Baseerat Online News Portal

میڈیا سچائی وایماداری کے بغیر………

 

ــ ـــــ ـــــ ـــــ ـــــ ـــــ ـــــ

🖋️از: محمد عظیم فیض ابادی دارالعلوم النصرہ دیوبند 9358163428
★★★★★★★★★

سچائی دیانتداری ہی میڈیاکی اصل پہچان ہے یہی اس کی قوت اور ترقی کا اہم عنصر یہی ہے سچائی وامانت داری کے بغیر قومی ورثہ کی حفاظت محض ایک خواب ہے، صاف شفاف صحافت کا وجود میں آنا نہ ممکن ہی ہے ، اور نہ کوئی شخص اس کے بغیر سچا صحافی یا جرنلسٹ کہے جانے کے قابل ، اگر میڈیااورصحافت سےایمانداری ختم ہوجائے ، اپنے ضمیرکا سوداکرلے ، اپنے دل کی اواز نہ سن سکے ،کسی کمپنی کے زیر اثر ہوجائے ، مالداروں کے ٹکڑوں کا لالچی بن جائے، کسی جماعت یا پارٹی کا دباؤ قبول کرلے اس کا حمایتی بن جائے ، ملک و قوم کے مفاد کو بھول جائے یا عوامی مسائل سے منہ موڑ لے،غریبی بھکمری، مہنگائی بے روزگاری پر بولنے سے سمجھوتا کرلے، یا خوف و ڈر محسوس کرنے لگے، سچ بولنے سے اپنی نوکری چھن جانے کا خوف ستانے لگے ،آئین اور جمہوریت کو بالائے طاق رکھ دے ، مجرموں کو بچانے میں اپنی توانائی صرف کی جائے ، قومی مفاد کو فراموش کرکے سرکارکابھونپو بن کر رہ جائے تو وہ ملک و قوم کے لئے بربادی تباہی اور غلامی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں بھلے ہی میڈیا ہاوس کے اعلیٰ کمروں میں بیٹھ کر زور زور چیخیں مارنے سے وقتی طور پر لوگ جزباتی ہوجائیں اور عوام کو لگے کہ یہ ملک کے خیر خواہ ہیں ، یہی کچھ حال اس وقت ہماری میڈیا کا ہو رہا ہے ،حد تو یہ ہے کہ اب میڈیا ہاوس پر بھی کارپوریٹ گھرانوں کی گرفت مضبوط ہوتی جارہی ہے
بعض میڈیائی اہل کار کی زبان ہی پیار محبت کے بجائے آگ کے شعلے بھڑکاتی ہے ایک مخصوص طبقہ کا نشانہ بتاتے ہوئے سماج میں نفرت بھی اب میڈیا کے ذریعہ گھولا جارہاہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب، آپسی بھائی چارہ ، اور پیار محبت جو بھارت کی پہچان اور اس کی شناخت تھی وہ بھی اسی نفرت کی بھینٹ چڑھ گئی کورونا کال میں لاک ڈاون کے وقت تبلیغی جماعت کو جس طرح سے میڈیا نے کورونا بم اور نہ جانے کیا کیا کہا اس کی ادنیٰ سی مثال ہے
یہی وجہ ہے کہ پچھلے کچھ سالوں سے ہمارے ملک میں میڈیا کی حالت تشویشناک ہےمیڈیا کی ازادی کے معاملے میں PFI کی 2016 کی رپورٹ کے مطابق 180 ممالک میں ہندوستان 133مقام پر تھا جبکہ 2017 میں 136 واں مقام اور 2018 میں یہ اعداد وشمار بڑھ کر 138 اور2019 میں 140 مقام پر پہنچ گیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے جانے والے ملک کے لئے یہ انتہائی شرم کی بات ہے
صرف صحافتی یامیدیائی ڈگریاں لے کر ائیر کنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر نرم گدّوں والی کرسیوں پر الچھل کود کرکے زور زور چلال کر عیارانہ ومکارانہ طریقے پر جھوٹ ، فریب کے ذریعہ نفرت کی دیوار کھڑا کرنے والی ٹولی کا نام میڈیا کبھی نہیں ہوسکتا ـ
غیرجانب داری ، ایمانداری سنجیدگی ، اور سچائی کے ساتھ بلا تفریق مذہب وملت ، ملک و قوم کے ہر طبقے کو عزت واحترام کے ساتھ ملکی وقومی مفاد کو پیش نظر رکھ کر ذرائع ابلاغ کا صحیح استعمال ہی صحافت کی معراج ہے ، اور میڈیا اسی وقت جمہوریت کا چوتھا ستون کہے جانے کے قابل ہوسکتا ہے ، ورنہ تو وہ میڈیاکا لیبل لگا کرکارپوریٹ گھرانوں کا چمچہ یا سرکار کا بھونپو ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں

You might also like