Baseerat Online News Portal

ہندوستانی مسلمان ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت ہے، اُسے ہندوستان کی کمزوری مت بنائیے

مولانا محمود مدنی کا اہم مسائل پر انڈیا ٹوڈے کے ساتھ خصوصی انٹرویو

ترتیب وپیشکش: امین الحق عبداللہ کانپور

جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے آج انڈیا ٹوڈے کے خصوصی پروگرام نیوزٹریک پر معروف اینکر راہل کنوَل سے گفتگو کی۔ مولانا نے ہند-افغان تعلقات، دیوبند-طالبان تعلق، اترپردیش انتخابات، فرقہ وارانہ سیاست، مسلم نمائندگی اور صوبائی و مرکزی حکومت کی کارکردگی سے متعلق سوالات پر اپنی رائے کا اظہار کِیا۔

افغانستان میں طالبان کی حکمرانی کے تناظر میں صحافی راہل کنوَل کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے مولانا نے کہا کہ ہندوستان اور افغانستان کے تاریخی اور تمدنی روابط کی ایک قدیم تاریخ رہی ہے، اور مجھے نہیں لگتا کہ کہ کسی کے حکمراں ہو جانے سے اُن روابط کو کوئی نقصان پہنچے گا۔ امریکہ نے افغانستان میں جو ترقیاتی کوششیں کی ہیں وہ تو اچانک کی گئیں، مگر ہندوستان نے تو اپنے قدیم روابط کو ملحوظ رکھتے ہوئے پچھلے 15 برسوں میں کوششیں کی ہیں، اور ہندوستان کو یہ کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔ نیز اگر افغانستان کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا کوئی بھی موقع ہندوستان کو میسر آتا ہے تو وہ موقع ہرگز ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔

حکومتِ ہند کو افغانستان کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے
ہم نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کِیا کہ ہماری اور طالبان کی سوچ الگ ہے

طالبان کے دیوبند کے ساتھ تعلق کے سلسلے میں مولانا نے کہا کہ دیوبند کے اولین صدرالمدرسین مولانا محمود حسن دیوبندی کے شاگردوں نے اُن کے منصوبے کے مطابق افغانستان جیسے مسلم اکثریتی خطّے میں جو حکومت قائم کی، اُس کا سربراہ راجہ مہندر پرتاب سنگھ کو بنایا تھا، اس کے برعکس آج دیوبند کی طرف یہ سوچ منسوب کی جا رہی ہے کہ جو مسلمان نہ ہو اُسے مار کاٹ دیا جائے، اگر یہ سوچ ہوتی تو راجہ مہندر پرتاپ کو اُس حکومت کا سربراہ کیوں بناتے؟ ساتھ یہ بھی باور کرایا جاتا ہے انڈیا میں چونکہ مسلمان مجبور ہیں اِس لیے مار کاٹ نہیں کر رہے ورنہ ان کی سوچ یہی ہے۔ جب کہ انڈیا میں مسلمانوں کا وجود مجبوراً نہیں ہیں، بلکہ ہم نے انڈیا میں رہنے کا فیصلہ کِیا تھا۔ دیوبند کے صدر المدرسین مولانا حسین احمد مدنی نے دو قومی نظریے کو غیر اسلامی قرار دیا اور اُس کے خلاف کتاب لکھی تھی۔

راہل کنوَل کے اِس سوال پر، کہ معروف اسکالر عارف محمد خان دیوبند اور طالبان دونوں کی سوچ ایک بتلاتے ہیں، مولانا کا جواب تھا کہ میں نے کبھی یوں نہیں کہا اور نہ کبھی ہمارے یہاں کسی نے یہ دعویٰ کِیا کہ ہماری اور طالبان کی سوچ الگ ہے۔ ہم کیوں دفاع کریں کہ ہماری سوچ اُن سے الگ ہے؟ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میری اور طالبان کی سوچ الگ ہے، میں آپ سے یہ کہہ رہا ہوں کہ میری اور میرے ملک ہندوستان کی سوچ ایک ہے۔ میں ہندوستانی ہوں، ہندوستان میرا ہے، میرے بزرگوں نے اسے اختیار کِیا ہے، اور ہندوستانی مسلمان ہندوستان کی سب سے بڑی قوت ہے۔ کئی مرتبہ عارف محمد خان صاحب کی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر جاگتے ہوئے کو کون جگا سکتا ہے؟ ہاں ہمارے یہاں یہ تعلیم جاتی ہے کہ جہاد ضروری ہے، اور ہم کبھی اِس کا انکار نہیں کرتے اور نہ کر سکتے ہیں، بریگیڈئر عثمان اور ویر عبدالحمید نے اگر جان دی ہے تو وہ اُن کا جہاد تھا۔

افغانستان میں موجود طالبان کے علاوہ دیگر گروپ مثلاً القاعدہ و داعش وغیرہ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مولانا نے کہا؛ اگر کچھ دیر کے لیے عارف محمد خان کا بیانیہ مان بھی لیا جائے، تب بھی میرا سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ملک کے اندر جو سلوک ہو رہا ہے، اُنہیں سڑکوں پر مارا پیٹا اور قتل کِیا جا رہا ہے، اور ملک کی کم از کم 11 کروڑ کی آبادی کو آپ نے غدار قرار دے دیا ہے، تو آپ یہ ملک کے حق میں اچھا کر رہے ہیں یا برا کر رہے ہیں؟ اگر یہ مان لیا جائے کہ طالبان کے حکومت میں آنے کا یا دیگر گروپوں کی کوششوں کا ہندوستانی مسلمانوں پر کوئی اثر ہو گا، تب بھی سوال یہ ہے کہ یہ اثر زیادہ ہو گا یا لوگوں کو جس طرح مارا پیٹا اور ذلیل کِیا جا رہا ہے اُس کا اثر زیادہ ہو گا؟ مجھے ہندوستانی مسلمانوں کی پوزیشن پر کِیے جانے والے اِس سوال پر ہی اعتراض ہے۔ ہم تو وہ لوگ ہیں کہ ہم نے، جمعیت علمائے ہند کے صدر اور دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین مولانا حسین احمد مدنی نے تو پاکستان بننے کے دو قومی نظریے کی مخالفت اسلامی اصولوں کی بنیاد پر کی تھی۔

راہل کنوَل نے دوبارہ عارف محمد خان کے حوالے سے کہا کہ دیوبند کے کھانے کے دانت جب کہ دِکھانے کے دانت اور ہیں، اس پر مولانا کا کہنا تھا کہ ابھی ماضی قریب ہی کی بات ہے کہ کشمیر کا مسئلہ سامنے تھا، جمعیت علمائے ہند تنہا وہ تنظیم تھی جس نے یہ موقف اختیار کِیا کہ دفعہ 370 کے ہٹائے جانے سے اتفاق نہ کرنے کے باوجود ہم ملک کے ساتھ ہیں۔ اِس وقت تو مسلمان الگ تھلگ کر دیے جانے کے شدید احساس سے گزر رہے ہیں، اور وہ احساسات جس قدر ہمارے جوانوں کے اندر ہیں اُس سے زیادہ میرے اندر ہیں۔

اترپردیش الیکشن میں فرقہ وارانہ بیان بازی سے متعلق سوال پر مولانا نے کہا کہ جو لوگ سب سے زیادہ راشٹرواد اور راشٹرنرمان کی بات کرتے ہیں، وہی لوگ مسائل پر بات کرنے کے بجائے سیاسی فائدے کے لیے سماج کے مختلف فرقوں کو بانٹنے کا کام کرتے ہیں، اگر یہ راشٹر کے ساتھ وِشواس گھات نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے؟ الیکشن تو ترقی کے عنوان پر ہی لڑا جانا چاہیے، مگر چونکہ مسائل پر جواب دہی مشکل ہوتی ہے اور مسلمان کو ہدف بنا لینا آسان ہوتا ہے، لہٰذا لگتا تو یہی ہے کہ الیکشن فرقہ وارانہ تفریق کی بنا پر ہی لڑا جائے گا۔

اترپردیش الیکشن میں اسد الدین اویسی کی مجلس اتحاد المسلمین کی موجودگی سے متعلق سوال پر مولانا نے کہا کہ جمہوریت کے نظام میں ہر کسی کو اپنی پارٹی بنانے کا حق ہے اور اس نظام کا حصہ بننے والی کسی پارٹی کے وجود سے تو اختلاف کِیا ہی نہیں جا سکتا، نیز اگر جمہوری نظام میں رہتے ہوئے کوئی پارٹی کسی ایسے طبقے کی آواز بنتی ہے جس کے اندر دبے کچلے ہونے اور تنہا ہونے کا احساس موجود ہے، تو باوجودیکہ میں ایسی پارٹی سے دیگر وجوہات کی بنا پر متفق نہ رہوں، مگر اس کے کچھ فائدے بھی ہیں، ایسی آواز کو مت دبائیے۔ اِس بنیاد پر جزوی طور پر اختلاف کِیا جا سکتا ہے کہ اس کی وجہ سے بی جے پی کو فائدہ پہنچے گا، اور اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ سماج میں فرقہ وارانہ تفریق پیدا ہو گی، اس سے اویسی صاحب کو احتیاط کرنا چاہیے۔

صوبائی حکومت اور مرکزی حکومت کی کارکردگی سے متعلق سوالات پر مولانا نے کہا کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی ذمے داری ہے کہ سماج کو جوڑ کر رکھیں، اور یہ ذمے داری اویسی کے مقابلے میں یوگی آدتیہ ناتھ کی زیادہ ہے، کیونکہ وہ اکثریتی فرقے سے ہیں اور صوبے کے وزیرِ اعلیٰ ہیں، اور انہوں نے اپنی ذمے داری کو پورا نہیں کِیا۔ جنید کے قتل کو 5 سال گزر گئے، ہریانہ میں بھی اور مرکز میں بھی اُسی پارٹی کی حکومت ہے جس کے وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ اگر مجرموں کا دل نہیں بھرتا تو وہ میرا قتل کر لیں، مگر پچھلے ایک ماہ میں صرف اِسی چھوٹے سے خطے میں 24 واقعات ہو چکے ہیں جن کی مکمل فہرست و ریکارڈ میرے پاس موجود ہے۔ بہت سے اچھے کام کِیے ہوں گے اور کِیے ہیں مگر میں تو اُس زاویے سے ضرور دیکھوں گا جہاں سے مجھے گھٹن محسوس ہوتی ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہندوستانی مسلمان ہندوستان کا سرمایہ ہے، اُسے ہندوستان پر بوجھ مت بنائیے، ہندوستانی مسلمان ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت ہے، اُسے ہندوستان کی کمزوری مت بنائیے۔

 

You might also like