Baseerat Online News Portal

سعودی عرب:10 اکتوبر کے بعد توکلنا کے سٹیٹس میں کیا تبدیلیاں ہوں گی؟

آن لائن نیوزڈیسک
سعودی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العالی نے کہا ہے کہ دس اکتوبر 2021 سے صرف وہی لوگ ’محصن‘ (وائرس سے محفوظ) مانے جائیں گے جو کورونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لے چکے ہوں گے۔
توکلنا اور دیگر ایپس میں محصن صرف ایسے افراد کے لیے تحریر ہوگا جو دونوں خوراکیں حاصل کر چکے ہوں گے۔
اخبار 24 کے مطابق ڈاکٹر العبدالعالی نے بتایا کہ دس اکتوبر سے صحت حالت کا ریکارڈ اپ ڈیٹ ہوگا۔ توکلنا میں محصن کا لفظ صرف ان لوگوں کے لیے استعمال ہوگا جو فائزر، ایسٹرزینکا یا موڈرنا ویکسینوں کی دونوں خوراکیں لے چکے ہوں گے۔ دوسری خوراک کی تاریخ ہی سے متعلقہ شخص کو محصن مانا جائے گا۔
وزارت صحت کے ترجمان نے کہا کہ جانسن اینڈ جانسن کی ایک خوراک لینے والے کو بھی محصن مانا جائے گا۔ جانسن ویکسین کی پہلی خوراک لینے کے 14 روز بعد توکلنا ایپ میں ریکارڈ پر آئے گی۔
وزارت صحت کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی منظور شدہ ویکسینوں میں سے کسی ایک ویکسین کی دو خوراکیں لینے والے کو بھی توکلنا ایپ میں ’محصن‘ ظاہر کیا جائے گا۔
فی الوقت عالمی ادارہ صحت سینو فارم اور سینووک کی منظوری دیے ہوئے ہے۔ اس کی شرط یہ ہوگی کہ دونوں ویکسینوں میں سے کسی ایک ویکسین کی دونوں خوراکیں لینے کے بعد مملکت میں منظور کردہ ویکسینوں فائزر، ایسٹرازینکا یا موڈرنا میں سے کسی ایک کا بوسٹر بھی لگواچکا ہو۔
وزارت کے مطابق اس کا اعتبار مملکت منظور شدہ ویکسینوں میں سے کسی ایک سے بوسٹر لگوانے کی تاریخ سے شروع ہوگا۔
وزارت صحت نے مزید کہا کہ دس اکتوبر سے توکلنا ایپ میں ایسے کسی بھی شخص کا محصن سٹیٹس نہیں دکھایا جائے گا جس نے ایک خوراک لی ہوگی اور خوراک لینے سے قبل یا بعد وائرس سے صحت یاب ہوگیا ہو۔
وزارت صحت نے کہا کہ اگر کورونا وائرس سے صحت یابی کے نوے روز بعد تک دوسری خوراک نہ لی تو ایسی صورت میں توکلنا ایپ میں اس کا ریکارڈ بدل جائے گا۔ اس کے بارے میں تحریر ہوگا کہ وائرس سے متاثر ہونا ثابت نہیں ہوا۔ اگر دوسری خوراک لے لی تو ایسی صورت میں اس کا ریکارڈ محصن شو کردیا جائے گا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں ویکسین کی 42 ملین سے زیادہ خوراکیں دی جاچکی ہیں۔ ان میں سے 18.8 ملین افراد ویکسین کی دونوں خوراکیں لے چکے ہیں۔
مملکت کے تین علاقے ریاض، باحہ اور الشرقیہ ایسے ہیں جہاں ویکسین لگوانے والوں کی شرح 65 فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے۔

You might also like