مضامین ومقالات

دودھ میں زہر

ایس اے ساگر
اگر کوئی آپ سے سوال کرے کہ کیا آپ زہریلا ددوھ پیتے ہیں تو آپ کیا جواب دیں گے ؟لیکن اس کا کیا کیجئے کہ دودھ میں ملاوٹ پر مسلسل تشویش کے اظہار کے باوجود یہ حیران کن حقیقت ہے کہ ملک میں اڑسٹھ فیصد دودھ کھانے ریگولیٹری اتھارٹی FSSAIکے معیار پر کھرا ثابت نہیںہوتا۔ اس میں یوریا سے لے کر کاسٹک سوڈا، ڈٹرجنٹ پاؤڈر،نقلی چکنائی اور سفیدپینٹ وغیرہ تمام قسم کے کیمیکلز کی آمیزش ہوتی ہے۔ یہ زہریلے عناصر صحت بخش دودھ کو دیر اثر جان لیوا زہر میں تبدیل کرکے اسے مختلف سنگین بیماریوں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ غنیمت ہے کہ بدھ کے لوک سبھا میں روزمرکزی سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر ہرش وردھن نے دودھ میں خوفناک ملاوٹ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے روکنے کی ایک نئی ٹیکنالوجی کے فروغ کا دعوی کیا ہے جبکہ ایسی ٹیکنالوجی فی الحال کسی دوسرے ملک میں میسر نہیں ہے۔
ٹیسٹنگ میں لاپروائی:
عجیب بات یہ ہے کہ ملاوٹ کی معمولی مقدار بھی تسلیم کرنے کے قابل اس انتہائی سستی ٹیکنالوجی سے محض چالیس پینتالیس سیکنڈ میں دودھ کے نمونے کی جانچ ہو جاتی ہے اور اس میں خرچ بھی صرف پانچ سے دس پیسے آتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا محض کسی ٹیکنالوجی کے بھروسے پر بھارت جیسے وسیع ملک میں بڑے پیمانے پر دودھ میں ہونے والی ملاوٹ کو روکا جا سکتا ہے؟ اب تک اس ملاوٹ کی شناخت کیلئے کیمیائی عمل اپنایا جاتاتھااور اسی مرحلہ سے گزر کر دودھ پلانٹس اور کوآپریٹیو کا دودھ گاہکوں تک پہنچتا رہا ہے۔ پھر بھی اگر ملک میں فروخت ہونے والا اڑسٹھ فیصد دودھ ملاوٹی ہے تو کیا یہ انتہائی تشویش اور دودھ کی درستی کو یقینی بنانے کے اقدامات پر نظر ثانی کا موضوع نہیں ہونا چاہئے؟
لالچ کا نتیجہ:
بہر حال، حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کو اپنے پارلیمانی علاقے میں رہنما فنڈ سے دودھ ملاوٹ پہچاننے کی یہ نئی ٹیکنالوجی پہنچانے کا مشورہ دیا ہے اور ساتھ ہی GPS کی بنیاد پر ایک دوسرے ٹیکنالوجی تیار کرنے کی بات کہی ہے جس سے پتہ چل سکے کہ سپلائی کے دوران کس جگہ دودھ میں ملاوٹ کی گئی۔ لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ دودھ کی ملاوٹ بنیادی طور پر اس دھندے میں انسانی لالچ کی ملاوٹ سے بھی وابستہ مسئلہ ہے۔ ہر ٹیکنالوجی کی حدود ہوتی ہیں اور یہ حدود ملاوٹ کرنے والوں کے لالچ پر لگام لگا پائیں گی، اس میں شک ہے۔ اس مددینجر ہمیں اس بھیانک مسئلہ کو مجموعی طور پر دیکھ کر دودھ کی پیداوار سے لے کر اس گاہکوں تک پہنچانے کی پوری نظام کی سخت نگرانی کا نظام تیار کرنا ہوگا۔
موثر طریقہ کار کا فقدان:
یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ بھارت دنیا کا سب سے بڑا دودھ پیداواری ملک ہے اور یہاں روزانہ دو لاکھ دیہات سے دودھ جمع کیا جاتا ہے۔ ہماری دیہی معیشت کو مضبوط کرنے میں ڈیری صنعت کی اہم کردار ہے۔ اتنے بڑے اور اہم دودھ کے کاروبار کے باوجود دودھ کے معیار پر نگرانی کیلئے موثر طریقہ کار کی ملک میں تقریبا فقدان ہے۔اس سمت میں اپنی قسم کی پہلی کوشش کھانے تحفظ اور معیاری اتھارٹی نے 2011 میں ملک کے اٹھائیس ریاستوں اور پانچ مرکزکے زیر انتظام علاقوں میں دودھ کے معیار جانچنے کیلئے تھا، جس میں ستر فیصد نمونے معیار پر کھرے نہیں اترے تھے۔ اس سروے کے نتائج پر تھوڑی بہت فکر جتانے کے بعد دودھ کی صنعت کو پھر ملاوٹ کرنے والوں کے بھروسے چھوڑ دیا گیا۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ ہندوستان سب سے زیادہ سبز آبادی والا ملک بھی ہے اور یہ بہت بڑا آبادی کیلئے دودھ اور دودھ کی مصنوعات ہی پروٹین کے اہم ذریعہ ہیں۔ اگر ان ذرائع سے پروٹین کی بجائے زہریلا کیمیکل ملیں گے تو کیا ہم کبھی صحت مند ہندوستان کا خواب شرمندہ تعبیر کر پائیں گے؟
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker