Baseerat Online News Portal

کامیابی کے لیے محنت، تسلسل، اخلاص نیت اور تقویٰ ضروری ہے: حضرت امیر شریعت دارالعلوم الاسلامیہ کا تفصیلی معائنہ، تعلیمی محاضرہ، زمین کی خریداری، تعمیری ترقی پر خصوصی گفتگو

 

 

پٹنہ 13 اکتوبر 2021 پریس ریلیز

حضرت امیر شریعت ثامن مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشین خانقاہ رحمانی مونگیر نے آج دارالعلوم الاسلامیہ کا تفصیلی معائنہ کیا ۔اِس موقع پر حضرت امیر شریعت نے ادارہ کی تعمیری اور تعلیمی کاموں کا جائزہ لینے، ضروری زمین کی خریداری پر مشورہ کرنے کے بعد اساتذہ سے تعلیمی معیار کے سلسلہ میں خصوصی گفتگو فرمائی۔ دورانِ مذاکرہ اِس بات پر خصوصی توجہ دی گئی کہ ہم لوگوں کو چاہیے کہ ہم کامیابی کا ایک پیمانہ بنائیں اور اُس پیمانہ پر اپنے طلبہ کو پرکھیں۔ ہر ایک طالب علم جو ہمارے پاس آیا ہے، اُس کی کامیابی کی ذمہ داری ہماری ہے، یہ ہماری مسئولیت ہے کہ وہ طالب علم کامیاب ہوا یا نہیں۔

جن مہارات کو ہمیں بچوں میں پیدا کرنا ہے اُن مہارات کو ہمیں لکھنے کی ضرورت ہے، اور سال کے آخر میں ہر ایک بچے کو جانچنے کی ضرورت ہے کہ وہ اُن متعینہ مہارات تک پہنچا یا نہیں؟ اُس جانچ اور پرکھ کے بعد ہمیں معلوم ہوگا کہ کیا ہم نے واقعی تعلیم دیدی یا صرف ہم نے گمان کرلیا کہ ہم نےتعلیم دیدی ہے۔ اگر ہمیں اِس ادارہ کو معیاری ادارہ بنانا ہے تو آپ تمام اساتذہ سے میری گذارش ہے کہ آپ لوگوں کو یہ طے کرنا چاہیے کہ آپ کے اہداف کیا ہیں اور اس کو کتابوں سے باہر ہوکر دیکھیں، کیوں کہ کتاب تو فقط ایک آلہ ہے۔ کوشش ہو کہ ہر بچے کا سو فیصد نمبر آئے۔ تذکر، فہم، تطبیق، تحلیل اور اِس کے علاوہ تقییم اور ترکیب ان میں سے کم از کم تین سے چار مراحل سے بچوں کو گذارنا بہر صورت ضروری ہے۔ اور یہ ایک بار میں ہرگز نہیں ہوگا۔ اس کے لیے کئی مراحل پر محنت کرنا ہوگی۔

اس کے بعد طلبہ سے خطاب میں حضرت امیر شریعت مدظلہ نے فرمایا کہ الحمد للہ آپ کے اندر صفائی اور نظافت کا خاص نظم ہے، اسے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی میدان میں کامیابی کے لیے جو چیز آپ کو کامیاب بناتی ہے وہ ہے سمت اور مقصد کا تعین، آپ کو ہر صبح یہ طے کرنا ہوگا کہ آج شام تک کا ہدف کیا ہے؟ دن بھر کے اہداف کو مختصر انداز میں لکھ کر شروع کریں۔ اور ہدف متعین کرنے کے بعد اُس کو کرنے کا طریقہ متعین کریں، جو آپ کے لیے آسان اور تیز بہدف ہو اُس طریقے کو اپنے اندر ڈھونڈیں۔ تعلیم بڑی حد تک انفرادی عمل ہے لہٰذا ہر وقت اپنے آپ کو مستعد رکھنا ہے۔ مقصد کی تعیین اور طریقہ کار کو تلاشنے کے بعد جو کار آمد طریقہ نکل کر سامنے آئے اُس پر لگاتار محنت کریں۔ اسی طرح کسی بھی ہدف کو پانے کے لیے مواظبت یعنی لگاتار تسلسل کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔ ہندوستان میں عموماً بچوں کے اندر یہ پایا جاتا ہے کہ یا تو وہ تسلسل سے محنت نہیں کرتے یا پھر اپنا ہدف اور اپنی سمت کو متعین نہیں کرتے۔ جس دن سے آپ یہ کام شروع کریں گے اُس دن سے آپ کامیابی کی طرف چل پڑیں گے۔

اہداف کی تعیین، طریقہ کار اور مواظبت کے بعد جو چیز آپ کو مزید کامیاب بنائے گی وہ ہے مراجعہ یعنی جو سبق استاذ پڑھائیں اُسے یومیہ، ہفتہ وار اور ماہانہ مراجعہ کریں، کیوں کہ جس سبق کا یومیہ مراجعہ نہ کیا جائے 82 فیصد پڑھائی ہوئی باتیں ذہن سے محو ہوجاتی ہیں۔ اخیر میں آپ کو اس بات کی جانب توجہ دلانا چاہتا ہوں جس کے بغیر اسلام میں کسی کام کی اہمیت نہیں ہے اور وہ حسن نیت، آپ روزانہ اللہ کو راضی کرنے کی نیت کریں، اِس سے رفتہ رفتہ عمل میں صالحیت پیدا ہوگی۔ اس کے علاوہ تقویٰ کا خاص خیال رکھیں۔ اپنے ہر عمل میں اس بات کو مستحضر کریں کہ اللہ آپ کو دیکھ رہے ہیں۔ دعا کریں کہ اللہ ہماری نیتوں کو صاف کردے، قلب کو سلیم کردے اور ادارے کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ آمین

اس سے قبل نائب امیر شریعت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ ہماری محنت ایسی ہو کہ ادارہ کے بانیان امیر شریعت سادس حضرت مولانا سید نظام الدین قاسمی اور قاضی القضاۃ حضرت مولانا سید قاضی مجاہد الاسلام قاسمی علیہما الرحمہ کے جو خواب تھے، ہم اُس خواب کی تعبیر کا ذریعہ بنیں۔ اس کے لیے ہمیں اپنا ہدف متعین کرتے ہوئے جنون، لگن اور تڑپ کے ساتھ آگے اور خوب آگے بڑھنا ہوگا۔ حضرت امیر شریعت نے اساتذہ کی گذارش پر تعلیمی ترقی کے لیے ایک محاضرہ کی گذارش کو قبول کیا ہے، ان شاء اللہ جلد ہی حاضری کی تاریخ متعین ہوگی مزید باتیں اُس وقت آئیں گی۔

اس موقع سے مولانا سہیل احمد ندوی سکریٹری دارالعلوم الاسلامیہ نے اپنے استقبالیہ میں مختصراً ادارہ کی تاریخ کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امیر شریعت ثانی محی الملۃ مولانا محی الدین قادری اور نائب امیر شریعت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد بانی امارت شرعیہ کا دور قران السعدین کا دور کہلاتا ہے، امید ہے کہ موجودہ حضرت امیر شریعت ثامن اور نائب امیر شریعت کا دور بھی ان شائ اللہ امارت کے لیے قران السعدین کا دور ہوگا۔ اور امارت اپنے تاریخ کی عظیم ترین بلندیوں پر پہنچے گی۔

اس موقعہ پر قائم مقام ناظم مولانا شبلی القاسمی نے حضرت امیر شریعت مدظلہ کی دارالعلوم تشریف آوری اور اُن کے بصیرت افروز خطاب اور مفید نصائح پر اظہار تشکر کیا۔اُن کی گذارش پر حضرت امیر شریعت نے مجلس کے اختتام میں تمام طلبہ واساتذہ سے بیعت امارت لیا۔

You might also like