Baseerat Online News Portal

مناظر اسلام مولانا سید محمد اسماعیل کٹکی قاسمی رحمہ اللّٰہ: حیات و خدمات

 

 

محمد روح الامین مَیُور بھنجی

 

مناظرِ اسلام، علامہ و مولانا سید محمد اسماعیل کٹکی قاسمی رحمۃ اللہ علیہ سرزمین اوڈیشا (اڑیسہ) کی وہ شخصیت تھی، جن کے اہل اوڈیشا پر دینی و ایمانی احسانات ہیں، جنھوں نے اوڈیشا سے فتنۂ قادیانیت کی جڑیں اکھیڑ کر رکھ دیں؛ یہاں تک کہ برطانیہ میں بیٹھے مرزائے کاذب کے جانشینوں کو ہلا کر ڈرا کر رکھ دیا، آپ صوبہ اڑیسہ (موجودہ نام: اوڈیشا) کے پہلے فاضلِ دار العلوم دیوبند تھے۔ ان پر بہت کم لوگوں نے کچھ لکھا ہے، ان کی وفات پر ادیب بے مثال، مشہور سوانح نگار مولانا نور عالم خلیل امینی رحمہ اللہ نے 2005ء میں مجلہ "الداعی” کے ایک شماره میں سوانحی مقالہ لکھا تھا۔ شیخ الہندؒ اکیڈمی، دار العلوم دیوبند سے شائع کردہ مولانا کٹکی موصوف کی کتاب "ذرا غور کریں” میں؛ امیر الہند رابع مولانا قاری سید عثمان منصور پوری رحمہ اللہ نے بہ طورِ حالاتِ مصنف حضرت مولانا کٹکی موصوف و مرحوم پر لکھا ہے ۔ "عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان، پاکستان” سے شائع ہونے والی کتاب "احتساب قادیانیت” جلد نمبر 40 میں حضرت مولانا موصوف کی تین کتابیں شائع کرتے ہوئے مشہور پاکستانی عالم مولانا محمد اللّٰہ وسایا صاحب نے مولانا موصوف کا کچھ سوانحی خاکہ پیش کرتے ہوئے ان کا مزید تذکرہ کیا ہے۔ ان مختلف جگہوں پر بکھری ہوئی باتوں کو یکجا کرتے ہوئے اور اس پر مزید باتوں کے اضافہ کے ساتھ بندہ مولانا موصوف و مرحوم پر کچھ قلم فرسائی کرتے ہوئے اپنی انگلیوں کو جنبش دے رہا ہے ۔

 

ولادت

مولانا موصوف سن 1914 عیسوی کو قصبۂ سادات "سونگڑہ”، ضلع کٹک اوڈیشا میں پیدا ہوئے۔

 

تعلیم و تربیت

آپ کی ابتدائی تعلیم اپنے وطن مالوف ہی میں اپنی پھوپھی "سیدن بی بی” کے پاس ہوئی۔ آگے کی تعلیم کے لیے آپ مدرسہ قاسمیہ شاہی مرادآباد پہنچے اور وہاں کے جبالِ علم اساتذہ سے اکتسابِ علم کیا، جن میں سے کچھ اساتذہ کے نام یہ ہیں: مؤرخ اسلام مولانا سید محمد میاں دیوبندی ثم دہلوی، مولانا محمد اسماعیل سنبھلی، مولانا عبد الحق مدنی اور مولانا قدرت اللّٰہ قدرت رحمہم اللّٰہ۔ مراد آباد کے زمانۂ طالب علمی ہی کا ایک واقعہ ہے (جو بندہ نے سفیرِ دار العلوم دیوبند برائے اوڈیشا مولانا محمد ذبیح اللّٰہ قاسمی سے سنا تھا، وہ یہ ہے) کہ مولانا موصوف و مرحوم کو خواب میں امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ کی زیارت ہوئی؛ لیکن خواب میں انھیں امام اعظم؛ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شکل میں نظر آئے، اس کے بعد ہی اتفاقاً شیخ الاسلام مراد آباد تشریف لائے تو مولانا موصوف نے خواب میں دیکھا ہوا امام اعظم کا چہرہ بالکل حضرت شیخ الاسلام کے مماثل پایا، تبھی سے مولانا کٹکی مرحوم کو شیخ الاسلام سے والہانہ عقیدت و محبت ہوگئی۔ اس کے بعد آپ دار العلوم دیوبند تشریف لے گئے اور وہاں داخلہ ہوگیا اور آپ نے اس وقت کے جبالِ علم اور متبحر اساتذہ سے تحصیل علم کے منازل طے کیے، ان اساتذہ کے اسمائے گرامی یہ ہیں: شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، علامہ محمد ابرہیم بلیاوی، حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحب، مولانا رسول خان ہزاروی، مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع دیوبندی، مولانا سید اصغر حسین دیوبندی، شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہوی، مولانا محمد مرتضی حسن چاندپوری، مولانا نبی حسن صاحب اور مولانا عبد السمیع صاحب رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہم اجمعین۔

 

فراغت

1353ھ بہ مطابق 1934ء میں آپ کی دار العلوم دیوبند میں دورۂ حدیث سے فراغت ہوئی (جیساکہ حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب رحمہ اللّٰہ نے لکھا ہے، نیز "دار العلوم ڈائری- 2015ء” میں ادارۂ پیغامِ محمود دیوبند والے مولانا محمد طیب قاسمی ہردوئی نے دار العلوم دیوبند سے تحقیق کرکے تلامذۂ شیخ الاسلام کی فہرست شائع کی تھی، اس میں بھی یہی مذکور ہے)۔

 

بہ حیثیت مناظر

دار العلوم دیوبند سے فراغت کے بعد مزید چھ ماہ آپ نے عظیم مناظر حضرت مولانا مرتضی حسن چاندپوری کے پاس رہ کر مناظرہ پر مشق و تمرین کیا اور ان سے مناظرہ کے اصول و طرق سیکھے، زمانۂ طالب علمی ہی میں آپ ایک کامیاب مناظر بن چکے تھے اور اسی زمانہ میں "کالی چرن” اور "رام چندر” جیسے آریہ سماج پنڈتوں کو لاجواب اور مبہوت کیا تھا اور دیوبند شوگر میل کے ایک رافضی مینیجر کو بحث و مناظرہ کے ذریعہ دولت اسلام سے مالا مال کیا تھا، جس نے مناظرہ کے بعد قاری محمد طیب قاسمی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا تھا۔ قادیانیوں کے مشہور مناظرین مفتی صادق، سرور شاہ، محمد حنیف کشمیری، غلام احمد مجاہد اور محمد سلیم وغیرہ کو بار بار عبرت ناک شکست دی۔

 

زمانۂ طالب علمی کا ایک خواب

زمانۂ طالب علمی میں مولانا موصوف و مرحوم نے خواب میں دیکھا کہ دار العلوم دیوبند کے پاس مرزا غلام احمد قادیانی اوندھے منہ پڑا ہوا ہے اور حضرت مولانا اس پر تھوک رہے ہیں، یہ خواب بیان کیا تو حضرت شیخ الاسلام نے فرمایا تھا کہ "تم سے اللّٰہ رد قادیانیت پر کام لے گا”، چناں چہ ایسا ہی ہوا (یہ آپ کے شاگرد رشید امیر شریعت ثانی اوڈیشا مولانا سید محمد سراج الساجدین کٹکی قاسمی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اپنی تقریر میں بیان فرمایا تھا، جو بشکل آڈیو آج بھی محفوظ ہے۔ یوٹیوب پر بھی دستیاب ہے۔)

 

میدان عمل میں

آپ شیخ الاسلام حضرت مدنی کے خاص شاگرد تھے، فراغت کے بعد آپ نے کچھ سال کوراپوٹ، اوڈیشا کے ایک اسکول میں ملازمت اختیار کر لی تھی۔ پھر حضرت شیخ الاسلام کے حکم پر رد قادیانیت میں لگ گئے، آپ قادیانی طالب علم بن کر "قادیان” گئے تھے اور وہاں ان کی کتابوں کو کھنگالتے رہے؛ بالآخر کسی طرح قادیانیوں کو حقیقت حال کا علم ہوگیا اور آپ جان بچا کر اور بہت سی قادیانی کتب خرید کر اور کسی طرح حاصل کرکے واپس آگئے (جو بندہ نے سفیرِ دار العلوم دیوبند برائے اوڈیشا مولانا محمد ذبیح اللّٰہ قاسمی سے سنا تھا)۔ پھر آپ رد قادیانیت اور تحفظ ختم نبوت میں لگ گئے، 1946ء میں آپ حضرت شیخ الاسلام کے ایما پر انجمن "تبلیغ الاسلام” سے منسلک ہوکر سرگرم عمل ہوئے، یہ انجمن 1945ء میں سونگڑہ کے اہلِ فکر حضرات نے قائم کی تھی اور فراغت کے بعد سے لے کر نوے کی دہائی تک آپ نے بے شمار مناظرے کیے، جس میں اصل معنوں میں 20- 25 مناظرے ہوئے، آٹھ سو سے زائد افراد آپ کے ہاتھ پر مشرف با اسلام ہوئے اور آپ کی وعظ و تقریر اور اظہارِ حق و ابطالِ باطل سے لاتعداد مسلمانوں کا ایمان مضبوط و مستحکم ہوا۔ آپ نے کئی مناظرے کیے، ان میں کچھ مناظرے قابل ذکر ہیں:

(1) سب سے پہلا مناظرہ سات بٹیہ، ضلع کٹک میں ہوا تھا (یہ بات حضرت مولانا محمد علی کٹکی نے بیان فرمائی)

(2) مناظرہ یادگیر؛ جو نومبر 1963ء میں بمقام ’’یادگیر‘‘ صوبہ میسور آپ کا قادیانیوں سے مناظرہ ہوا تھا، ساتھ میں امیر شریعت ثانی اوڈیشا مولانا سید محمد سراج الساجدین کٹکی قاسمی رحمۃ اللّٰہ علیہ بھی ہمراہ تھے اور انھوں نے بھی غیر معمولی معاونت کی تھی، اس مناظرہ کی رپورٹ "یادگارِ یادگیر” کے نام سے چھپی بھی تھی اور 2011ء میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان، پاکستان سے شائع ہونے والی کتاب "احتساب قادیانیت” جلد نمبر 40 میں مولانا موصوف کی یہ کتاب مزید دو کتابوں کے ساتھ شائع کی گئی تھی، جو اب انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہے ۔ ایک مناظرہ غالباً 1988ء میں "کتہ گوڑم” (کوتھاگودیم) تلنگانہ میں ہوا تھا ۔ (یہ بات مولانا محمد علی کٹکی نے بیان فرمائی)۔ 1958ء میں ہونے والا مناظرہ بمقام بھدرک بھی یادگار مناظرہ تھا، جس میں مشہور بریلوی عالم مجاہدِ ملت مولانا حبیب الرحمن کی دعوت پر اہل سنت و الجماعت کی طرف سے بہ حیثیت مناظر مولانا اسماعیل مرحوم و موصوف تشریف لے گئے تھے، ساتھ حضرت مولانا احمد النبی صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ بھی ہمراہ تھے۔ فریق مخالف کی طرف سے مولانا شریف احمد امینی تھے، جس میں قادیانیوں کو شکست فاش ہوئی تھی۔ آپ کے ساتھ مناظروں میں اکثر مولانا احمد النبی صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ ہم راہ ہوا کرتے تھے۔

 

رد بریلویت پر آپ کی خدمات

آپ نے ساتھ ہی رد بریلویت پر بھی اوڈیشا میں کام کیا، بالخصوص آپ نے اپنے شاگرد رشید مولانا سید محمد سراج الساجدین کٹکی قاسمی رحمۃ اللّٰہ علیہ اور دیگر علماء سے اس سلسلہ میں کام لیا، اس سلسلہ میں کئی مناظرے ہوئے، جن میں "بارہ بٹی اسٹڈیم، کٹک” میں ہونے والا مناظرہ غالباً سن 1979ء میں ہوا تھا (یہ بات مولانا محمد علی کٹکی نے بیان فرمائی)، فریق مخالف کی طرف سے صدر مجاہدِ ملت مولانا حبیب الرحمن تھے اور ان کی طرف سے مشہور زمانہ بریلوی عالم مولانا ارشد القادری بھی مدعو اور شریکِ مناظرہ تھے اور فریق مخالف کو بری طرح سے شکست بھی ہوئی تھی۔

 

سیاسی پارٹی اور تحریک آزادی

مولانا سید علی اشرف قاسمی مد ظلہ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے مولانا مرحوم نے فرمایا تھا: "میرا تعلق شروع سے لے کر اب تک کانگریس سے رہا ہے اور کانگریس ہی سے رہے گا، میں نے تازندگی کھدر پہنا اور پہنتا رہوں گا۔ میں کانگریس کی ہزار خرابیوں کے باوجود؛ دوسری پارٹیوں سے بہتر اور اچھا سمجھتا ہوں۔ سن 1947ء تک تو میری اسکولی زندگی رہی (آپ اس وقت اسکول ٹیچر تھے)، جنگ آزادی کے لیے انڈر گراؤنڈ کام کرتا رہا، اکثر خفیہ امور مجھ سے متعلق رہے اور میں بڑی احتیاط سے اسے انجام دیتا رہا، جس کی وجہ سے ہمیشہ گرفتاری سے محفوظ رہا۔” (یہ انٹرویو آئینۂ دار العلوم کے 28 صفر 1417ھ بہ مطابق 15 جولائی 1996ء کے شمارہ میں چھپا تھا، انٹرویو مولانا سید علی اشرف کٹکی قاسمی، استاذ جامعہ مرکز العلوم سونگڑہ، کٹک نے لیا تھا)

 

جامعہ مرکز العلوم کا قیام

سرزمین سونگڑہ میں سن 1936ء ہی میں ایک مدرسہ کی بنیاد وہاں کے صلحا نے خام تعمیر کی شکل میں رکھی تھی جو بعد میں ختم ہوگیا، جاری نہ رہ سکا اور اس سے قبل ہی مختلف مواقع پر شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، مفتی اعظم مفتی کفایت اللّٰہ دہلوی، سحبان الہند مولانا احمد سعید دہلوی، بانی تبلیغی جماعت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہم اللّٰہ اور دیگر اکابرین اس سرزمین پر تشریف لا چکے تھے۔ 1945ء میں اہلِ فکر حضرات نے رد قادیانیت پر انجمن تبلیغ الاسلام قائم کی تھی، 1946 ہی سے مولانا موصوف و مرحوم کو اس انجمن سے منسلک کیا گیا اور انھیں کے انتظام میں سن 1946ء میں باقاعدہ جامعہ مرکز العلوم کی داغ بیل ڈالی گئی اور وہ چلتا رہا اور اب بھی الحمد للہ جاری ہے (یہ بات مولانا محمد زعیم الاسلام صاحب قاسمی سے معلوم ہوئی) اور روز اول سے حضرت شیخ الاسلام اس مدرسہ کے سرپرست رہے، پھر تا وفات فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی رحمۃ اللّٰہ علیہ اس کے سرپرست رہے۔ موجودہ سرپرست مولانا سید ارشد مدنی صاحب ہیں۔ اس مدرسہ کی بنیاد ہی رد قادیانیت پر رکھی گئی تھی۔

 

بعض تنظیموں یا مجلسوں کی صدارت یا رکنیت

 

سن 1936ء میں”صوبجات بہار و اڑیسہ” سے الگ ہوکر "صوبہ اڑیسہ” الگ ہوگیا تھا، دونوں صوبوں کے سارے سرکاری دفاتر الگ الگ ہوگئے تھے، اسی کے پیش نظر 1964ء میں حضرت مولانا اسماعیل مرحوم کو "امارت شرعیہ اڑیسہ” کا امیر مقرر کیا گیا تھا، پھر اس کے بعد امیر الہند اول مولانا حبیب الرحمن صاحب محدث اعظمی امارت شرعیہ ہند کی طرف سے اوڈیشا دورہ پر تشریف لائے تھے اور انھوں نے مولانا اسماعیل مرحوم کی امارت کی توثیق بھی کی تھی اور اس کی بقا کا اعلان بھی کیا تھا۔ جب مولانا مرحوم کی صدارت میں مستقل امارت شرعیہ اڑیسہ کا قیام عمل میں آیا تو امیر شریعت بہار مولانا منت اللّٰہ رحمانی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے مولانا اسماعیل کٹکی کے "واجب القتل” ہونے کا فتوی دیا تھا، جس کا دفاع سابق ممبر پارلیمنٹ مولانا محمد اسرار الحق قاسمی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے مدلل جواب لکھ کر دیا تھا۔ 1964ء سے وفات تک یعنی 2005ء تک آپ امیر شریعت اڑیسہ رہے۔ آپ جمعیت علمائے اڑیسہ (2010ء سے پہلے تک اوڈیشا کا نام اڑیسہ تھا۔) کے صدر بھی رہے اور آپ کی وفات تک آپ کے شاگرد رشید مولانا سید محمد سراج الساجدین کٹکی قاسمی رحمۃ اللّٰہ علیہ نائب امیرِ شریعت و نائب صدر جمعیت رہے پھر استاذِ محترم کی وفات کے بعد دونوں پلیٹ فارم کے صدر بھی بنائے گئے۔ 1984ء میں جب "جنرل ضیاء الحق شہید” نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا اور اس کے نتیجہ میں مرزا طاہر بھاگ کر برطانیہ میں پناہ گزیں ہوا اور قادیانیوں نے دوبارہ اپنی سرگرمیوں کا رخ ہندوستان کی طرف پھیر لیا تو اسی تناظر میں فدائے ملت رحمہ اللّٰہ نے مسلمانوں میں اس سلسلہ میں بیداری و معاملہ کی گہرائی کا احساس پیدا کرنے کے لیے 29 تا 30 اکتوبر 1986ء دار العلوم دیوبند میں سہ روزہ اجلاس کیا، اسی اجلاس کے موقع پر "کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت” کا قیام عمل میں آیا، جس کا صدر؛ مہتمم دار العلوم دیوبند مولانا مرغوب الرحمن صاحب رحمہ اللّٰہ، نائب صدر مولانا اسماعیل کٹکی مرحوم، ناظم اعلی؛ مفتی سعید احمد پالن پوری رحمہ اللّٰہ اور ناظم؛ امیر الہند رابع قاری محمد عثمان منصور پوری رحمہ اللّٰہ کو بنایا گیا تھا، ملک بھر کی مؤقر شخصیات پر مشتمل 23 حضرات کی "مجلسِ عاملہ” تشکیل دی گئی۔ اس کے بعد فتنۂ قادیانیت کی سرکوبی کی تربیت و ٹریننگ کے لیے سن 1988ء میں جو سب سے پہلا دس روزہ تربیتی کیمپ دار العلوم دیوبند میں لگا تھا، وہ مولانا موصوف کی زیر سرپرستی منعقد ہوا تھا۔ اس کے بعد بھی کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کی زیر نگرانی ملک بھر میں رد قادیانیت پر تربیتی کیمپ اور کانفرنسیں منعقد ہوئیں تو بہت سے مقامات پر حضرت مرحوم نے شرکت فرما کر رد قادیانیت کے خاص گر سکھائے۔ سن 1992ء سے تاوفات آپ مجلس شورٰی دار العلوم دیوبند کے رکن بھی رہے۔ (دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ -2020 ایڈیشن از ڈاکٹر مولانا محمد اللّٰہ قاسمی، مطبوعہ: شیخ الہندؒ اکیڈمی، دار العلوم دیوبند، صفحہ: 322،323،758 اور ذرا غور کریں میں عرضِ ناشر: سابق ناظمِ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا قاری سید عثمان منصور پوری رحمہ اللّٰہ)

 

تلامذہ

آپ کے تربیت یافتہ تلامذہ میں امیر شریعت ثانی اوڈیشا مولانا سید محمد سراج الساجدین کٹکی قاسمی رحمۃ اللّٰہ (مولانا مرحوم کو اپنے تلامذہ میں سب سے زیادہ انھیں پر اعتماد تھا، جیساکہ مولانا سید اشرف علی کٹکی قاسمی کے لیے ہوئے انٹرویو میں مذکور ہے) اور امیر شریعت ثالث مولانا محمد جلال الدین کٹکی قاسمی رحمۃ اللّٰہ علیہ اور مولانا عبد الحفیظ کٹکی قاسمی قابلِ ذکر ہیں۔

 

تصانیف

تلاش بسیار کے بعد بھی آپ کی پانچ تصانیف کا علم ہوا: (1) یادگارِ یادگیر، (2) قادیانی اسلام،(3) ذرا غور کریں (اور 2011ء میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان، پاکستان سے شائع ہونے والی کتاب "احتساب قادیانیت” جلد نمبر 40 میں مولانا موصوف کی مذکورۂ بالا تینوں کتابیں بھی شامل کرکے شائع کی گئیں تھیں، جو اب انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہے) (4) قادیانی قرآن، (5) اڈیہ زبان میں "قادیانی کاہیں کی مسلمان ناہانتی؟” یعنی قادیانی کیوں مسلمان نہیں ہے؟ ۔ ان کے علاوہ کسی تصنیف کا نام بھی نہ مل سکا۔

 

وفات

10-11 محرم 1426ھ بہ مطابق 20-21 فروری 2005ء مولانا موصوف 91 یا 92 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ جب تک اوڈیشا میں صحیح العقیدہ لوگ رہیں گے تب تک لوگ مولانا موصوف و مرحوم کے احسان مند رہیں گے۔

 

اللّٰہ تعالٰی مولانا کی مغفرت فرما کر جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور بعد کے لوگوں میں بھی ان سا جذبۂ دینی حمیت پیدا فرمائے۔ آمین

 

"مضمون نگار دار العلوم دیوبند کا طالب علم ہےـ”

You might also like