Baseerat Online News Portal

افغانستان کی شیعہ مسجد میں کے دھماکہ ۱۰۰جاں بحق  نماز جمعہ کے موقع پر سانحہ ، ۲۰۰ سو سے زائد زخمی، داعش پر شک ،شیعہ سنی اتحاد ہر قیمت پر برقرار رہے گا: طالبان

 

قندوز۔۸؍ اکتوبر:بی این ایس

افغانستان کے صوبے قندوز کے سید آباد علاقے میں ایک شیعہ مسجد پر بم حملے میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ یہ حملہ نماز جمعہ کے دوران کیا گیایہ کہتے ہوئے کہ حملے میں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں ، مجاہد نے کہا کہ طالبان فورسز علاقے میں پہنچ گئی ہیں اور حملے کے حوالے سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔مقامی حکام کے مطابق اس حملے میں ایک سو سے زائد ہلاک اور سینکڑوں  زخمی ہوئے ہیں۔کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ، جسے عینی شاہدین نے خودکش حملہ قرار دیا۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دھماکا قندوز کے علاقےسید آباد کی مسجد میں ہوا اور دھماکے کے وقت عوام کی بڑی تعداد مسجد میں موجود تھی۔مقامی میڈیا کے مطابق دھماکا خودکش تھا۔ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ مطیع اللہ روحانی نے دھماکے کی تصدیق کی ہے اور متعدد ہلاکتوں کا بتایا ہے۔ انہوں نے بھی تصدیق کی کہ دھماکا خود کش تھا۔اس کے علاوہ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی دھماکے کی تصدیق کی ہے تاہم انہوں نے بھی ہلاکتوں کی تعداد بتانے سے گریز کیا۔اے ایف پی نے اسپتال ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کم سے کم ۵۰ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ قندوز کے سینٹرل اسپتال کے ایک ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کے پاس 35 لاشیں اور 50 زخمی لائے گئے۔اس کے علاوہ ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے زیر انتظام چلنے والے ایک اسپتال میں 15 لاشیں لائی گئیں۔اس کے علاوہ ترک خبر رساں ایجنسی انادولو نے افغانستان کے مقامی ریڈیو کے حوالے سے کہا ہے کہ دھماکے میں ۱۰۰کے قریب افراد ہلاک اور ۲۰۰سے زائد زخمی ہوئے ہیں جبکہ دھماکہ نماز جمعہ کے دوران ہوا۔ سرکاری سطح پر ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کے حوالے سے کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں جبکہ دھماکے کی ذمہ داری بھی اب تک کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد داعش مسلسل دھماکے کررہی ہے۔ادھر طالبان اطلاع رسانی کے ڈائریکٹر مولوی نعیم الحق نے شیعہ سنی اتحاد کے تعلق سے کہا ہے کہ اس وقت ہمارے شیعہ اور سنی بھائی مکمل امن و امان کے دائرے میں ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور یہ ہمارے دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔انہوں نے کہا کہ مجاہدین نے بہت کم وسائل کے ساتھ 20 سال تک امریکہ کا مقابلہ کیا اور عوامی تعاون سے ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔مولوی نعیم الحق حقانی نے کہا کہ افغانستان کے عوام گزشتہ 4 عشروں سے امن و امان کیلئے ترس گئے تھے اور اب  وہ امن و امان کی اہمیت کو سمجھ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دشمن یہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ افغانستان،عراق اور شام کی مانند ہو جائے گا لیکن افغانستان کی اہم شخصیات نے یہ ثابت کردیا کہ افغان عوام ایک دوسرے کے شانہ بشانہ زندگی گزار سکتے ہیں۔دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ دہشت گرد گروہ داعش افغانستان کے لیے سنگین نہیں ہے اور اس گروہ کو جلد نابود کردیا جائے گا۔نیوز ایجنسی شفقنا کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد نے کابل، جلال آباد، ہرات اور مزار شریف میں پیش آنے والے ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات کو داعش کی کارروائی قرار دیا جس کا مقصد طالبان کی حکومت کو کمزور اور ناکام بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ داعش کو افغانستان کے عوام کے درمیان کوئی حمایت حاصل نہیں اور اس تکفیری گروہ کا جلد قلع قمع کردیا جائے گا۔طالبان کے ترجمان نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں ہماری فورسز نے دہشت گرد گروہ داعش کے خفیہ ٹھکانوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا ہ ے۔

You might also like