Baseerat Online News Portal

ہسپانوی فلو اور دوسری جنگ عظیم میں بچ جانے والی خاتون کورونا سے ہلاک

آن لائن نیوزڈیسک
ہسپانوی فلو اور دوسری جنگ عظیم میں بچ جانے والی جنگجو طبیعت کی مالک خاتون کورونا سے انتقال کر گئیں۔
105 سالہ پریمٹا گیاکوپینی کی بیٹی نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ان کی والدہ مزید کچھ عرصہ زندہ رہ سکتی تھیں اگر کورونا کا شکار نہ ہوتیں۔
ایک صدی سے زائد عرصے تک زندہ رہنے والی پریمٹا گیاکوپینی کو دوسری جنگ عظیم کے فائٹر پائلٹ کے ساتھ محبت ہوئی۔ اٹلی فاشسٹ حکمران مسولینی کی یلغار سے مشکل سے بچتے ہوئے یورپ سے فرار ہوئیں، اور مشکل ترین دور میں اپنی معذور بیٹی کے حق میں آواز اٹھائی۔
پریمٹا گیاکوپینی کی بیٹی ڈورین گیاکوپینی کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ ہار نہیں مانتی تھیں، وہ جنگجو طبیعت کی مالک تھیں۔
پریمٹا گیاکوپینی خود تو 1918 کے ہسپانوی فلو سے بچ گئی تھیں لیکن ان کی والدہ 25 سال کی عمر میں وبا کے باعث ہلاک ہو گئی تھیں۔ پریمٹاکی عمر دو سال تھی جب ان کی والدہ کا انتقال ہوا وہ امریکی ریاست کنیکٹیکٹ میں رہتی تھیں۔ فلو کی وبا سے چھ لاکھ 75 ہزار امریکی ہلاک ہوئے تھے۔
پریمٹا کے والد مزدوری کرتے تھے جو اکیلے اپنی دو بیٹیوں کو پالنے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے لہٰذا انہوں نے پریمٹا اور چھوٹی بہن ایلس کو آبائی ملک اٹلی بھجوا دیا تھا۔
پریمٹا نے لوگوں کے کپڑے سلائی کر کے اپنا گزارا چلایا۔ سرخ بالوں، کالی آنکھوں اور تھیکے نقش والی پریمٹا کو اٹلی کے فائٹر پائلٹ سے محبت ہو گئی۔
جون 1940 میں جب اٹلی بھی جنگ عظیم دوم میں شامل ہوا، تو مقامی پولیس نے پریمٹا کو خبردار کیا کہ وہ ملک بدر ہو جائیں کیونکہ مسولینی نہیں چاہتے کہ امریکی شہری ملک میں رہیں۔ لیکن پریمٹا نے ملک چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ کئی ہفتے گزرنے کے بعد بھی پولیس نے انہیں متنبہ کیا کہ انہیں حراستی کیمپ بھجوایا جا سکتا ہے۔
جون 1941 میں پریمٹاکے شوہر جنگی طیارہ تباہ ہونے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ لیکن پریمٹاکو اس حقیقت کا بعد میں معلوم ہوا تھا۔ اس سے قبل کئی عرصے تک ان کے شوہر لاپتا تھے، اس دوران وہ دیگر افراد کے ہمراہ ٹرین پر اٹلی سے پرتگال چلی گئیں جہاں سے وہ امریکہ جانے والے جہاز پر روانہ ہوئیں۔
امریکی ریاست کنیکٹیکٹ میں انہوں نے جنرل موٹرز کے پلانٹ میں کام کرنا شروع کر دیا، وہیں پر ان کی اپنے ہونے والے شہر سے بھی ملاقات ہوئی۔
پریمٹاکی بیٹی ڈورین 1960 پیدا ہوئیں تو وہ بھی معذور تھیں۔ یہ وہ دور تھا جب معذور افراد کی جانب متعصبانہ رویہ اپنایا جاتا تھا۔ لیکن پریمٹانے اپنی بیٹی کے حقوق کی جنگ کبھی ترک نہیں کی۔
ڈورین نے بتایا کہ رواں سال 9 ستمبر کو ان کی والدہ کو کھانسی شروع ہوئی جس پر انہیں شک ہوا کہ شاید وہ کورونا سے متاثر ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ کو کورونا ویکسین لگی ہوئی تھی لیکن دو دن بعد ہی انہیں آکسیجن کی کمی محسوس ہوئی اور انہیں وینٹیلیٹر پر ڈال دیا گیا۔
ڈورین نے بتایا کہ 16 ستمبر کو ان کی والدہ 105 سال کی عمر میں وفات کر گئیں۔

You might also like