی چودھری نارتھ مہاراشٹر یونیورسٹی سے انھوں نے انجنیئرینگ کی ڈگری تک کی تعلیم مکمل کی۔جلگاؤں کے قریب بامبھوری کی ایس۔ایس۔بی۔ٹی۔انجنیئرینگ و تکنیکی کالج میں بائیو ٹیکنالوجی شعبہ کی تعلیم حاصل کی۔انھوں نے یو۔پی۔ایس۔سی کےلیۓ اردو زبان کے ذریعے کا انتخاب کیوں کیا۔١٢ جماعت تک کی تعلیم اردو زبان میں ہوئی۔اسی طرح گھر میں تقریباً سبھی نےبذریعے اردوزبان سے ہی تعلیم حاصل کرکے ڈگری و پوسٹ گریجویٹ تک کی تعلیم حاصل کرنےکی وجہ سے بچپن سے ان کے آس۔پاس اردو کا ماحول ہونےسے یہ طۓ کیاکہ اردو سے کامیاب ہوسکتا ہوں ،اس طرح کا پختہ یقین تھا۔٢٨ سالا عاصم خان نے یو۔پی۔ایس۔سی۔امتحان میں پانچویں کوشش میں کامیابی حاصل کی۔انھوں نے تین مرتبہ اہم امتحان اور ایک مرتبہ ملاقات (انٹرویو) بھی دیاتھا۔لیکن اس وقت کامیابی ان سے تھوڑی دور رہی ۔
ضد ، لگن اور خود اعتمادی کے مثلث کے بل پر مہاراشٹر کے طلباء مرکزی سول سرویس بورڈ کے امتحان میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں اس کا تجربہ پیش کیا۔حج ہاؤس ممبئ سے ملی رہنمائی میں دہلی کی جامیہ اسلامیہ ایکاڈمی اس ادارے میں عاصم خان نے مقابلہ جاتی امتحان کی تیاری کی۔ قومی طلباء کیڈیٹ کے طور پر تربیت اور ساتھ ہی ملا ہوا نظم نسق اعلی معیاری امتحان کی مشق میں کارگر ثابت ہوئی۔روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے پڑھائی کرنا ،سوالات کے پرچے حل کرنا ، این۔سی۔ای۔آر۔ٹی ۔کی کتابیں ،منصوبوں پر شائع ہونے والے رسالے فائدے مند رہے۔اس تعلیم کےلیۓ اردو زبان میں زیادہ کتابیں یا اہم مواد دستیاب نہیں ہے۔ اس کمی کو محسوس کرتے ہوۓ "کاوش” نامی کتاب تحریر کی ہے۔ان کی کامیابی سے اردو زبان کی مقبولیت اور طرہ امتیاز کا اضافہ ہوا ہے۔ان کی کامیابی پر دھولیہ ضلع کا نام روشن ہوا ہے۔اسی طرح انھوں نے جن جن تعلیم گاہوں سے تعلیم حاصل کی ،ان کے اساتذہ ،رشتہ دار دوست احباب کی جانب سے مبارکباد پیش کیئے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔اور خوشی کی لہر پائی جاتی ہیں۔مذکورہ خصوصی رپورٹ کے دوران اس نمائندے کو عاصم خان کے قریبی رشتہ دار فروز خان نندوربار ان کا بھی تعاون حاصل رہا ۔

You might also like