Baseerat Online News Portal

لکھیم پور کھیری کسان تشدد معاملہ 

 

 

دیناج پور (محمد زکریا ممتاز)

 

ریاست اترپردیش کے ضلع لکھیم پور کھیری کیس میں کسان تنظیموں کی جانب سے دی گئی مہلت ختم ہونے پر ملک گیر مظاہرے شروع ہو چکے ہیں،

جیسا کہ کہا گیا تھا کہ 12/تاریخ کو شہید ہونے والے کسانوں اور صحافیوں کے لیے ملک بھر میں کینڈل مارچ نکالا جائے گا، انہی ہدایات پرعمل کرتے ہوئے ضلع اتردیناجپور علاقہ گوال پوکھر کے ٹھکری باڑی چوک میں جئے کسان آندولن کے بینر تلے کینڈل مارچ نکالا گیا جس میں سمبولال رائے، بابل پانجی پارہ، رفیق صاحب لال کوری اور دیگر بہت سے افراد شامل تھے، جہاں شہید ہونے والے کسانوں اور صحافیوں کے تئیں افسوس کا اظہار کیا گیا، انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا،اورموجودہ حکومت کے خلاف مظاہرین نے نعرے لگائے اور وزیراعظم نریندرمودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کیاگیا اور لکھیم پور کھیری کسان تشدد معاملے پر فوراً ایکشن لینے کا مطالبہ کیا اور واقعے کی صحیح صورت حال سے روشناس کرانے کی بھی کوشش کی گئی،

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اترپردیش پولیس نے لکھیم پور کھیری میں تشدد کے واقعے کے سلسلے میں مرکزی وزیر کے بیٹے آشیش مشرا کو گرفتار کر لیا ہے، لکھیم پور کھیری کے تکونیاں میں گذشتہ 2 اکتوبر کو گاڑی سے کچلنے سے چار کسانوں کی موت واقع ہوگئی تھی جس کا کلیدی ملزم آشیش مشرا ہے۔

اخیر میں مظاہرین میں سے ہر ایک نے آئندہ ہونے والے18اکتوبر کو ٹرین روکو آندولن میں شریک ہونے کا یقین دلایا۔

You might also like