Baseerat Online News Portal

نشان راہ

ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی کا تبصرہ
نام کتاب: نشانِ راہ
مؤلف: نقی احمد ندوی
صفحات: 232
ناشر: مرزا وولڈ بک ہاؤس
ملنے کے پتے : Mirza World Book House
Qaiser colony Aurangabad-431001
Mobile – 9325203227 – ,7798077863
’’ نشانِ راہ‘‘ سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، مقصدیت کے حصول کے طریقوں سے واقف کراتی ہے، مقصد و ہدف کے تعین کے گُر سکھاتی ہے، سرورق پر مصنف نے کتاب کے مواد کا تعارف کرانے کے لیے جو جملہ لکھا ہے، وہی اس کتاب کا تعارف ہے’’ طلباء کی کامیابی اور ترقی کے لیے ایک مفید لائحہ عمل ہے‘‘، واقعہ یہ ہے کہ کتاب میں اس سلسلہ کا خاطر خواہ مواد جمع کر دیا گیا ہے، جسے پڑھ کر طلبہ اپنا مقصد متعین کر سکتے ہیں، حصولِ مقاصد کے طریقوں سے واقف ہو سکتے ہیں، کامیابی کے ہنر آزما سکتے ہیں، ناکامی کے اسباب و محرکات سے دامن بچا سکتے ہیں، دورِ طالب علمی میں کامیاب زندگی گزارتے ہوئے مستقبل کی کامیابیاں اپنے نام کر سکتے ہیں ۔
عہدِ جدید میں کاؤنسلنگ کو بڑی اہمیت حاصل ہے، اس کے لیے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں، ادارے اور تنظیمیں اس سلسلے میں کام کرتی ہیں، ورکشاپ رکھے جاتے ہیں، پروگرام ہوتے ہیں، گائیڈنس فراہم کی جاتی ہے، زیرنظر کتاب خاص طور پر طلبہ مدارس کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے، ان کے لیے مستقبل میں پائے جانے والے عملی امکانات کی طرف رہنمائی کی گئی ہے، مدارس کے کام اور ان کی اہمیت کے کلی اعتراف کے ساتھ یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ وہاں کاؤنسلنگ کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا، بعض مدارس میں بعض اساتذہ ہوتے ہیں جو اپنے طور پر طلبہ کو رہنمائی فراہم کرتے ہیں، وقت رہتے ہوئے انہیں امکانات سے واپس کراتے ہیں، ان کی آنکھیں کھول دیتے ہیں، یا ان کے اندر موجود صلاحیت talent کا اندازہ کر کے اور ان کے رجحان کو دیکھ کر ان کی رہنمائی کرتے ہیں، زمانہ قدیم کے علماء و اساطین اس سلسلے میں عہد جدید کے اساتذہ سے بہت ممتاز تھے، ان کا علم بھی گہرا ہوتا تھا، وہ اپنے پیشے کے ساتھ بھی انصاف کرتے تھے اور اپنے طلبہ کے لئے بھی بے پناہ مخلص ہوتے تھے، مدارس کے محدود وسائل اور بنیادی معاشی الجھنوں نے اب اساتذہ کو اس طرح مشغول کر دیا ہے کہ ان کے پاس نہ وقت ہے نہ جذبہ، روزمرہ بڑھتے ہوئے ذاتی تقاضے ابتدائی ایام میں پائے جانے والے جنون و جذبہ کو بھی پھیکا کر دیتے ہیں، اساتذہ کے سرد جذبات، معاش کی تگ و دو میں الجھی زندگی، علم و مطالعہ اور فکری بلندیوں سے عاری ماحول کا طلبہ کی زندگیوں پر اثر انداز ہونا بالکل یقینی ہے، یوں بھی مدارس اسلامیہ کا آپ سروے کیجیے تو فراغت کے سال تک بیشتر طلبہ اپنے مستقبل کے تئیں بے خبر ہوتے ہیں، ان سے پوچھا جائے کہ آئندہ کیا ارادہ ہے تو کہتے ہیں’’ ابھی سوچا نہیں‘‘ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ مدارس میں آنے والے بیشتر طلبہ کو یہی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیوں آئے ہیں، علاقائی ماحول یا والدین کی دینی وابستگی یا ان کی معاشی تنگی انہیں تعلیم کے لیے مدرسہ تک پہنچا دیتی ہے، اکثر ماں باپ اس کی اہلیت نہیں رکھتے کہ وہ اس کے مستقبل کے لیے راہِ عمل کا تعین کریں اور خود مدرسہ میں بھی کبھی اس موضوع پر گفتگو نہیں ہوتی الا ماشاء اللہ، نتیجتاً فراغت کے بعد عمر عزیز کے کئی قیمتی سال راہ عمل کے تعین میں ہی گزر جاتے ہیں، آج صورتِ حال یہ ہو گئی ہے کہ مدارس کی اچھی خاصی تعداد کے باوجود اچھے مدرس اور اچھے ائمہ تک میسر نہیں، اس لیے کہ تغیراتِ زمانہ نے مدارس کے فارغین پر بڑا اثر ڈالا ہے، قناعت و کفایت کے سارے درس اس وقت ماند پڑ جاتے ہیں جب بنیادی انسانی ضروریات کے لئے انسان کو احساسِ محرومی کے ساتھ انسانوں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنا پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اچھے طلبہ کی بڑی تعداد بغیر کسی منصوبے کے یونیورسیٹز کا رخ کر لیتی ہے خواہ اس کے بعد بھی فکر معاش اس کا دامن نہ چھوڑے، ایک بڑی تعداد دیگر ذرائع کو اختیار کرتی ہے، علوم اسلامیہ کی تحصیل اور مدرسہ کا مقصد یعنی حفاظت اسلام اور اشاعت اسلام دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے، اکثریت اس سے یکسر غافل ہوجاتی ہے ،اور جو تعداد اس مقصد سے بظاہر وابستہ ہوتی ہے تو اس کی وابستگی بھی برائے نام ہوتی ہے، جس کے نتائج ہم خوب دیکھ رہے ہیں، معاشرہ پر کس قدر اثرات مرتب ہوتے ہیں یہی ہمارے مطالعہ و مشاہدہ کا محور ہے۔
اس صورتِ حال میں شدید ضرورت تھی کہ فارغین مدارس کو فکری مواد فراہم کیا جاتا، مستقبل کے امکانات سے روشناس کرایا جاتا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کیریئر کاؤنسلنگ کے پروگرام کرائے جاتے، یونیورسٹیز جانے والوں کو درست رہنمائی فراہم کی جاتی، بلکہ اساتذہ خود ہی طلبہ کو یونیورسٹیوں کے لیے تیار کرتے تاکہ وہی طلبہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد مدرسہ کے بنیادی مقصد کے سفیر و علم بردار ثابت ہوتے، سچ پوچھیے تو فارغین مدارس تدریس سے امامت تک ہر کام بغیر کسی مشق و ترتیب اور ٹریننگ کے انجام دیتے ہیں، میرے نزدیک امامت جیسے منصب کو پیشہ بنانا درست ہی نہیں، کیونکہ جب ایسا مقدس منصب معمولی تنخواہ کے لیے پیشہ بن جاتا ہے تو پھر اس کی رہنمائیاں دم توڑ دیتی ہیں، اس کے اثرات ختم ہوجاتے ہیں، میرے لئے سب سے تکلیف دہ مرحلہ وہ ہوتا ہے جب کوئی صاحب ثروت یوں تعارف کراتا ہے’’ بیچارے امام صاحب ‘‘’’ بے چارے مولوی صاحب‘‘ اس تعارف کی ایک وجہ معاشرہ کا مردہ ضمیر اور مروجہ نظام ہے لیکن دوسری وجہ یہ ہے کہ اکثر لوگ خود ہی اپنی قدر کھو دیتے ہیں، خود ہی اپنی ساکھ گرا لیتے ہیں، اگر صرف امامت ہی ایک منصوبہ بندی کے ساتھ طلبہ کو سکھائی جاتی تو وہ دو رکعت کے ساتھ اپنے اپنے حلقوں میں فکری و معاشرتی امامت بھی کرتے، اصلاح معاشرہ کی اتنی مہم نہ چلانی پڑتیں، دین کی بنیادی تعلیم سے محرومی عام نہ ہوتی، جمعہ کے اجتماعات و خطبات بڑی تبدیلی کا ذریعہ بن جاتے مگر افسوس! خیر ان دنوں بعض فکر مند حضرات نے مختلف پہلوؤں سے فارغین مدارس کی رہنمائی کا کام شروع کیا ہے، یہ بڑا خوش آئند قدم ہے، زیرنظر کتاب’’ نشانِ راہ ‘‘بھی اسی سلسلے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، صاحب کتاب سوشل میڈیا پر اپنے منفی تبصروں اور جرأت مندانہ تحریروں کے لیے اس طرح مشہور ہوگئے ہیں کہ ایک طبقہ نے ان کی اس سنجیدہ کوشش کا بھی غیر سنجیدگی سے انکار کر دیا، معاشرہ میں مثبت تبدیلی کے لئے مثبت اور سنجیدہ کوشش ہی کارآمد ہوتی ہیں، منفیت و جارحیت کو قطعاً جرأت سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا، ہاں حقائق کو خوبصورت الفاظ کے ذریعے درد و خلوص کے ساتھ بیان کرنا واقعی جرأت کا کام ہے، اس لئے کہ ہمارے عہد کی اکثریت اپنے کام، اپنی تنظیم، اپنے ادارے اپنی شخصیت کے خلاف ایک لفظ بھی سننا گوارا نہیں کرتی، ہر کسی کو دعویٔ کمال ہے، گویا سب ہی نقائص سے پاک ہیں، مثبت و سنجیدہ اور خالص اصلاحی و تعمیری تنقید بھی موجبِ اختلاف بلکہ باعثِ انتقام و عداوت بن جاتی ہے۔
232 صفحات پر مشتمل اس کتاب کو مصنف نے پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے، پہلے باب میں’’ کامیابی کے بنیادی اصول‘‘ سے متعلق نہایت مرتب و کارآمد گفتگو کی ہے، دوسرے باب میں کامیابی کے شرائط پر گفتگو کی ہے، تیسرے باب میں طالب علمی کی زندگی اور اس کے مختلف مراحل و امکانات پر اپنے فکر و مطالعہ کا نچوڑ پیش کیا ہے، چوتھے باب میں کیریئر سے متعلق گفتگو کی ہے، جو اِس وقت کی ضرورت ہے اور اس کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا تھا،کتاب کے آخری باب میں ناکامی کے اسباب و محرکات سے متعلق گفتگو کی گئی ہے، ظاہر ہے کہ مدارس کی دنیا کے لیے یہ اور اس سے پہلے اس قبیل کی نئی آنے والی بعض دیگر کتابیں نیاپن رکھتی ہیں، جب کہ دوسرے نظام تعلیم میں کاؤنسلنگ، گائیڈنس، موٹیویشن جیسی اصطلاحات بہت رائج ہیں، ان کے نتائج و اثرات کیا ہوتے ہیں یہ الگ بحث کا ایک موضوع ہے، کتاب کا اسلوب محاکاتی ہے، واقعات اور مثالوں نے کتاب کو دلچسپ بنایا ہے، کتاب اپنے مقصد میں کامیاب نظر آتی ہے اور موٹی ویشن کے لیے مؤثر معلوم ہوتی ہے، کتاب کے بعض مباحث اور بعض بعض جگہوں پر غیر سنجیدہ اسلوب سے اختلاف ہونا یقینی امر ہے، علوم عصریہ کی اعلی تعلیم کے سلسلہ میں یہ لکھنا’’ انجینئرنگ اور میڈیکل کے علاوہ فارغین مدارس کے لیے سارے دروازے کھلے ہیں‘‘ ایک غیر واقعی دعویٰ ہے، چند مضامین کے علاوہ یونیورسٹیز دیگر کورسز میں مدرسے کی سند کی بنیاد پر داخلہ نہیں دیتی ہیں، جن ذرائع سے طلباء دیگر کورسیز میں جاتے ہیں ان ذرائع سے انجینئرنگ اور میڈیکل میں بھی جا سکتے ہیں، اس کے دروازے بند کیوں ہیں؟ میں ایسے بھی بعض طلبہ کو جانتا ہوں جو NEET کی تیاری کر رہے ہیں اور ان کو بھی جانتا ہوں جو مدرسہ سے پڑھ کر میڈیکل میں کامیاب ہو چکے ہیں ۔
صفحہ 138 پر لکھتے ہیں’’ بعض سقراطی بقراطی قسم کے طلبہ کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ انگریزی زبان پر اتنا زور کیوں‘‘؟ یہ اسلوب مؤلف کی ذہنی مرعوبیت کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے، ساتھ ہی اس سوال کا جواب بھی قابل اطمینان موجود نہیں ہے، طلبہ کا سوال بجا ہوتا ہے، وہ اپنے خیال میں حق بجانب ہوتے ہیں، ضروری نہیں کہ ہر طالب علم کو انگریزی اچھی آئے، ضروری نہیں کہ ہر اسکالر، ہر سائنسداں اچھا اسپیکر اور اچھا رائٹر ہو، مؤلف کو اس پہلو کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ترقی وہی قومیں کرتی ہیں جو انگریزی کے پیچھے نہیں علوم و فنون کے پیچھے بھاگتی ہیں، فرنچ قوم انگریزی بولنے پر مذاق اڑاتی ہے، جاپانی طنزیہ مسکراہٹ سے استقبال کرتے ہیں، چینی گھن کرتے ہیں، ترک نابلد ہوتے ہیں، یہ سب ترقی یافتہ قومیں ہیں اور زمانۂ قدیم سے عہد جدید تک کی تاریخ یہ رہی ہے کہ ترقی یافتہ قومیں علوم و فنون کو اپنی مادری زبان میں شکار کرتی ہیں اور آسمانوں پر کمندیں ڈال دیتی ہیں، غیروں کی زبان میں ترقی کے خواب ادھورے ہیں، مغلوبیت و مرعوبیت کو ذہن و دماغ میں منتقل کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ زبان ہے، اور عہدِ جدید میں زبان و ادب اور ناول و افسانہ کو اس کے لیے بہت اچھی طرح استعمال کیا گیا ہے، جس کی ہلکی پھلکی سی تفصیل بھی طوالت کا باعث ہوگی، اس لئے انگریزی کا تذکرہ ایک ضرورت کی طرح ہونا چاہیے، طالب علم کے ہدف کا تعین کر لینے کے بعد یہ طے ہوگا کہ اس کو کون سی زبان سیکھنا ہے اور کس پر زیادہ توجہ دینی ہے اور کس سے صرف واقفیت ضروری ہے۔
آخری بات یہ ہے کہ کتاب کے اصل مخاطب فارغین مدارس ہیں، تو اس پر بھی گفتگو ضرور ہونی چاہیے تھی کہ اچھے مدرس کیسے بنیں، کامیاب داعی کیسے بنیں، اب تو عرب جامعات میں دعوہ فیکلٹی باقاعدہ قائم ہوتی ہیں، حفاظتِ اسلام، اشاعت ِاسلام اور دفاع ِاسلام کے کیا امکانات ہیں اور کیا طریقے اپنائے جا سکتے ہیں، میرا احساس ہے کہ اگر یہ موضوعات بھی اٹھائے جاتے تو مخاطب کے بیک گراؤنڈ کے ساتھ مکمل انصاف ہو جاتا، ورنہ تو مصنف نے مخاطب کے بیک گراؤنڈ سے اور جس نظام کا وہ پروردہ ہے اس سے قطعِ نظر صرف اپنے نقطۂ نظر سے رہنمائی فراہم کی ہے، جب کہ کسی بھی طالب علم کی سب سے زیادہ دلچسپی اس میں ہوتی ہے کہ ہم اپنے ہی میدان میں نیا کیا کر سکتے ہیں، اور یہ اس کے لئے آسان بھی ہوتا ہے، بہرحال کتاب اپنے موضوع پر ایک سنجیدہ کوشش ہے، طلبہ ٔمدارس کے لیے مفید ہے، بہت سے طلبہ اس کے مطالعہ سے اپنی الجھنوں سے چھٹکارا پاسکتے ہیں، صحیح راہِ عمل کا انتخاب کر سکتے ہیں، ارباب مدارس اس کو سامنے رکھ کر ایک اچھا لائحہ عمل طے کر سکتے ہیں اور خود مصنف اس کو ابھی مزید مفید و کارآمد اور مؤثر بنا سکتے ہیں۔
٭٭٭

 

You might also like